تازہ ترین

*تعلیمی اداروں کی نجکاری: اصل ذمہ دار کون؟*ابو سلمان

خیبر پختونخواہ میں سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری کا فیصلہ ایک ایسا قدم ہے جس نے تعلیم کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حکومت ناقص کارکردگی کا الزام اساتذہ پر لگارہی ہے، حالانکہ اصل ناکامی پالیسی سازوں کی ہے۔ جب اسکولوں میں دو کمرے، پانچ جماعتیں اور صرف دو استاد ہوں تو تعلیمی معیار کیسے بہتر ہو سکتا ہے؟ اساتذہ کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے نظامِ تعلیم کی جڑوں پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
*ناقص کارکردگی یا پالیسی کی ناکامی؟*
حکومت کا مؤقف ہے کہ سرکاری اسکول “کارکردگی” میں ناکام ہو گئے ہیں، اس لیے ان اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنا ضروری ہے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ پالیسی کون بناتا ہے؟ وسائل کون فراہم کرتا ہے؟ کیا یہ سب کچھ اساتذہ کی ذمہ داری ہے یا حکومت کی؟
“ناکام پالیسیوں کا بوجھ اساتذہ کے کندھوں پر ڈالنا سراسر ناانصافی ہے۔”
*جب اسکول بنے قیدخانے*
ہمارے بیشتر پرائمری اسکولوں کی حالت عبرت ناک ہے:
دو کمرے، پانچ جماعتیں اور صرف دو اساتذہ۔
نہ بجلی، نہ پانی، نہ فرنیچر۔
ایک ہی استاد ایک وقت میں دو دو کلاسوں کو پڑھانے پر مجبور
ایسے حالات میں اگر تعلیمی معیار گرتا ہے تو کیا یہ اساتذہ کی کمزوری ہے یا حکومتی غفلت؟
“چراغ جلانے کے لیے تیل ضروری ہے، استاد روشنی دے سکتا ہے لیکن وسائل کے بغیر نہیں۔”
*اصل خرابی پرائمری ایجوکیشن میں*
دنیا بھر میں پرائمری تعلیم کو بنیاد کی حیثیت دی جاتی ہے۔ مضبوط بنیاد کے بغیر عمارت کبھی پائیدار نہیں ہو سکتی۔ مگر ہمارے ہاں سب سے زیادہ نظرانداز یہی شعبہ ہے۔ جب بچے ابتدائی جماعتوں میں ہی سہولتوں اور توجہ سے محروم رہیں گے تو آگے چل کر وہ کیسے معیاری تعلیم حاصل کر سکیں گے؟
*نجکاری: وقتی علاج یا دائمی زہر؟*
نجکاری وقتی طور پر شاید کچھ اداروں کو بہتر کر دے لیکن یہ ایک دیرپا حل نہیں۔ اس کا مطلب تعلیم کو کاروبار بنا دینا ہے۔ اور جب تعلیم کاروبار بن جائے تو سب سے پہلے غریب کا بچہ اس دوڑ سے باہر ہو جاتا ہے۔
“تعلیم حق ہے، تجارت نہیں!”
*اصل حل کیا ہے؟*
پرائمری تعلیم کو سب سے زیادہ بجٹ اور توجہ دی جائے۔
ہر اسکول میں کم از کم ایک استاد فی جماعت مقرر ہو۔
بنیادی سہولیات (کلاس روم، پانی، بجلی، فرنیچر) فراہم کی جائیں۔
اساتذہ کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے ان کی تربیت اور سہولتوں پر توجہ دی جائے۔
*عوام اور حکومت سے اپیل*
یہ وقت فیصلہ کن ہے۔ حکومت کو سوچنا ہوگا کہ تعلیم نجکاری کے حوالے کر کے وہ قوم کے مستقبل کو داؤ پر تو نہیں لگا رہی؟ عوام کو بھی اپنی آواز بلند کرنی ہوگی، کیونکہ اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو کل غریب کا بچہ تعلیمی حق سے محروم ہو جائے گا۔
“آئیے مل کر یہ عہد کریں کہ تعلیم کو تجارت نہیں بننے دیں گے، بلکہ اسے آنے والی نسلوں کے لیے روشنی اور ترقی کی ضمانت بنائیں گے۔”

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO