بزم فاران

تعلیم بند، مسئلہ حل؟ جنگیں چلتی رہتی ہیں، مگر سکول بند صرف ہمارے ہاں کیوں ہوتے ہیں؟

عالمی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں کے دباؤ کے نام پر پاکستان میں تعلیمی اداروں کی بندش پر سوال—کیا ہم واقعی تعلیم کو قومی ترجیح سمجھتے ہیں؟

دنیا کے کئی حصوں میں اس وقت جنگ، سیاسی کشیدگی اور معاشی دباؤ اپنے عروج پر ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ پیدا کیا ہے۔ اس کے اثرات دنیا کے بہت سے ممالک تک پہنچ رہے ہیں، مگر ایک عجیب حقیقت یہ بھی ہے کہ ان حالات کے باوجود جنگ میں شامل یا متاثرہ ممالک میں تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہتے ہیں۔

اس کے برعکس پاکستان میں جب بھی کوئی معاشی یا انتظامی بحران سامنے آتا ہے تو سب سے پہلے جس شعبے پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے وہ تعلیم ہے۔ کبھی سکیورٹی خدشات کے نام پر، کبھی موسم کے بہانے اور کبھی توانائی بچانے کی دلیل دے کر سکول اور کالج بند کر دیے جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے اور توانائی کے دباؤ کے تناظر میں بھی یہی تجویز سامنے آئی کہ تعلیمی اداروں کی تعطیلات بڑھا دی جائیں یا انہیں بند رکھا جائے۔

یہ سوال یہاں پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی سکول بند کرنے سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے؟ یا یہ محض ایک ایسا آسان فیصلہ ہے جس کے نتائج دور رس ہوتے ہیں مگر فوری طور پر اس کا بوجھ کم محسوس ہوتا ہے۔

تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ جن ممالک نے ترقی کی منازل طے کیں، انہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی تعلیم کے عمل کو جاری رکھا۔ جنگ کے دنوں میں بھی سکول کھلے رہے، آن لائن تعلیم کا نظام متعارف ہوا، متبادل شیڈول بنائے گئے، مگر تعلیم کو روکنے کا فیصلہ آخری حد تک نہیں کیا گیا۔

پاکستان میں صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔ یہاں تعلیمی نظام پہلے ہی کئی مسائل کا شکار ہے۔ لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں، سرکاری سکولوں کی حالت قابلِ تشویش ہے اور نجی اداروں میں تعلیم مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں اگر تعلیمی ادارے بار بار بند کیے جائیں تو اس کا سب سے بڑا نقصان طلبہ کو ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں تعلیم کو اکثر ایسی سرگرمی سمجھ لیا جاتا ہے جسے ضرورت پڑنے پر روک دیا جائے اور پھر دوبارہ شروع کر لیا جائے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کا تسلسل ٹوٹنے سے سیکھنے کا عمل متاثر ہوتا ہے، طلبہ کی دلچسپی کم ہوتی ہے اور تعلیمی معیار مزید نیچے چلا جاتا ہے۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اگر کسی ملک میں سکول بند ہو جائیں اور اس کے باوجود تعلیم کو “رتی برابر نقصان نہ ہو”، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام پہلے ہی اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اس کی موجودگی یا غیر موجودگی میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوتا۔ یہ سوچ دراصل ایک خطرناک اعتراف ہے۔

پاکستان کو اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ تعلیمی تسلسل ہے۔ اگر توانائی بحران یا معاشی دباؤ کا سامنا ہے تو اس کے متبادل حل تلاش کیے جا سکتے ہیں، جیسے اوقاتِ کار میں تبدیلی، جزوی آن لائن تعلیم، یا توانائی بچانے کے دیگر اقدامات۔ مگر تعلیمی اداروں کو بند کرنا ایک ایسا فیصلہ ہے جو وقتی طور پر آسان مگر طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو مشکل حالات میں بھی اپنی ترجیحات واضح رکھتی ہیں۔ اگر تعلیم واقعی ہماری قومی ترجیح ہے تو پھر اسے ہر بحران میں قربانی کا پہلا بکرا نہیں بنایا جا سکتا۔

اصل سوال یہی ہے کہ کیا ہم تعلیم کو واقعی مستقبل کی بنیاد سمجھتے ہیں، یا ابھی بھی اسے ایک ایسا شعبہ سمجھتے ہیں جسے ہر مشکل وقت میں بند کر کے وقتی سکون حاصل کر لیا

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO