تازہ ترین

*مجبوری کا سودا: شریعت کی نظر میں*..تحریر:ابوسلمان

پاکستان میں حالیہ دنوں افغان مہاجرین کے انخلا کا معاملہ زوروں پر ہے۔ حکومتی فیصلے کے بعد لاکھوں خاندان اچانک اس صورتِ حال سے دوچار ہیں کہ وہ برسوں سے بسائے گئے اپنے گھر، دکانیں اور جمع پونجی پیچھے چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ ان حالات میں ایک افسوس ناک پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ بعض لوگ ان مہاجرین کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے گھروں اور جائیدادوں کو کوڑیوں کے بھاؤ خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا شریعت میں ایسا لین دین جائز ہے؟
*اسلام کا اصول*
اسلامی تعلیمات کا بنیادی اصول ہے کہ خرید و فروخت خوش دلی اور رضامندی سے ہو۔ قرآن کہتا ہے:
“اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، مگر یہ کہ خوش دلی سے تجارت ہو” (النساء: 29)۔
نبی ﷺ نے بھی فرمایا: “کسی مسلمان کا مال اس کی خوشی کے بغیر حلال نہیں” (ابوداؤد)۔
یعنی اگر کوئی شخص دل کی رضا سے بیچ رہا ہو تو لین دین درست ہے، لیکن اگر وہ حالات کے دباؤ میں، مجبوری اور بے بسی کے عالم میں بیچنے پر مجبور ہو تو یہاں خریدار کی نیت اور رویہ پرکھا جائے گا۔
*بیع مضطر* (مجبور کی بیع)
فقہ کی کتابوں میں اس موضوع کو بیع مضطر کہا جاتا ہے۔
اگر کوئی شخص مجبوری کے تحت بیچے تو بیع بظاہر درست ہے۔
لیکن اگر خریدار اس کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھا کر قیمت گرا دے تو یہ ظلم اور گناہ ہے۔
امام سرخسی (فقہ حنفی) لکھتے ہیں: “مجبور اگر مال بیچ دے تو بیع جائز ہے، مگر جو شخص کم قیمت پر خریدے وہ گناہ گار ہے” (المبسوط)۔
امام نووی (فقہ شافعی) فرماتے ہیں: “خریدار کے لیے جائز نہیں کہ بیچنے والے کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر قیمت کم کرے” (روضۃ الطالبین)۔
امام قرطبی (فقہ مالکی) کہتے ہیں: “مجبور سے کم قیمت پر خریدنا باطل طریقے سے مال کھانا ہے”۔
ابن قدامہ (فقہ حنبلی) لکھتے ہیں: “خریدار کے لیے جائز نہیں کہ مجبوری دیکھ کر قیمت گھٹا دے” (المغنی)۔
یعنی چاروں مکاتبِ فکر اس بات پر متفق ہیں کہ مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھا کر سستا سودا کرنا حرام ہے۔
افغان مہاجرین کے تناظر میں
اب اس پس منظر میں افغان مہاجرین کا معاملہ سامنے رکھیے۔ وہ اپنے گھروں اور جائیدادوں کو اپنی مرضی سے نہیں، بلکہ ایک حکم اور مجبوری کی وجہ سے بیچنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں ان سے گھروں اور زمینوں کو انتہائی کم داموں خریدنا شرعاً ظلم اور حرام ہے۔
البتہ اگر کوئی شخص ان کی جائیداد یا سامان کو بازاری قیمت پر خریدتا ہے تو یہ جائز ہے، بلکہ ان کی مدد اور اعانت شمار ہوگی۔
ایسے وقت میں ہمیں بحیثیت مسلمان اور انسان اپنی اخلاقی ذمہ داری نبھانی چاہیے:
اگر خریدیں تو منصفانہ قیمت پر خریدیں۔
ان کی مجبوری کو منافع کا ذریعہ نہ بنائیں۔
اور اگر استطاعت ہو تو ان کی بے بسی میں ان کا ساتھ دیں۔
*خلاصہ کلام*
افغان مہاجرین کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ان کے گھروں اور جائیداد کو سستے داموں ہتھیانا ظلم ہے، گناہ ہے، اور آخرت میں سخت مؤاخذے کا سبب بن سکتا ہے۔ صحیح راستہ یہ ہے کہ ان کی املاک کو منصفانہ قیمت پر خریدا جائے یا حسبِ استطاعت ان کی مدد کی جائے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO