
ًشہر چترال آوارہ کتوں کی آماج گاہ۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔۔محمد اقبال شاکر
شہر چترال کی اور آس پاس کے دھات گزشتہ سالوں سے آوارہ کتوں کی آماج گاہ بن چکا ہے گلی محلے ،چوک چوراہے سب جگہ ایسا موجود نہیں جہاں سگ آوارہ موجود نہ ہو آوارہ کتوں کی ایک ایک یونیں چترال شہر کے چوکوں پر قابض ہیں جہاں ہر ایک کو اپنے ایریا پار کرنے کی اجازت نہیں اور ایک دھات سے دوسرے دھات پار کرنے کی بھی اجازت نہیں گویا کہ ایک منظم طریقے سے یہ اپنی سرداری راج قاٸم کر چکے ہیں ان کی غرغراہٹ سے رات کے وقت دہشت اور دن کے وقت گندگی کی بکھیر ہوتی ہے جو شہرچترال کو آلودہ بنا رکھا ہے ۔آج صبح سویرے چترال ارہا تھا تو دنیں کے مقام یہ ٹولہ ایک کھیت پر باندھے ہوۓ گاۓ پر حملہ آور تھے اگر بیچ بچاو نہ کرتا تو بیچارے گاۓ ان کی دُرگت بنتی۔۔
آوارہ کتوں کے کا ٹنے کے مضمر اثرات میں سب سے خطرناک بیماری ریبیز ہے جو جان لیوا ہو سکتی ہے جو کتے کی کاٹنے کی صورت میں پھیلتی ہے اور اس قسم کے متعدد بیماریاں اس سے وقوع پذیر ہوتی ہیں جس کی وجہ سے انفکشن ہوتا ہے اور یہ واٸرس جسم میں داخل ہوکر دماغ تک پہنچتی ہے اوریہ انفکشن وقت کے ساتھ بڑھتا ہے اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اس کے علاوہ اوربھی مختلف بیماریاں اس کے کاٹنے سے پھیلتی ہیں۔۔
چترال شہر اور گردو نواح کے علاقوں میں آوارہ اور خارش زدہ کتوں کی بہتات ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی زندگی اجیرن بنی ہوٸی ہے۔دنین قصاب خانہ ،چیو پل ،گولدور چوک،اتالیق پل ، باٸی پاس روڈ اور پولو گراونڈ سمیت دیگر آس پاس دھات میں آوارہ کتے ٹولیوں کی صورت میں گھوم رہے ہیں اور روز بروز ان کی تعداد میں آضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے معمر افراد،بچوں اور خواتین کا گھروں سے نکلنا محال ہو گیا ہے شہریوں کے آمدورفت کے تمام راستوں،گوشت کے دوکانوں،ہوٹلوں حتی کہ بنکوں کے باہر ہر جگہ آوارہ کتے دندناتے پھرتے رہے ہیں ان کتوں کی وجہ سے صبح سکول کے بچوں کو بہت زیادہ دشواری کا سامنا ہے بلکہ ان کی زندگیوں کوشدید خطرات لاحق ہیں عوامی،سماجی حلقوں اور چترال کے معروف اخباروں کی وساطت سے تحصیل انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ آوارہ کتوں کی تلفی یقینی بنانے کیلے فی الفور کتا مار مہم یا اور کوٸی قانونی مہم شروع کی جاۓ شہریوں کا کہنا ہے کہ نماز فجر کی آداٸیگی کے لیے مساجد جاتے ہوۓ خوف آتا ہے کہ کہیں کتے حملہ نہ کریں ۔
ہمیشہ یاد رکھیں کتا کاٹنے کی صورت میں جو زخم آۓ یا جلد پر خراش پڑ جاۓ یا صر ف کتے کا لعاب پڑ جاۓ تو فوری طور پر متاثرہ حصے کو صاف پانی اور جراثم کش ادویہ جیسے پایٸو ڈین سے کم ازکم دس منٹ تک لازماً دھوٸیں کہ اس طرح واٸرس سے جسم کو محفوظ بنایا جا سکے اور اس کے بعد مریض کو فوری ہسپتال لے جانا چاٸیے تاکہ ویکسین کا سلسلہ شروع ہو سکے
ریبیز واقعات کے 85فیصد گلی کے کتوں کی وجہ سے جبکہ15 فیصد عام کتوں کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں کتے کی کاٹنے پہ ویکسین بھی مہنگی ہیں اکثر لوگ غربت کی وجہ سے یا اپنی ذمہ داریوں میں مًشعول ہو کر متاثرہ شخص کو ویکسین لگوانے میں تاخیر کر دیتے ہیں یا اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا ہے تو اس سے نقصان کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔
کتوں کو گولیاں مار کر یا زہریلے ٹیکے لگوا کر تلف کرنا مسٸلے کا حل بھی نہیں دنیا بھر میں آوارہ کتوں کی ویکسین اور ان کی تولیدی صلاحیت کو ختم کرکے ریبیز واٸرس پر قابو پایا گیا ہے اگر پاکستان میں بھی یہ عمل جاری کی جاۓ تو اس مسٸلے کا مکمل خاتمہ ہو سکتا ہے۔
چترال شہر اور مضافات میں آوارہ کتوں کی تولید میں روز بروز اضافہ تشویش کا باعث ہے کتوں کی یہ جم گھٹا مختلف جگہوں میں خوراک کے حصول کیلے اتے ہیں خوراک نہ ملنے کی صورت میں وہ مال مویشی وعیرہ پر بھی حملہ آور ہو جاتے ہیں جس کے زمرے میں سکول بچے بھی آسکتے ہیں اس کے علاوہ یہ کچرے کے شاپر پھاڑتے ہیں خوراک نہ ملنے کی صورت میں آس پاس گزرنے والے پر بھی حملہ کر سکتے ہیں خواتین ،بزرگ اور بچے ان کی وجہ سے ایک اضطرابی صورت حال سے گزر رہے ہیں خاص کر سکولز بچوں کو ذہنی کوفت کا سامنا ہے اس کے علاوہ چترال شہر ان کی غلاظت کی وجہ سے گندگی کا ڈھیر بنا ہوا ہے لہذا اس خطرناک ریبیز پھلانے والے محرکات کو ٹھکانا لگانے کیلے ضلعی انتظامیہ کی خدمت میں یہ گزارش بواسطہ چترال کے معروف اخبارات کے وساطت سے ارسال خدمت ہے تاکہ ہم سب مل کر اپنے ماحول کو ہر قسم کی مہلک امراض اور جراٸم سے بچا سکیں شکریہ۔۔۔
