کاوشات اقبال

ہار کو ماننا جیت کی نوید ہے۔۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔محمد اقبال شاکر

اپنی ہار ہار کو ماننا اس عزم کا اظہار ہے کہ انسان پھر سے محنت کرکے اپنی کھوٸی ہوٸی بازی کو جیتا چاہتا ہے ۔۔۔ہارنے کے بعد ہار کو مان لینا دوبارہ جیت کی طرف سفر کرنے کا پہلا قدم ہے۔۔زندگی کا سفر کھبی ہمواری کے ساتھ طۓ نہیں ہوتا زندگی میں اتار چڑھاو آنا لازمی ہے مختلف اسباب سے کھبی ایسا ہوتا ہے کہ انسان نقصان اٹھاتا ہے اور ہار جاتا ہے مگر زندگی میں ہر نقصان یا ہار کی حیثیت وقتی واقعہ کی ہے ایسے واقعہ سے بددل نہیں ہونا چاہٸےکوشش جاری رکھنے سے کامیابی کی کنجی مل سکتی ہے۔
اگر ہارنے کے بعد اپنی ہار کو نہ مانیں تو ہار کے بعد جہاں کھڑے ہیں بدستور وہیں کھڑے رہیں گے اور نٸے سفر کا آعاز نہیں کریں گے جب ہارنے کے بعد اپنی ہار مان لیں تو سفر دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔
ہار کو مان لینا اس بات کا اعتراف ہے کہ مقابلے میں پیچھے رہ گیا ہوں اس کے برعکس ہار کو نہ ماننا گویا یہ کہنا ہے کہ مقابلے دوڑ میں اگے ہوں اب جو شخص واقعہ کے اعتبار سے پیچھے ہو وہ فرضی طور پر اپنے آپ کو اگے سمجھے تو وہ جھو ٹے بھرم میں مبتلا رہے گا اور جو لوگ جھوٹے بھرم میں مبتلا ہوں وہ اسباب کی اس بستی میں کھبی کامیاب نہیں ہوتے۔
نقصان صرف نقصان نہیں ہانا تو صرف ہارنا نہیں اس میں فائدہ کا پہلو بھی ہے جب یہ واقعات پیش اتے ہیں تو اس سے آدمی کو بہت تجربے حاصل ہوتے ہیں اس کی صلاحیتیں ازسر نو جاگ اٹھتی ہیں اس طرح نٸی چیز کو پانا کھوئی ہویی چیز کی تلافی بن جاتا ہے ۔
اس دنیا میں کھبی ہار ہوتی ہے اور کھبی جیت بلند انسان وہ ہےجو ہار جیت سے اوپر اٹھ کر سوچے جو ہار جیت سے اثر لیۓ بیغیر اپنی راۓ قائم کرے جو لوگ اس اعلی صلاحیت کا ثبوت دیں وہی دنیا میں اپنی مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں جونہ دیں وہ زندگی کی طوفان میں گھر کر رہ جاتے ہیں اور اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔
انسان کو چاہٸے کہ وہ ہمیشہ اگے کی طرف دیکھے وہ آج کی بجاۓ کل پر اپنی نظریں جماۓ رہے جو شخص ایسا کرے گا اس کیلے وقتی ناخوش گواریوں کو برداشت کرنا آسان ہو جاۓ گا انے والے جیت کی خاطر وہ آج کی ہار کو بھول جاۓ گا ۔شام اس کے لٸے شام نہ ہوگی بلکہ وہ سادہ طور پر صبح کا انتظار بن جاۓ گی۔
اس دنیا میں کھبی ہار ہوتی ہے اور کھبی جیت بلند انسان وہ ہے جو ہار جیت سے اوپر اٹھ کر سوچے جو ہار جیت سے اثر لٸے بیغیر اپنی راۓ قاٸم کرے جو لوگ اس افضل صلاحیت کا ثبوت دیں وہی اس دنیا میں اپنے مقصد تک پہنچتے ہیں جو نہیں وہ زندگی کے طوفان میں گھر کر رہ جاتے ہیں اور کامیابی کی منزل سے کوسوں دور رہتے ہیں۔
عارضی شکست کا پیش آنا لازمی طور پر کسی کی کوتاہی نہیں وہ فطرت کے عمومی قانوں کی بنا پر ہے۔یہ دنیا اس ڈھنگ پر بناٸی گئی ہے کہ یہاں فتح کے بعد شکست بھی پیش آئے یہاں کامیابی کے ساتھ ناکامی کا تجربہ بھی ہو گویا کہ جو ہوا وہی ہونا بھی چاہٸے تھا ایسی حالت میں دل چھوٹا کرنا بزدلوں کی علامت ہے اور دل شکستہ ہونے کی کیا ضرورت ۔۔
جو شخص ہار کو مان لے اس نے گویا ہار میں بھی جیت کا راز دریافت کر لیا کیونکہ وہ باہر کی دنیا میں وقتی طور پر رہا مگر وہ اپنی اندر کی ابدی دنیا میں بدستور فاتح رہا اس نے اپنی عملی شکست کو اپنی ذہنی شکست بننے نہیں دیا ۔جو انسان ہار نہ مانے اس نے گویا اس معاملے کو اپنے لیے وقار کا مسٸلہ بنا لیا اور جو ادمی اس طرح کسی معاملے کو وقار کا مسٸلہ بنا لے وہ غلطی پر غلطی کرتا چلا جاٸے گا تو اس کے لٸے دوبارہ جیتنے کا کوٸی امکان نہیں۔۔تو ہار کو ماننا جیت کی نوید ہے۔۔۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO