ارشاد اللہ شاد

رموز شادؔ ۔۔ ’’ ایف ایم ریڈیو97چترال ‘‘

۔۔تحریر۔ارشاد اللہ شادؔ ۔بکرآباد چترال


…………..’’ایف ایم ریڈیو 97چترال ‘‘

کہتے ہیں کہ ریڈیو سروس ایک تربیت گاہ ہے۔ یقیناََ آج ہمیں لگ رہا ہے کہ ریڈیو نشریات اور ریڈیو پروگرام اور پھر آوازوں کے سائے لفظوں کو بے ہنری کی دھوپ سے آج ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ ریڈیو اپنے لوگوں کو با خبر رکھتاہے۔ نیوز کا شعبہ جس قدر اہم ہے ، اسی قدر اس کی ترسیل بھی اہم ہے ۔ دنیاکے کئی فنون ایسے ہیں جن کی پوشیدگی گمراہ کرتی ہے مگر ریڈیو کا مائیکروفون آئینہ کی طرح ہوتا ہے، جو بولتا ہے اس کی قدر کرتا ہے۔ ریڈیو سروس ایف ایم97چترال ایک با وقار ادارہ ہے۔ جس نے ہمیشہ سامعین کی امنگوں ، آرزؤں، اور خواہشوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے پسند کے مطابق پروگرام ترتیب دئے ، ان کے تہذیب و ترتیب کے قومی مقصد کو رو برو رکھتے ہوئے ، ہر طبقہ ہائے فکر کے نمائندے ، افراد، شخصیات کو تلاش کیا، اور ان کے فکر سے بھر پور طریقے سے استفادہ کیا۔
Fmریڈیو ایک بہت مفید ایجاد ہے۔شہروں میں ٹیلی وژن ایجاد ہونے سے پہلے اس کی بہت قدر و قیمت سمجھی جاتی تھی، لیکن ایسے علاقوں میں جہاں ٹیلی وژن نہیں پہنچے ریڈیو سروس اب بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ شہروں کے علاوہ ایسے دیہات جہاں پر بجلی تک نہیں پہنچی اور ٹیلی وژن نہیں چل سکتا ، ریڈیو سروس سے ہی معلومات حاصل کرتے ہیں ۔ گانے سنتے ہیں، معلومات فراہم ہوتے ہیں، اسے اپنی تفریح کا سامان سمجھتے ہیں ۔ دیہات میں تو اس کا اس قدر رواج ہیں کہ کسان ہل بھی چلا رہا ہے اور ہل کے ساتھ ریڈیو بھی باندھ رکھا ہے۔ اسی طرح شہروں میں بھی اس کا استعمال بہت زیادہ ہے ۔ او ر آج دنیا کے ہر گوشے میں ایف ایم ریڈیو چلتا ہے۔دور دراز ملکوں کے درمیان پیغام رسائی کامیابی سے ہو رہی ہے ۔ ہر ملک کے پروگرام نشر ہو رہے ہیں ، یہاں بیٹھے لوگ پوری دنیا کے اندر رونما ہونے والی واقعات سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔ ابتدائی مراحل میں تو اس کا دائرہ کار بہت محدود تھا ۔ لیکن جوں جوں تجربات اور مشاہدا ت ہوئے اس کی نتائج حوصلہ افزاء ہوتے گئے اور وہ دور تک بھی پیغامات پہنچانے میں کامیاب ہوگیا۔ لوگ سوچتے ہوں گے کہ کس طرح اسٹوڈیو سے نکلنے والی آواز دور دراز علاقوں تک پہنچتا ہے ۔ یہ ریڈیائی لہروں کی مدد سے ایک جگہ سے دوسری جگہ با آسانی آواز پہنچتا ہے۔ ریڈیائی لہروں کا اصول یہ ہے کہ پہلے اسٹوڈیو میں بولے جانے والی آواز کو مائیکروفون کے ذریعے برقی ارتعاشات میں تبدیل کرکے ٹرانسمیٹرتک پہنچا دیا جاتاہے ۔ پھر وہاں سے چند دوسری برقی مشینوں میں گزار کر ایک خاص فریکونسی کی لہروں میں تبدیل کیا جاتاہے، جو اونچے کھمبے کی مدد سے فضا میں چھوڑ دی جاتی ہے ۔ جب یہ لہریں ریڈیو سیٹ کے ایریل سے ٹکراتی ہے تو ریڈیو چند آلات کی مدد سے انہیں برقی ارتعاشات سے اُسی آواز میں بدل دیتاہے جو کہ اسٹوڈیو سے سنانی مقصود ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں ایف ایم 97چترال بھی ایک زبردست پلیٹ فارم ہے جو ہر طبقہ کے لوگوں کیلئے ایک بہترین معلومات فراہم کرنے کا ادارہ ہے۔ چترا ل کے وہ پسماندہ علاقے جہاں اب تک ٹی وی چینلز ، موبائل سروسز کام نہیں کرتے لیکن وہاں بھی ایف ایم 97ریڈیو سروس اپنی خدمات خوش اسلوبی سے سر انجام دینے میں پیش پیش ہے۔ چترالی عوام کیلئے یہ خوش آئند بات ہے۔ ایف ایم 97چترال اسٹوڈیو میں 12بجے سے لیکر 10بجے تک مختلف قسم کے پروگرامات نشر ہوتے ہیں ۔ جس میں اسلامی پروگرامز، انٹر نیٹ معلومات ، کمپیٹیشن، کوئز مقابلہ، اشتہارات، بریکنگ نیوز، عالمی معلومات، دینی مسائل وغیرہ احسن انداز میں پیش ہوتے ہیں ۔ جس سے ہر طبقہ کے لوگ استفادہ اٹھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایف ایم 97ریڈیو چترال وہ پلیٹ فارم ہے جس میں چترال کی ثقافت و تہذیب، زبان و تاریخ اور مختلف روایات کو بہت اچھے اور فصیح انداز سے لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں۔جس سے چترالی عوام اپنے سابقہ روایات و تاریخ کو تجدید کریں گے۔ ایف ایم ریڈیو 97چترال وہ پلیٹ فارم ہے جس سے چترال کی تہذیب و ثقافت اور زبان کو فروغ دینے کی ہمہ جہت کوشش کی جاتی ہے۔ اور مزید برآں ان چیزوں کو ترقی دینے کیلئے چترال کے معروف بزرگ اشخاص، مذہبی، علمی، سیاسی حضرات کو وقتاََ فوقتاََ مدعو کیا جاتاہے ، اور وہ حضرات چترا ل کے سابقہ روایات و ثقافت سے سامعین کو آگاہ کرتے ہیں۔ بیک وقت چترال کے ایک لاکھ اسی ہزار کم و بیش آبادی ایف ایم 97چترال کو بڑی شوق سے سنتے ہیں ۔ اور ہر پہلوؤں سے آشنا ہوتے ہیں۔
تاریخ میں اپنا کارنامہ رقم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ وسائل کے بغیر محض یقین پیہم اور جہد مسلسل کو بروئے کار لا کر کچھ کر دکھایا جائے۔ میں اسٹیشن ڈائرکٹر جناب ادریس حیا ت خان صاحب کو کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتاہوں کہ ایف ایم 97ریڈیو سروس چترال کے پلیٹ فارم کو مختلف نشریات و پروگرام سے مشتمل ترتیب دے کر بڑی دلچسپ اور جمیل انداز سے پیش کرتے ہیں ۔ امید قوی ہے کہ خادمان زبان و ادب اس کی خدمت کو سراہیں گے ۔ اور آئندہ بھی امید رکھتے ہیں کہ ادریس حیات خان صاحب اپنی خدمات انجام دینے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
راقم الحروف مصروفیات کی وجہ سے ایف ایم 97چترال کو کثیر اوقات میں سننے سے قاصر ہے تا ہم اس قول میں شک نہیں ہے کہ ایف ایم 97کے پروگرام ’’ بزم چترال ‘‘ کو بڑی شوق سے سنتا ہوں ۔ اور یہ میرا پسندیدہ پروگراموں میں سر فہرست ہے۔ اس پروگرام کا آر جے وقار احمد صاحب ہے۔ اس پروگرام کو کثرت سے سننے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آرجے وقار احمد صاحب کی زبان میں وہ مٹھاس رکھی ہے جو حسن ادب کی مٹھاس میں گوندھی ہوئی ہے۔ کیونکہ آرجے وقار احمد کی گفتگو مربوط ہوتی ہے ، بولتے ایسے گویا موتی رولتے ، ان کے ایک ایک لفظ احتیاط کے ترازو میں تولا ہوا ہوتا ہے ۔ زبان و بیان میں کوثر تسنیم کی آمیزش کا سماں معلوم ہوتا ہے۔ آپ زبان و بیان سے خفتہ دلوں کو جگاتے ہیں اور ماؤف ذہنوں کو راحت پہنچاتی ہے۔ آپ کامقصود چترالی تہذیب و ثقافت اور زبان کی واضح نشانیوں کو جوت جگانا ہے۔ دور جدید کے تقاضوں کے مطابق دینی و دنیوی، معاشی، سماجی، اور ادبی نظریات شرح و بسط کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ لفظوں کو ادا کرنے کا ایک منفرد مقام رکھتاہے۔ ہر لفظ قالَ کے بجائے حالَ بنتے ہیں۔ہر بول سامعین کی فریاد دلنشین بنتے ہیں۔ ہر سطر جذبات شوق کی صدائے وصل بنتے ہیں۔ ہر جملہ گویا دامن سامعین کو تھام کر صدا لگا رہے ہیں۔ الفاظ کو اس طرح گہرائی اور گیرائی اور آسان فہم میں پیش کرنا آج تک آرجے وقار کے علاوہ کوئی بھی میری نگاہوں سے نہیں گزرا۔ ان کے ہر ایک ایک لفظ سے حکمت و معرفت کے سوتے پھوٹ رہے ہیں۔ ایک ایک لفظ خلوص میں ڈوباہوا ہے۔ ایک ایک سطر حسن خلق، حسن ادب میں گوندھی ہوئی ہے۔ جابجا کھوار، فارسی، اردو مفاہیم و مطالب سے اخذ ہے۔ فصاحت و بلاغت کے ہر جانمونے موجود ہیں۔ اور صاحب ذوق سامعین الفاظ و معانی سے پوری طرح سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اور سامعین حضرات اپنے چمنستان دل کو آر جے وقار احمد کے بہترین انداز سے سرسبز و شاداب کرتے ہیں ۔ آپ کی ہر ایک بات سامع کی گہرائیوں میں اترتی جاتی ہے۔ اور بے شمار ایسے پروگرام ترتیب دیتے ہیں کہ سامعین کو محویت کے عالم میں لے جاتے ہیں۔ اور انگلی تھام کر منزل مقصود کی طرف گامزن کر دیتے ہیں۔
ماضی ہو یا مستقبل، مذہب ہو یا فلسفہ ، تصوف ہو یا سائنس، ادب ہو یا ثقافت ہر موضوع پر مدلل و مفصل اور زبردست گفتگو کرنے کی مہارت رکھنے والی آرجے وقا را حمد صاحب ایک نہایت مخلص اور سریع الاثر انسان ہے۔ ان کا گفتگو طالب علموں کیلئے سبق آموز لطف مسلسل ہے ۔ اس کے الفاظ دلکش ہونے کے باوجود اپنے اندر کمال گہرائی لئے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک ایک لفظ لطف کا بے کراں دریا ہے۔
راقم الحروف انہی وجوہات کی بناء پر ’’بزم چترال ‘‘ پروگرام سننے کا اشتیاق رکھتاہے۔
میں ایف ایم ریڈیو 97چترال کے تمام منتظمین اور ڈائرکٹر کو درخواست کرتا ہوں کہ 4سے 6بجے تک پروگرام ’ ’بزم چترال ‘‘ کو مرد وزن، طفل و شیخ کثیر تعداد میں شوق سے سنتے ہیں۔ ’’بزم چترال‘‘ جو طالب علموں کیلئے ایک سبق آموز پروگرام ہونے کے ساتھ ساتھ دل چسپ بھی ضرور ہے۔
آنجناب کی خدمت اقدس میں گزارش ہے کہ کوشش کرکے ’’بزم چترال ‘‘ کیلئے وقت کی تعین اور زیادتی پر خاص توجہ دی جائے۔’’بزم چترال‘‘ چترالی عوام کیلئے زبردست پروگرام ہے۔ اس کیلئے آپ حضرات ٹائم مینیج کرکے 3سے 4گھنٹہ کا دورانیہ رکھ دیں۔ سامعین کی شوق و اشتیاق کا لحاظ رکھا جائے۔ سامعین کی آراء کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹائم مینیج کرکے سامعین کو شکریہ کا موقع دیں۔۔والسلام۔۔!!

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق