شُہرَت ۔۔۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔محمد اقبال شاکر
شہرت کون نہیں چاہتا ۔ہر آدمی اپنا نام بڑھانا چاہتا ہے
ہر ایک آدمی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ لوگ جانیں شہرت دو قسم کی ہوتی ہے ایک اچھائی والی کام کے بدلے ملنے والی اور دوسری برے کام کی وجہ سے ملنے والی شہرت ۔نیک کام کی شہرت محنت اور ریاضت سے ملتی ہے جبکہ برے کام والی شہرت میں رات بھر میں مشہور ہوجاتا ہے یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں۔۔
ًشہرت پانے کا عمل انسان رکھتا ہے چاہۓ وہ جس شعبے سے تعلق رکھتا ہے لوگ اس کو جانیں اس کو عزت دیں نام بھلا کون نہیں کمانا چاہتا ہر آدمی اس بات کا متمنی رہتا ہے ۔شہرت حاصل کرنا آسان کام نہیں ہے اس کیلے جدو جہد کرنی پڑتی ہے خون پسینا بہانا پڑتا ہے ۔دنیا کے مشہور لوگوں کی زندگی میں شہرت کی واقعات موجود ہیں ہیں جنہوں نے سولی پہ لٹکا،زہر کا پیالہ پیا اور آگ کے انگاروں پہ چلا پھر شہرت کے ثریا پہ پہنچے۔ اس کے شہرت کے پیمانے اس کی قربانی کے ساتھ منسلک ہیں تب کہیں جاکر شُہرَت مل جاتا ہے۔
پوری دنیا میں ایک ہی رات میں نام ہو جائیں گے آپ کوٸی انوکھا کام کریں بس نام ہی نام ہے اگلے دن دنیا کے سوشل میڈیا پر اپ کا نام ہوگا آپ کی تصویر وائرل ہو جاٸے گی۔یہ جو سستی شہرت جو کسی غیر قانونی غیر اخلاقی کسی حرکت پہ ملی تھی ۔کیسا رہا ؟مگر اس کا انجام سوچا ہے ؟سزا تو ملے گی ہی مگر تاریخ کے اوراق میں آپ کا نام بدنامی کے روپ میں لکھا جاۓگا آپ فرشتہ نہیں شیطان کہلائیں گے اس لے یہ انسان پر منحصر ہے کہ فرشتہ بننا چاہتا ہے یا شیطان کے روپ میں آپ ایک رات میں مشہور ہو سکتے ہیں تو فرشتوں کی روپ میں شہرت پانے کیلے سالوں سال لگے گا تو یہ آپ کو طے کرنا ہے کہ آپ کیا بننا چاہتے ہیں اور آپ اپنا نام کیسا چاہتے ہیں۔۔
کس شعبے میں آپ آگے بڑھنا چاہتے ہیں پہلے آپ اس کے بارے میں فیصلہ کر لیں ۔اس بات کو پلے باندھ لیں کہ کسی بھی شعبے میں آپ کو شہرت تب ہی مل سکتی ہے جب کہ آپ دوسروں سے الگ اس شعبے میں خاص کام کریں جب تک آپ ایسا نہیں کریں گے تب تک بھلا آپ کو کوں جانے گا۔۔؟
ویسے ہر آدمی کچھ نہ کچھ مشہور ہوتا ہے ۔اچھا ہو یا برا آس پڑوس کے لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں برے آدمی کے بارے میں بھی اس کی برائی کی وجہ سے بتاۓ گا اور اچھے آدمی کے بارے میں اس کی اچھائی کی وجہ سے بتاۓ گا اس طرح آپ کو خود عالم مانتے ہیں اس طرح اور لوگ بھی تو خود کو عالم مانتے ہوں گے آپ ان کو جانتے ہیں وہ آپ کو جانتے ہوں گے آپ کے بارے میں ان کے پاس کچھ نہ کچھ راۓ ضرور ہوگی ۔کیا آپ نے سوچا ہے کہ دوسرے لوگ آپ کو کیا سمجھتے ہیں اگر آپ اس سچاٸی کو جانیں تو واضح طور پر آپ کو اپنی صلاحیت کا پتہ چل جاۓ گا۔آپ کیا ہیں ؟کوٸی آپ کے منہ پر نہیں کہے گا ۔یہ دنیا کا اصول ہے ۔ہان جس نے اپنا کام نکالنا ہوگا آپ کے ساتھ جس کا معاملہ ہوگا وہ آپ کی تغریف ضرور کرے گا آپ کی برائی کو بھی وہ آپ کی صفت میں ڈالے گا آوارہ ،بدمعاش،چور،اور بدکردار آدمی کو کوئی اس کے منہ پر اصلیت نہیں کہتا ۔سب پیٹ پیچھے الزام لگاتے ہیں گالیاں دیتے ہیں جب اس قسم کا آدمی سامنے آتا ہے تو بڑے پیار کا لہجہ استعمال کرتے ہیں مگر تھوڑا اگے جانے کے بعد آہستہ سے کہتے ہیں سالا بد معاش محلہ بدنام کر رکھا ہے۔۔
دوسروں کے ہاں آپ کا مقام کیا ہے آپ شُہرَت کیا ہے سماجی طور پر آپ کی عزت کیا ہے سیاست دان کی عزت ووٹوں کے درمیان ہو جایا کرتی ہے ۔مگر آپ کی ؟بڑا آدمی اپنی مقبولیت کے باعث تعریف کما کر کامیاب بن جاتا ہے آپ کہاں ہیں ؟لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں ؟ اس بات کا بلکل خیال نہ کریں اپنے کام سے کام رکھیں دنیا کچھ بھی کہے اپنے کام یا علم پر کھبی غرور نہ کریں اور اس کو ہمیشہ معمولی کام یا بات ماننا چاہٸے۔
اگر ”میں“آگٸ تو سارا کیا کرا ذیادتی میں میں بدل دے گا نیکی کر دریا میں ڈال کے اصول کو اپنا نیکی کرو اور پھر بھول جاو اس نیکی کی شہرت نہ کریں خود لوگوں کو یہ کہنے کا موقع دیں ہیرا صرف اپنی حیثیت ہی بناٸی رکھتا ہے اس کی قیمت جوہری ہی لگاتا ہے ۔ہیرا کیا کچھ بولتا ہے ؟اس لیے کسی شعبے میں مشہور ہونے کیلے اپنے آپ کو کام کے اندر دلچسپی کے ساتھ سونپ دیں اور لگاتار لگے رہیں یہ آپ پر ہے کہ آپ نے کیا کرنا ہے اپنی راہ بنائیں اور آگے بڑھیں ۔شُہرت کوٸی آسمان کا تارا نہیں ہے ۔اس زمین کی چیز ہے اس کو آسانی سے آپ حاصل کر سکتے ہیں
کیونکہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار بن جاتا ہے۔۔ہمیشہ اس کا خیال رکھیں۔
