آواز اقبال

جب قیادت وسیع النظر ہو… تبھی گلگت بلتستان آگے بڑھے گا

تحریر: اقبال عیسیٰ خان

گلگت بلتستان آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں راستے تو بہت ہیں مگر سمت کا تعین کرنے والا نظر نہیں آتا۔ یہ خطہ قدرتی وسائل، بلند ترین پہاڑوں، انسانی صلاحیتوں اور ثقافتی ورثے کے اعتبار سے دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہے، مگر افسوس کہ داخلی ماحول میں نفرت، تعصب، عدم برداشت اور گروہ بندی نے ترقی کی سانس روک رکھی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ یہ زہر اب صرف نجی محفلوں تک محدود نہیں رہا، یہی نفرت اور امتیاز ہمارے تعلیمی اداروں، بازاروں، سرکاری و نجی تنظیموں اور اب تو کھیل کے میدانوں میں بھی اپنا رنگ جما چکا ہے۔

تعلیمی ادارے جہاں سوچ کی آزادی اور کشادگی پروان چڑھتی ہے، وہاں آج طلبہ کو مسلک، قبیلے اور تعلق داری کی بنیاد پر پہچانا جاتا ہے۔ بازار، جو معاشی سرگرمی کا مرکز ہوتے ہیں، اب باہمی بائیکاٹ اور غیر اعلانیہ تعصب کا شکار ہیں۔ تنظیمیں اور ادارے جن کا کام علاقے کے مسائل حل کرنا ہوتا ہے، وہاں گروہ بندیاں فیصلوں کے محور بن چکی ہیں۔ اور تو اور، کھیل کے میدان—جہاں نوجوان نسل کو ایک دوسرے کے قریب لانا چاہیے، وہاں بھی نفرت کی جیت اور کھیل کی ہار دکھائی دینے لگی ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی باشعور معاشرے کیلئے لمحۂ فکریہ ہے۔

نفرت کا سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ یہ ذہنوں کو تنگ کرتی ہے، سوچ کو محدود کرتی ہے اور انسانوں میں ایسے فاصلے پیدا کرتی ہے جنہیں پُر کرنا نسلوں کا کام بن جاتا ہے۔ فرقہ وارانہ نفرت اس سے بھی بدتر ہے، کیونکہ یہ معاشرتی اعتماد کی جڑوں میں ایسے زخم دیتی ہے جن کا مرہم دہائیوں تک نہیں ملتا۔ گلگت بلتستان جیسے متنوع خطے میں یہ تقسیم سب سے زیادہ بھائی چارے اور اجتماعیت کو نقصان پہنچاتی ہے، وہ اجتماعیت جو ہماری اصل طاقت تھی۔

میرٹ کا قتل بھی اس خطے کا ایک ایسا المیہ ہے جو کھلے عام ہوتا ہے مگر اس پر بات کرنا جرم بن چکا ہے۔ صلاحیتوں سے بھرپور نوجوان جب سفارش، تعلق داری اور گروہی مفادات کے ہاتھوں پیچھے دھکیل دیے جائیں تو وہ یا تو مایوس ہو کر بیٹھ جاتے ہیں یا پھر اپنا تہذیبی رشتہ توڑ کر باہر کا رخ کرتے ہیں۔ یہ معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دینے والی خاموش تباہی ہے۔

تعصب وہ بیماری ہے جو انسان کو اندھا نہیں بلکہ اندھیروں کا عادی بنا دیتی ہے۔ تعصب رکھنے والا فرد دلیل نہیں دیکھتا، حقیقت نہیں سنتا، اور ترقی کا ہر راستہ اپنے تنگ دائرے سے باہر دیکھنے سے انکار کر دیتا ہے۔ یہی رویہ اداروں، سماج اور قیادت کے درمیان ایک کھائی پیدا کر دیتا ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اس ماحول میں ایسی قیادت کہاں سے آئے جو اس زنگ آلود سوچ کو صاف کر سکے؟

جواب سادہ ہے، مگر اس پر عمل مشکل! قیادت وسیع النظر ہو، انا سے آزاد ہو، تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، اور اختلافِ رائے کو دشمنی نہ سمجھے۔

ایسی قیادت جو گلگت بلتستان کو قبیلوں، مسلکوں اور رشتوں کی تقسیم کے خول سے نکال کر اہلیت، وژن، دانش اور مشترکہ مفاد کی بنیاد پر آگے لے جانے کا حوصلہ رکھتی ہو۔

اصل تبدیلی گراس روٹ سے آتی ہے, گاؤں کے سطح پر، تعلیمی اداروں میں، یوتھ فورمز میں، کمیونٹی مجالس میں وہ لوگ آگے لانے ہوں گے جن کی زبان میں برداشت، سوچ میں وسعت اور کردار میں سچائی ہو۔ یہی افراد آگے چل کر ضلع، ڈویژن، خطے، قومی اور پھر عالمی سطح پر گلگت بلتستان کی نمائندگی کا حق ادا کر سکتے ہیں۔

دنیا کی ہر ترقی یافتہ قوم اس اصول کی گواہ ہے کہ اختلاف طاقت ہے، ادارے افراد سے بڑے ہوتے ہیں، اور نفرت نہیں بلکہ بھائی چارہ اصل سرمایہ ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان کو بھی اپنی آئندہ نسلوں کے لئے یہی راستہ چننا ہوگا۔ یہ خطہ بہادر، باہمت اور متحد لوگوں کی تاریخ رکھتا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسی روایت کو مستقبل تک پہنچایا جائے۔ کیونکہ ایک حقیقت آج بھی پہاڑوں کی بلندی پر لکھی ہے۔ گلگت بلتستان کو نفرت نہیں، بھائی چارہ چاہیے… اور بھائی چارہ ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں وسعتِ نظر، اجتماعی وقار اور عالمی شناخت تک لے کر جا سکتا ہے

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock