مضامین

صدا بصحرا……وفاق المدارس کی سند

…………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ………….

حکومت علمائے کرام کی قدر کرنے کا دعویٰ کرتی ہے علماء کو اعلیٰ مقام دیتی ہے مگر ابتدائی و ثانوی تعلیم کا محکمہ علماء ئے کرام کی سند کو تسلیم نہیں کرتی ۔ جبکہ پبلک سروس کمیشن اور اعلیٰ تعلیم کا محکمہ اس سند کو تسلیم کر تی ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور اعلیٰ تعلیم کا محکمہ اس سند کو تسلیم کرتی ہے ۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن اس سند کو تسلیم کرتی ہے یہ عجیب معمہ اور مخمصہ ہے۔ اس کا کوئی سر پیر نہیں ملتا۔کہ ہمارے دینی مدرسوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے ان کی سند کو تسلیم کیا جا نا چا ہیئے یا نہیں ؟ دینی مدارس سے پانچ قسم کے سندات جا ری کئے جا تے ہیں حفظ کی سند دی جا تی ہے۔ حفظ کیساتھ قرء ت و تجوید کی سند جا ری ہو تی ہے۔ درجہ ثانیہ کی سند جا ری ہو تی ہے۔ درجہ عُلیا کی سند دی جا تی ہے۔ اور شہادۃ العالمیہ کی سند دی جا تی ہے ۔ جھگڑا شہادت العالمیہ کی سند کا ہے۔ رالبطۃ المدارس، تنظیم المدارس اور وفاق المدارس کی طرف سے شہادۃ العالمیہ کی سند 16 سال کی تعلیم کے بعد دی جا تی ہے۔ جنرل ضیا الحق کے زمانے میں جو قانون سازی ہوئی اس کے تحت شہادۃ العالمیہ کے ساتھ بی اے کی انگریزی پاس کی جا ئے تو اس کو ایم اے کا درجہ دیا جاتا ہے انگریزی پاس نہ ہو تو اسکا درجہ بی اے کے برابر ہو تا ہے2002 ؁ء میں اراکین پارلیمنٹ کے لئے گریجویشن کی لازمی شرط رکھی گئی تو شہادۃ العالمیہ کو بی اے کے برابر درجہ دیا گیا اس بنا پر کئی لطیفے مشہور ہو ئے۔ جو میٹرک پاس بھی نہیں تھے قرآن ناظرہ بھی جنہوں نے نہیں پڑھا تھا وہ شہادۃ العالمیہ کی سند لیکر ریٹنرنک افیسر کے دفتر میں داخل ہو ئے مخالف امیدواروں الیکشن پیٹیشن کے ذریعے بعض کی سندات کو چیلنج کیا بعض کی سندات پر سوال نہیں اُٹھا ئے گئے مک مکا ہوا تو انہوں نے داڑھی رکھ کر چار خانہ رومال سر پر با ندھ لیا اور با ضابطہ طور پر گریجویڈ اسمبلی کے ممبر بن گئے۔ اس نازک صورت حال پر قابو پانے کے لئے علما ء کرام نے مدارس کی سندات پر حدود قیود اور پابندیاں لگائیں 16 سالہ تعلیم کے بغیر شہادۃ العالمیہ کی سند جا ری کرنے کا سلسلہ ختم کیا گیا جعالی سندات کا قلعہ قمہ ہوا سرائے نو رنگ اور دیگر مقامات پر چھاپے مار کر 2 نمبر سندات کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا گیا اور یہ کام پورے ملک میں سراہا گیا اس دوران عدالتوں میں جو مقدمات لا ئے گئے ان مقدمات میں سراہت کے ساتھ ایسے فیصلے لکھے گئے جن میں شہادۃ العالمیہ کو انگریزی مضمون میں بی اے کے ساتھ ایم اے کا درجہ دے دیا گیا۔ ہائیر ایجو کیشن کمیشن کا حکمنامہ عدالتوں میں پیش کیا گیا اس بنا پر 2015 تک شہادۃ العالمیہ کو ایم اے کے برابر تسلیم کیا جا تا تھا لیکچر ر اسلامیات گریڈ 17 کے لئے اب بھی تسلیم کیا جا تا ہے تا ہم گریڈ 16 اور گریڈ 16 سے کم پوسٹوں کے لئے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اس سند کو ایم اے کے برابر درجہ دیکر میرٹ لسٹ میں جگہ نہیں دیتا۔ ویسے خدا لگتی کہیے تو محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا با وا آدام نر الا ہے۔ پورے پاکستا ن میں ایم اے ایجوکیشن کی ڈگری کو بی ایڈ کے برابر درجہ جا تا ہے۔ خیبر پختونخوا میں اس ڈگری پر اب بھی جھگڑا چل رہا ہے 2008 سے 2015 تک محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا میں جھگڑا چل رہا تھا کہ بی ایس سی آنرز کو ایم اے کے برابر درجہ دیا جا ئے یا نہیں؟آخر خدا خدا کرکے بابو صاحبان نے مان لیا کہ بی ایس سی آنرز کے بارے میں ہائر ایجو کیشن کمیشن کا مرا سلہ واضح ہے اس کے بعد ایم ایس سی یا ایم اے نہیں ہو تا۔بلکہ ایم ایس یا ایم فل ہو گیا ہے۔ اس لئے بی ایس یا بی اے آنرز کو ایم اے کے برابر درجہ دیا جا ئے۔ اب شہادۃ العالمیہ کو متبازعہ بنایا گیا ہے۔ 2013 میں ملازمین کی بھرتی کا کام پنجاب کے ایک بڑے سیاستدان کی کمپنی این ٹی ایس کو ٹھیکے پر دیدی گیا یہ کمپنی ٹیسٹ لینے سے پہلے تعلیمی اسناد نہیں دیکھتی فیس جمع کراتی ہے ٹیسٹ لے لیتی ہے اور متعلقہ محکمہ قدیم دستور کے مطابق سندات کو دیکھ میرٹ لسٹ بناتی ہے این ٹی ایس میں ہزار اُمیدوار پاس ہوتے ہیں تو اسناد کو چیک کر نے کے بعد 200 اُمیدوار میدان میں ر ہ جاتے ہیں این ٹی ایس میں 83 فیصد نمبر لینے والا نمبر ون اُمیدوار اسناد کو چیک کر تے وقت ناکامی سے دوچار ہوجاتا ہے کیونکہ این ٹی ایس کا کام پیسہ بٹور نا ہے مال بنا نا ہے میرٹ لسٹ بنا نا اور میرٹ پر بھرتی کر وانا نہیں یہ کام ہر محکمہ اپنے پرانے قانون کے مطابق کرتا ہے چنانچہ ایک اُمیدوار این ٹی ایس میں 75 فیصد نمبر لیکر پاس ہوتا ہے جب اپنے اسناد محکمہ ابتدائی وثانوی تعلیم کے حکام کو پیش کرتا ہے تو 1964 کے طریقہ کار کے مطابق میرٹ لسٹ بنائی جاتی ہے اس میرٹ لسٹ کی تیاری میں ’’ بابوصاحبان ‘‘شہادۃ العا لمیہ کو نہیں مانتے سپر یم کورٹ کا حکم ، ہائی کورٹ کے فیصلے ، ہائیر ایجو کیشن کمیشن کے مراسلے سب کاغذات ’’بابو‘‘ کے سامنے دم توڑ دیتے ہیں ایک مولوی نے الزام لگا یا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ذاتی عناد اور جمعیت العلمائے اسلام کے ساتھ سیاسی دشمنی کی وجہ سے صوبائی حکومت نے 2015 میں شہادۃ العالمیہ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا چونکہ سب سے زیادہ نوکریاں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں دستیاب ہوتی ہیں اس محکمے کے اندر علمائے کرام نے اپنی محنت ، قابلیت اور سینارٹی کی بنیاد پر گریڈ 16- اور گریڈ17- لینا شروع کیا اس لئے حکومت نے شہادۃ العالمیہ کو ایک افسوسناک المیے سے دوچار کیا اب محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا موقف ہے کہ شہادۃ العالمیہ کو کبھی اور کسی بھی صورت میں تسلیم نہ کیا جائے بے شک ہائیر ایجو کیشن کمیشن اس کو تسلیم کرے ،بے شک عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ اس سند کو ایم اے کے برابر جگہ دے ، محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا بابو اس کوتسلیم نہیں کر یگا اگر حکومت سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر علماء کی قدر کر نے کا دعویٰ کرتی ہے اگرحکومت دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانا چاہتی ہے اگر حکومت نظام تعلیم میں علمائے دین کی اہمیت اور اسلامی علوم کی افادیت کو مانتی ہے تو محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں دینی سندات کو پر کھنے کا دہرا معیار ختم ہونا چاہیے شہادۃ العالمیہ کی دینی سند کو 1915 سے پہلے کی طرح ایم اے کا درجہ دیکر میرٹ لسٹ میں پورے نمبر دینے چاہئیں علمائے کرام عدالتوں سے رجوع کیا تو اپنا حق لے لینگے مگر اُس صورت میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ’’ بابووں ‘‘ کی کیا ساکھ رہ جائیگی ؟

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock