
اچھے اطوار کی خوبصورتی ۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔محمد اقبال شاکر
خوش اخلاقی،مہربانی،نیک خو،دیابت اورشفقت اس گروہ پر مشتمل ہوتی ہے جو سماجی باہمی روابط کیلے بنیاد کا کام کرتی ہے مقبولیت دلاتی ہے اور کامیابی دلاتی ہے اس فرد کو جو اس کیلے کوشش کرتا ہے تاہم یہ اج کل عام طور پر دیکھا اور لوگوں کو یہ کہتے سنا
جاتا ہے مسٸلہ بہت اسانی سے حل کیا جا سکتا ہے یا
یہ مسٸلہ کھبی سر ہی نہ اٹھاتا اگر اس علاقے کے لوگ
خوش اخلاقی اور مہربانہ رویے کا مظاہرہ کرتے۔۔
بنی نوع انسان جو جہاں کہیں بھی آباد ہیں خوش اخ
لاقی،نیک خوٸی اور مہربانی کی تمنا کرتے ہیں مگر یہ نایاب ہے یہ ایک سرمایہ ہےلیکن یہ دیکھنے میں اتی ہے
اس کی وجہ غالباً یہ ہو سکتی ہےکہ ہم بنی نوع انسان
خود عرضی کا لبادہ اوڑھ کرجنم لیتے ہیں اچھے اطوار
ہم سےمطالبہ کرتے ہیں کہ دوسرےلوگوں کی ضروریات
کو اپنی ضروریات پر تر جیح دیں یا کم از کم اپنی ضر
وریات کے ہم پلہ اورمساوی تسلیم کر لیں اس عمل کی
تربیت ایک جاری ساری رہنے والا عمل ہو سکتا ہے اور
پوری زندگی پر بھی محیط ہو سکتا ہے اس کا آعاز انتہاٸی ابتداٸی عمر سے ہونا چاہٸے اچھے اطور ان ہی
امور پر مشتمل ہوتے ہیں
دوسروں کے ساتھ انصاف کے ساتھ ڈیل کیا جاۓ۔۔
تمام افراد کے ساتھ یکسان سلوک کیا جاۓ۔۔۔۔ان کے رتبے اورمرتبے کو زیر نظر نہ رکھتے ہوۓ۔۔۔۔۔بلکل اس طرح جس فطرت ہم سب پر مساوی طور پر اپنی مہربا
نیاں نچھاور کرتی ہے جس طرح سورج خوبصورت طریقے سےطلوع ہوتا ہے ور جسطرح پرندےخوبصورت انداز میں گیت گاتے ہیں۔۔۔
ایک فرد کے رویے میں بد اخلاقی اور برے طورطریقے
اور اطوار یہ ظاہرکرتے ہیں کہ وہ کہیں نہ کہیں کمزور
ی کا شکار ضرور ہے۔۔دوسری جانب اچھے اطوار کسی بھی فرد کی دماغی قوت اور جوش جذبے کی عکاسی کرتے ہیں یہ محض چند خوشگور اور مہربان لفظوں کا
مظاہرہ کرنا ہر گز نہیں ہے بلکہ یہ دماغ کی ایک حالت ہے۔اس کے چشمے سوچ بچار سے پھوٹتے ہیں محسوس
کرنے سے پھوٹتے ہیں ۔لیکن خوش اخلاق ہونے سے مراد یہ ہے کہ اپنے زیادہ تر اثاثوں اور اچھے نکات کو خوش اخلاقی سے ہمکنار کیا جاۓ اور دوسرے لوگوں
کے ساتھ ہماری روزمرہ کی ڈیلنگ سے بھی ان کی عکا
سی بھی ہونی چاہٸے یہ ہمارے کردار کی خوبصورت
کو باہر نکالتی ہے ۔
ہم سب نے یہ مشاہدہ کیا ہوگا کہ اس شخص میں ایک مخصوص قسم کی خوشگواریت اور وقار پایا جاتا ہے
یہ ہمارے کردار کی خو بصورت کو باہر نکالتی ہے اچھے روٸیے کی تعریف عالمگیر سطح پر کی جاتی ہے
اور ایک خوش اخلاق شخص شاندار خود اعتمادی سے لطف اندوز ہوتا ہے ۔
چونکہ وہ خوداعتمادی کاحامل ہوتا ہے اسلٸے بد ترین
احوال بھی اسکیلےخلل اندازی کا باعث نہیں بن سکتی
وہ اچھے رویے کی وجہ سے لوگوں کےدل و دماغ جیت لیتا ہے اس کا مہربان رویہ اور مہذب پن رویہ بھی لوگوں کے دل ودماغ کو تسخیر کرلیتا ہے۔۔
اچھے اطوار کی تربیت کا آعاز بچپن ہی سے ہونا چاہٸے
اور نوجوانی کےایام میں بھی اس سے جاری رہنا چاہٸے
تاکہ بڑھاپے کی ایام میں وہ ادب و احترام کا مینار کا
ہو جس سے لوگ روشنی اکتساب کر سکیں
۔جب کسی محفل میں جاو تو ان اشخاص کے طرز عملاور اخلاق کو جو بہتر ہوں ملاخط کرو کیونکہ انسان اخلاق سے بنتا ہے اور عمدہ سیرت سے بڑی سفارش ہوتی ہے اپنی اپنی رفتاروگفتار،نشست و برخاست ،حرکات وسکنات اور ظاہری شکل و شباہت سے دوسروں کی آنکھ کو اور اپنی آواز ،طرز گفتگواور لب ولہجہ سے دوسروں کے کانوں کو گرویدہ کرو پھر دل خود بخود گرویدہ ہو جاۓ گا۔۔
تہذیب و شائستگی بے شک دنیاوی ترقی کا معیار ہے اور اخروی زندگی کا زینہ۔۔دنیا کے مکتب میں انسان کیلے انسان ہی سہل الحصول اور سب سےبڑھ کرمفید کتاب ہے جس کے مطالعے سے وہ ہر وقت کُچھ نہ کُچھ
سبق سیکھتا ہے پس جو لوگ اپنے ناپاک اخلاق کا بُرا
نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں وہ نہ صرف
انسانی زندگیوں کو تباہ کررہے ہیں بلکہ نظام قدرت میں بد نظمی پھیلانے کے بھی مُجرم ہیں۔۔۔
