بزم فاران

سڑکیں نہیں، انسان بنائیں — چترال کی ترقی کی حقیقی بنیاد

تحریر: محمد نایاب فارانی

چترال جیسے پہاڑی اور دور افتادہ خطے کے لیے ترقی کا سب سے بنیادی سوال یہ نہیں کہ کتنی سڑکیں بنیں، کتنی عمارتیں کھڑی ہوئیں یا کتنے منصوبے شروع ہوئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں میں کتنی صلاحیتیں پیدا ہوئیں، کتنی ذہنیں تربیت پائیں اور کتنی شخصیات مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو سکیں۔ دنیا کی تمام بڑی معاشرتی تبدیلیوں نے یہی ثابت کیا ہے کہ معاشرے انفراسٹرکچر سے نہیں، انسانوں سے بنتے ہیں۔

ایک معروف کارپوریٹ گفتگو میں CFO نے سوال کیا تھا کہ اگر ہم اپنے لوگوں کو تربیت دیں اور وہ چھوڑ کر چلے جائیں تو؟ CEO کا جواب تاریخ میں محفوظ ہوگیا:

“اگر ہم انہیں تربیت نہ دیں اور وہ یہی رہ جائیں… تو پھر کیا ہوگا؟”

یہ سوال آج چترال کے لیے پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔

ہماری یونیورسٹیوں، سرکاری اداروں، نجی دفاتر، سکولوں اور کاروباروں میں سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ انسانی ترقی کو خرچ سمجھا جاتا ہے، سرمایہ نہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صلاحیت رکھنے والے نوجوان شہرچلے جاتے ہیں، ہنر نہ رکھنے والے جمود کا شکار ہوجاتے ہیں اور ادارے وہیں کھڑے رہتے ہیں جہاں برسوں پہلے تھے۔

چترال کا نوجوان بولڈ ہے، ہنر مند ہے، وژن رکھتا ہے، لیکن مواقع محدود ہیں۔ جب تربیت، رہنمائی، جدید ہنر، ڈیجیٹل اسکلز یا قیادت کے مواقع میسر نہ آئیں تو قابلیت بھی زنگ آلود ہوجاتی ہے۔ اگرچہ وسائل کم ہیں مگر انسانوں کے اندر موجود امکانات لامحدود ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ:

  • جس معاشرے میں تربیت یافتہ نوجوان ہوں، وہیں ترقی کا سفر تیز ہوتا ہے۔
  • جس خطے میں خواتین کو ہنر اور مواقع ملیں، وہاں معاشی زندگی مضبوط ہوتی ہے۔
  • جہاں اساتذہ، ملازمین، طلبہ اور کاریگر مستقل تربیت حاصل کرتے رہیں، وہاں ادارے کبھی پیچھے نہیں رہتے۔

اس کے برعکس غیر تربیت یافتہ اور غیر ترقی یافتہ افرادی قوت کسی بھی علاقے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ چترال اس حقیقت کو کئی بار دیکھ چکا ہے—نہ صرف ہنر کا ضیاع ہوا بلکہ سینکڑوں روشن ذہن مواقع نہ ملنے کے باعث خاموش اور غیر فعال ہوگئے۔

آج چترال کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ انسانی صلاحیت کو بجٹ کا بوجھ نہیں بلکہ مستقبل کی سرمایہ کاری سمجھا جائے۔ ایک تربیت یافتہ شخص صرف خود نہیں بدلتا، پورے خاندان کو، پھر کمیونٹی کو، پھر پورے علاقے کو ایک نئی سمت دیتا ہے۔ اسی لیے تربیت، رہنمائی، اسکالرشپس، ڈیجیٹل اسکلز، کاروباری سہولیات، اور لیڈرشپ ٹریننگ چترال کے لیے وہ بنیاد ہیں جو ہر بڑے منصوبے سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔

دنیا کی کامیاب قومیں اسی اصول پر چلتی ہیں کہ ٹیلنٹ اداروں میں نوکری کی وجہ سے آتا ہے، مگر ترقی، مواقع اور قیادت کی وجہ سے رہتا ہے۔ اگر چترال اپنے لوگوں میں یہ احساس پیدا کر دے کہ ادارے اُن کی ترقی کے لیے سنجیدہ ہیں، تو پھر ہجرت کم ہو گی، ذہین لوگ وہیں رہ کر معاشرے کو آگے بڑھائیں گے اور علاقے میں ایک نئی فکری و معاشی بنیاد قائم ہوگی۔

آخر میں یہی کہنا کافی ہے کہ انسانی سرمایہ چترال کی اصل طاقت ہے۔ اگر ہم اس پر توجہ دیں گے تو پہاڑوں کے درمیان بستے ہوئے لوگ بھی دنیا کو حیران کرنے والی مثالیں قائم کر سکتے ہیں۔ ترقی انسانوں سے شروع ہوتی ہے اور انسانوں پر ہی ختم ہوتی ہے۔ باقی سب کچھ ثانوی ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO