
انصاف چاہیے
………………. اقراالدین خسرو……….
چترال کی دورافتادگی ہمیشہ سے اہالیان چترال کی بدقسمتی رہی ہے, یہاں کے بیشمار مسائل یہاں کے جغرافیہ اور مشکل قدرتی حالات کیوجہ سے بھی جنم لیتی ہیں, تو دوسری طرف ارباب اختیار کی عدم توجہی سے وہ مسائل بڑھتے ہی جاتے ہیں, زرائع آمدورفت سے لیکر تعلیم, اور صحت جیسے بنیادی مسائل ایسے ہیں جو مشکل قدرتی حالات کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کی بے توجہی سے علاقے کی پسماندگی کے سبب بنے ہوے ہیں, صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل کیلیے سہولیات ضلعے کے اندر میسر نہیں, اور ضلعے سے باہر جانا ہر ایک کی بس کی بات نہیں, صحت کے شعبے میں ڈاکٹروں کی کمی ہے, دوسرے اضلاع کے ڈاکٹرز یہاں آنے کیلیے تیار نہیں جبکہ چترال کے اپنے سپیشلسٹ ڈاکٹرز بھی پشاور کو ترجیح دیتے ہیں, حکومت کی طرف سے کوئی ایسا لائحہ عمل نہیں جس کے تحت انھیں مجبور کیا جاسکے, اور تعلیم کے میدان میں بھی یہی صورتحال ہے, کالجوں اور یونیورسٹی کیمپس میں چترالی اساتذہ پورے نہیں, باہر سے اساتذہ ییاں آنے کیلیے تیار نہیں,اسی وجہ سے طلباء کے مسائل روز بڑھتے جارہے ہیں. اسی طرح کا ہی ایک مسئلہ شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شیریانگڑ کے بونی کیمپس کا ہے, چترال سے سب سے بڑی نانصافی اول تو یہ ہے کہ دیر جیسے علاقے کو یونیورسٹی سے نواز کے چترال میں ایک کیمپس کھولنا, کیونکہ چترال سے سالانہ گریجویشن کرنے والے طلباء کی تعداد دیر کے دونوں اضلاع کی تعداد سے زیادہ ہے, اس کے باوجود انھیں یونیورسٹی سے نواز کے چترال کو ایک کیمپس دینا ہی نا انصافی ہے,, اس کے علاوہ وہاں سے جو اساتذہ بونی کیمپس میں آئے تھے, پچھلے سال اطلاعات کے مطابق انہوں نے بونی کیمپس ختم کرکے چترال لانے کی کوشش کی طلباء سراپا احتجاج بنے, رات کے وقت اساتذہ نے وہاں سے سامان چترال منتقل کرنے کی کوشش کی تو طلباء نے بروقت احتجاج کرکے انھیں روک لیا,, پھر اس معاملے نے طول پکڑ لی تو طلباء نے دارالقضاء سوات سے رجوع کیا اور سٹے آرڈر کے ذریعے انھیں ایسا کرنے سے روک لیا,, اس معاملے میں پیش پیش زوالی ڈیپارٹمنٹ کے طلباء تھے لہذاء ان اساتذہ نے اس ڈیپارٹمنٹ کے طلباء سے امتیازی سلوک کرتے ہوے انھیں پچھلے سمسٹر کے امتحان میں ساروں کو فیل کردیا, (یاد رہے ان امتحانات کا دائرہ اختیار اساتذہ کے پاس ہوتا ہے )
یہ بات ان طلباء سے مخفی رکھتے ہوے جب موسم سرما کی چھٹیاں ختم ہوگئی تب انھیں پتہ چلا, کہ ان کا رجسٹریشن ہی منسوخ ہوچکا ہے, اور انکی ساری محنت کے اوپر صرف ایک یا دو نمبروں کے فرق کیوجہ سے پانی پھیر چکا ہے, جسکی وجہ سے طلباء بہت زیادہ پریشان ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ وی سی صاحب گونر خیبر پختونخوا سمیت تمام ذمہ دار افراد سے اپیل کی ہیں کہ انھیں انصاف فراہم کریں, ہمیں امید ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ طلباء کو انصاف فراہم کرکے طلباء کے مستقبل کو بربادی سے بچانے میں کردار ادا کریگی, صرف ایک دو نمبروں کی بات ہے اسے انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے, یہ مسئلہ چند طلباء کا نہیں بلکہ کئی خاندانوں کے مستقبل اس سے وابستہ ہیں لہذا یونیورسٹی انتظامیہ کو تحمل سے کام لیتے ہوے طلباء کے مستقبل کو تباہی سے بچانے کی ضرورت ہے,,,
