کاوشات اقبال

انسان ڈوبتا رہا۔۔انسانیت دیکھتی رہی۔۔۔سانحہ سوات۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔۔محمد اقبال شاکر

جب وقت اجل آجاتا ہے نہ ہی ایک ساعت پیچھے ہوتا ہے نہ ہی ایک ساغت اگے خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ،نوجوان ہو یا بوڑھا ،امیر ہو یا غریب ،بادشاہ ہو یا فقیر ،اکیلا ہو یا ہجوم میں ہی کیوں نہ ہو لیکن موت سے کسی کو رستگاری اور خلاصی نہیں ۔۔انسان خواہ کتنا ہی احمق اور کتنا ہی بیقوف کیوں نہ ہو موت کا یقین اس سےعلحیدہ نہیں ہو سکتا موت کا سیاہ بادل جو اس پر انے والا ہے اس کے فاصلے کے حساب اور میعاد نزول میں خواہ وہ غلطی کرے مگر اس کو یہ یقین کامل ہے کہ وہ میرے سر پر ضرور اۓ گا خواہ وہ کیسا ہی زبردست قوی جوان عمر ہے اور جگہ کا تعین سے موت کو کوٸی سروکار نہیں کہ وہ کہاں کا ہے کس ملک کا اس کی زبان کیا ہے مگر موت کے پنجے میں ضرور گرفتار ہوگاقضاوقدر جو موت کا فتوی دے دیا ہے وہ کسی طرح ٹل نہیں سکا کوٸی چیز دنیا میں ایسی نہیں ہے کہ وہ جس کو یہ کہ سکے کہ یہ میری ہے مگر موت اور وہ زمین جو اس کی ہڈیوں کو چھپاۓ گی۔کوٸی امر موت کو انے سےذیادہ تحقیق اور موت کے انے سے زیادہ تحقیق اور موت کے انے کے وقت سے زیادہ لا تحقیق نہیں ۔
اس واسطے انسان کو چاہٸے کہ موت کیلے ہمیشہ آمادہ اور تیار رہے خواہ ظاہری حالات اس کی زندگی کی کیسی ہی تاٸید کریں ۔کیونکہ زندگی میں آنے کا صرف ایک راستہ ہے اور جانے کے ہزاروں راستے ہیں ۔دنیا کی زندگی موت پر موقوف ہے دُنیا جب تک ہی دُنیا ہے کہ ایک مخلوق مرتی ہے اور دوسری اس کی جگہ پیدا ہوتی ہے۔۔اگر ہم موت سے غافل ہو جاٸیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ موت ہمیں بھول گٸی۔۔لیکن پھر بھی موت کے کچھ مناظر اپنے پیچھے کچھ سوالات چھوڑتے ہیں جن کو فراموش کرنے کے باوجود فراموش نہیں کرسکتے ہیں جو ہمیشہ دلوں کو رلانے کا باعث بنتے ہیں ۔۔اور انسان یہ کہنے پہ مجبور ہوجاتاہے کہ کاش ایسا نہ ہوتا۔۔
رہ مرگ سے ڈراتے ہیں لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت اس طرف کو جاتے ہیں لوگ۔۔
27جوں کر مینگورہ باٸی پاس پر سیالکوٹ سے اۓ سیاحوں کے 15افراد دریا سوات میں سیلفی لیتے ہوۓ
سیلاب میں بہ گٸے3بچالٸے گٸے باقی دریا کے بے رحم موجوں کے نذر ہوگٸے کیا ایک ہلی کاپٹر نہیں تھا جو قیمتی جانیں بچا جا سکیں افسوس سانحہ ایک ہی خاندان کے 15 جنازے اور خاموش نظام اور ریا ست کی بے حسی جب ادارے ناکام ہوں تو عوام کی لاشیں گوہی بن جاتی ہیں۔
سوات باٸی پاس سانحہ دریاۓ سوات میں ڈوبنے والے معصوم لوگ اخری لمحے تک بے بسی کی تصویر بن کر یہ انتظار کرتے رہے کہ شاید کوٸی آیٸں اور بچا لیں گے مگر اندازہ نہیں تھا کہ جن کی یہ ذمہ داری ہے ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں ۔ڈوبنے والے لوگ ایک گھنٹے تک مدد کی انتظار کرتے رہے گھنٹہ بھر بچانے والے آۓ اور کہا کہ ہمارے پاس کوٸی انتظام نہیں بندبست کرکے اتے ہیں واپس اکر دیکھتے ہیں کہ کوٸی۔۔۔کچھ نہیں بچا تھا۔۔بہت سے سوالیہ نشان ہیں کہ کیا یہ سلفیاں اتنی ضروری ہیں؟ کیا ایک پہاڑی علاقہ جہاں ہر طرف پانی کے چشمے اور دریا زیادہ بہتے ہیں اور ہر سال گلشیرز کی وجہ سے سیلابی صورتحال ہوتی رہتی ہے وہاں رسکیو کا کوٸی معقول انتظام انتظامیہ کے پاس موجود نہیں؟ اور سوات دوسرے شہروں کی طرح دور دراز علاقہ بھی نہیں بلکہ ملاکنڈ کا دل مرکز مینگورہ شہر ہے جہاں زندگی سے متعلق ضرورت کی ساری سہولیات زندگی میسر موجود ہیں ۔۔لیکن 30منٹ دوری پر پانی کے ریلے میں پھنسے افراد کو نہ بچا سکے۔۔
دریا کی بےحم موج بے رحم تھا مگر اس بھی بے رحم وہ نظام تھا جو خاموش رہا اگر 2گھنٹے مدد کے لیے پکارتے رہے اور دہاٸی دیتے رہے کہ ہمیں بچاو اور کوٸی بچانے نہ آۓ تو یہ صرف حادثہ یا قضاۓ آسمانی نہیں مجرمانہ غفلت ہے ۔۔کاش یہ کسی سیاسی لوگوں کے خاندان اور اولاد ہوتے تو پوری ریاست اس کی بچ بچاو کیلے دوڑییں لگاتے اور ًشہروں کی زمیں ایمبولینس کی ساٸرنگ اور فضا ہیلی کاپٹر کی تھرتھراہٹ سے لرز جاتا۔اور بہت ہی دور فضائی تک سفر جاتے مگر ادھر معاملہ ایسا نہیں تھا ۔۔۔
عمر کی رفتار ہو محسوس یہ دشوار ہے۔۔
یہ زمین چلتی ہے تیزی سے مگر ہلتی نہیں۔۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock