تازہ ترین

ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑائچ نے(اے وی ڈی پی ) کی طرف سے کالاش قبیلے کے زبان و ثقافت کے تحفظ کیلئے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس)ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑائچ نے ایون اینڈ ویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام ( اے وی ڈی پی ) کی طرف سے ہندو کُش کے قدیم ترین باسی کالاش قبیلے کے زبان و ثقافت کے تحفظ کیلئے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا ہے ۔ گذشتہ روز اے وی ڈی پی کے بورڈ ممبر محکم الدین اور ایس او جاوید احمد نے ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑائچ ا ور آر پی ایم اے کے آر ایس پی سردار ایوب سے ملاقات کی اوریو ایس ایڈ کے مالی تعاون سے اے وی ڈی پی کی زیر نگرانی کالاش زبان کی معدومیت کے خطرے سے دوچار لوک کہانیوں ، روایات ،لوک گیتوں اور ضرب المثل پر مشتمل تین کتابیں اور ڈاکومنٹری سی ڈی اُن کی خدمت میں پیش کی ۔ اور اُنہیں ادارے کی کارکردگی سے آگاہ کیا ۔ ڈپٹی کمشنر اُسامہ احمد وڑائچ نے اس کو کالاش قبیلے کیلئے ایک نہایت اہم خدمت قرار دیا ۔ اس موقع پر ڈی پی او چترال سید اکبر علی اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر چترال مظہر علی شاہ بھی موجود تھے ۔ ممبربورڈ اے وی ڈی پی محکم الدین نے اس موقع پر پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ۔ کہ اس پراجیکٹ کو کالاش کمیونٹی کے انٹلیکچولز پر مشتمل’’کالاش لینگویج اینڈ کلچر کمیٹی ‘‘نے گیارہ مہینوں کے عرصے میں مکمل کیا ۔ اور تینوں کالاش وادیوں میں معدومیت سے دوچار مذہبی رسومات سے متعلق سینہ بسینہ منتقل شدہ کہانیوں ،لوک گیتوں ، ضرب المثل اور دیگر مواد کو نہ صرف صوتی شکل میں محفوظ کیا گیا ، بلکہ اُن کو کتابی صورت دی گئی ہے ۔ اور یہ اپنی نوعیت کی وہ پہلی کتابیں ہیں ۔ جو کالاش قبیلے کی اپنی زبان کلاشہ موندہ (کالاشوار) میں لکھے گئے ہیں ۔ اور کالاش قبیلے کے لوگ عرصے سے اس خدشے کا اظہار کر رہے تھے ۔ کہ اُن کے مذہبی گیت انتہائی طور پر معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں ۔ جبکہ ان کتابوں کی تکمیل سے یہ قبیلہ اپنی زبان و ثقافت کو خود اپنی تحریر میں محفوظ کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔ اسی طرح ڈاکومنٹری میں بھی ثقافت کو زندہ محفوظ کر لیا گیا ہے ۔ محکم الدین نے ڈپٹی کمشنر چترال کی طرف سے چترال کی تعمیر و ترقی کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی تعریف کی ۔ اور ہر شعبے میں عوام کو درپیش مسائل سے نجات دلانے کیلئے اُن کی کوششوں کو سراہا ۔ انہوں نے ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں واش رومز کی حالت بہتر بنانے ، چترال کے نوجوان سٹوڈنٹس کی رہنمائی اور بہتر مستقبل کیلئے کوچنگ سنٹر کا قیام اور لینیک کے مقام پر پارک کی تعمیر کو اہم کارنامہ قرار دیا ۔ اور کہا ۔ کہ چترال جیسے پسماندہ ضلع کیلئے ایسے فعال فرض شناس اور عوام کی خدمت کے جذبے سے سرشار ڈپٹی کمشنر کو طویل عرصے تک چترال میں خدمت کا موقع دینا انتہائی ضروری ہے ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق