
چترال کی لوک کہانیوں کی کتاب”چترال کی لوک کہانیاں” ایک قیمتی مجموعہ ہے جو چترال کی قدیم لوک روایات، ثقافت اور زبانی ورثے کو محفوظ کرنے کی کوشش ہے۔ یہ کتاب اصل میں کھوار زبان میں لکھی گئی ہے، لیکن پروفیسر اسرار الدین نے اس کتاب پر تبصرہ انگریزی اور اردو میں بھی پیش کیا ہے تاکہ عالمی سطح پر چترال کی ثقافت کو اجاگر کیا جا سکے۔ کتاب کا بنیادی مقصد چترال کی لوک کہانیوں کو منظم طور پر جمع کرنا اور ان کی لسانی، ثقافتی اور سبق آموز اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ پروفیسر نے اپنے مضمون “A Khowar Tale” میں لکھا ہے کہ “کھوار چترال کی بنیادی زبان ہے اور انڈو آریائی زبانوں کے شمال مغربی سرے کی چوکی ہے، جو لسانیات کے لیے دلچسپ ہے۔” یہ کتاب تقریباً 1970-80 کی دہائی میں مرتب ہوئی اور لوک ورثہ اسلام آباد جیسے اداروں نے اس کی اشاعت میں مدد کی۔
کتاب کی ساخت اور تقسیم
پروفیسر اسرار الدین نے چترال کی لوک کہانیوں کو مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا ہے (جیسا کہ ان کے مضمون “کھوار ادب” میں بیان کیا گیا ہے، جو پنجاب یونیورسٹی کی اشاعت “تاریخ ادبیات مسلمانان پاک و ہند” جلد 14 میں شائع ہوا):
- سبق آموز کہانیاں: یہاں زندگی کے حالات کو ایسے پیرائے میں بیان کیا جاتا ہے کہ کوئی اہم سبق ملے، جیسے لالچ کی برائی، ہوشیاری کی فتح، یا خاندانی وفاداری۔
- غیر مرئی مخلوقات پر مبنی کہانیاں: اژدھا (ڈریگن)، دیوپری (جن)، نہنگ (مگرمچھ)، چڑیل (گورواو) جیسی مخلوقات اور انسانوں کا ان سے مقابلہ۔ یہ کہانیاں چترال کے قدرتی ماحول (پہاڑ، جھیلوں، جنگلات) کا عکس ہیں۔
- . رومانی اور تاریخی قصے: محبت، ہمت اور مہتروں (چترال کے حکمرانوں) کی داستانیں، جو علاقائی روایات سے جڑی ہیں۔کتاب میں تقریباً 20-30 کہانیاں شامل ہیں، جو غلام عمر جیسے لوک گلوکاروں سے جمع کی گئیں۔ ان کی اشاعت لوک ورثہ اسلام آباد نے کی، جو بعد میں “کھوار شلوغ” (کھوار لوک کہانیاں) کے نام سے مزید توسیع پائی۔
اہم کہانیوں کا مختصر جائزہ
کتاب کی کہانیاں سنسنی خیز، سبق آموز اور ثقافتی طور پر امیر ہیں۔ چند مثالیں:
- – وے اژیرو باچھو شیلوغ: ایک ہوشیار بچے کی کہانی جو اژدھا سے مقابلہ کرتا ہے اور گاؤں کو بچاتا ہے۔ (سبق: ہمت فتح یاب ہوتی ہے۔)
- – وزیر وژورو شیلوغ: ایک وزیر کی چالاکی سے ظالم بادشاہ کی شکست۔ (لالچ اور اقتدار کی برائی پر زور۔)
- – تروئی اشکاری برارگینیان شیلوغ: تین بھائیوں کی رومانی کہانی جو دیوپری کی مدد سے خوشی پاتی ہیں۔ (محبت اور ہمدردی کا پیغام۔)
- – ظالم تت اوچے ژیژاوان شیلوغل: ایک ظالم تت (ابو) کی کہانی جو اونچائیوں سے گرتا ہے۔ (انصاف کی فتح۔)
- – نانو ای پھولوک ژاو و شیلوغ: بوڑھے نانا اور پھلوں کی جادوئی دنیا کا قصہ۔ (فطرت اور خاندان کی اہمیت۔)
- – ہوساک سایورجو شیلوغ۔ ایک ہوشیار لڑکی کی پہیلیوں والی کہانی جو چڑیل کو ہرانے میں کامیاب ہوتی ہے۔
ان کہانیوں میں اکثر پہیلیاں، جادوئی عناصر اور اخلاقی سبق شامل ہوتے ہیں، جو چترال کی زبانی روایات (لوک گلوکاری) سے لیے گئے ہیں۔ پروفیسر نے نوٹ کیا ہے کہ یہ کہانیاں قدیم انڈو آریائی، بدھ مت اور اسلامی اثرات کی آمیزش ہیں، جو چترال کی جغرافیائی تنہائی کی وجہ سے محفوظ رہیں۔
کتاب کی اہمیت
یہ کتاب نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہے بلکہ چترال کی ثقافتی ارتقا کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ لوک کہانیاں انسانی فطرت کا حصہ ہیں جو فارغ وقت میں سنائی جاتی تھیں، اور یہ چترال کی پہاڑی زندگی، شکار، زراعت اور سماجی اقدار کو ظاہر کرتی ہیں۔ پروفیسر اسرار الدین کی یہ کاوش کھوار ادب کی تاریخ میں سنگ میل ہے، جو آج بھی طلبہ، محققین اور لوک ورثہ کے شائقین کے لیے دستیاب ہے! کیا آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے؟
