کاوشات اقبال

چترال میں میڈیکل کالج کا قیام ناگزیر ۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔

چترال ہندوکش کے پہاڑوں کے درمیان واقع خوبصورت آمن کی وادی ہے یہاں کی خوبصورتی ،مہمان نوزی کی تعریف ہر ایک سیاح کی زبان میں بڑی آدب کے ساتھ بولی جاتی ہے ۔وادی چترال قدرت کی رعناٸیوں سے بھر پور ضلع ہے آبشاروں،چشموں،قدرتی معدانیات اور جنگلی حیات کی مرعوب تریں دھرتی ہے ۔یہ ضلع تریچ میر کے دامن میں واقع ہے جو ہندوکش کی بلند تریں چوٹی ہے اس کے سرحد افعانستان واخان کی پٹی سے ملتی ہے جو اس سے وسطی ایشیاء کے ممالک سے جدا کرتی ہے اپنی مخصوص اور منفرد جعرافیاٸی
محل وقوع پر کشش ثقافت اور پر اسرار ماضی کے حوالے سے چترال کی جداگانہ حیثیت نے سیاحت کے نقطہ نظر سے کافی اہمیت کا حامل ہے چترال دو ضلعوں پر مشتمل ضلع ہے ان دونوں ضلعوں کی کل آبادی پانچ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے ۔چترال تعلیمی لحاظ سے کے پی کے دس ضلعوں میں شامل ہے ۔
پاکستان کے قیام میں انے کے بعد بننے والے حکومتوں نے تعلیم کی ترقی پر اس حد تک توجہ نہ دی جس کا اس شعبے کو ضرورت تھی۔ساٸنس وٹکنالوجی اور میڈیکل کی تعلیم کے مواقع بھی محدود ہی رہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں آبادی کے تناسب سے ڈاکٹرز تیار نہیں کیے جا رہے ہیں اج پاکستان میں بیس ہزار افراد کیلے ایک ڈاکٹر دستیاب ہے جبکہ دوسرے ممالک میں پانچ سو افراد کیلے ایک ڈاکٹر موجود ہے پاکستان میں ڈاکٹروں کی شدید قلت کی وجہ سے آبادی کا بہت بڑا حصہ طبی سہولت سے محروم چلا آرہا ہے ۔ڈاکٹروں کی کمی کی بڑی وجہ میڈیکل کالجوں میں داخلے کا نہ ملنا ہے اور اکثر بعض
ضلعوں میں میڈیکل کالج نہ ہونے کی وجہ ہے اور پراٸیویٹ میڈیکل کالجوں میں فیسوں کی بہت بھاری اخراجات جو ہر کسی کی بس کی بات نہیں اور اوسط درجے کا بندہ اس بارے میں سوچتا نہیں ۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا میڈیکل سسٹم اتنا بھی ایڈوانس نہیں جس پر ہم فخر محسوس کریں ہمارے میڈیکل کالجوں کی برتری ان کالجوں میں داخلے نہ ملنے کی وجہ سے زیادہ ہے ۔اگر ان میڈکل کالجوں میں داخلے رکھنے کیلے مطلوبہ کواٸف رکھنے والے ہر خاص وعام طالب علم کو داخلے کی اجازت مل جاۓ تو اس سے بھاری فیسوں میں کمی آجاۓ گی اور یوں ملکی اور غیر ملکی میڈیکل کے خواہش مند طلباء و طالبات کسی اور ملک جانے کی بجاۓ ہمارے ملک کا رخ کریں گےجس سے ملکی معشیت پر مثبت اثر پڑے گا اور ڈاکٹروں کی کمی پوری ہوگی اور عوام کو صحت کے معاملے میں بہتر مواقع ملیں گے۔۔
چترال کے پی کا پسماندہ ضلع ہے اس علاقے کے باسی اب تک زندگی کے بنیادی سہولیات سے محروم ہوتے چلے آرہے ہیں روڈ صحت وعیرہ کی سہولیات سے ٹھیک طرح سے میسر نہیں موسمیاتی تبدیلی نے اس ضلع کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے سالانہ بستی بستی سیلابی ریلوں کی نظر ہو رہے ہیں تواناٸی کی متبادل نہ ہونے کی وجہ سے جنگلات کی کٹاٸی سفاکی کے ساتھ جاری ہے جس کیوجہ سموگ بھی اب جنم رہا ہے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے چترال کی خوبصورتی مانند پڑ رہا ہے بجلی کی کم وولٹیج اور لوڈ شیڈنگ سے مشکلات کا سامنا ہے ۔۔
چترال لوٸر اور چترال اپر لگ بھگ پانچ لاکھ کی آبادی پر مشتمل دو ضلعے ہونے کے باوجود میڈیکل اور انجینئرنگ کالج کی سہولیات سے ابھی تک محروم ہوتے چلے آرہے ہیں ۔سینکڑوں طلباو وطالبات دور دراز علاقوں میں جا کےمیڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے اور پراٸیوٹ کالجوں میں بھی اس شعبے کے طالب علم موجود ہیں اور اکثر طلباء قابلیت رکھنے کے باوجود بھاری فیسوں اور دوسرے مساٸل کی وجہ سے اس شعبے کی طرف اتے ہی نہیں اس خطے کو اللہ نے بڑی ذہانت دے رکھی ہے یہاں کے ڈاکٹرز پاکستان کے علاوہ باہر ممالک میں اپنا لوہا منوا چکے ہیں اور انسانیت کی خدمت بہت ہی احسن طرح سے انجام دے رہے ہیں ہیاں کے باسیوں کو اہل اقتدار سے یہ گلہ برسوں سے رہا ہے کہ ان کے بچوں کیلے میڈیکل کالج کا قیام کیوں نہیں۔۔یہ ان کا بنیادی حق ہے جو اس سے محروم ہوتے چلے آرہے ہیں لہذا اب کی بار اہل ضلع پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ دو ضلعوں کیلے ایک میڈیکل اور انجینئرنگ کالج کے قیام کیلے فوری اقدامات کیے جاٸیں تو دونوں ضلعوں کی آبادی کیلے ریاست کی طرف بہت بڑا احسان ہوگا اور علاقے کی بسیوں کی خواب کی تعبیر ہوگی۔۔۔جیسے یہ مدتوں یاد رکھیں گے۔۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock