مضامین

مرلہ نہ سہی فٹ ہی سہی، مگر شریک تو ہو جائیے ۔تلخ و شیریں, (نثار احمد)

یوں تو ہم سوشل میڈیا میں بہت سارے موضوعات کو پڑھتے ہیں اور لکھنے پر آجائیں تو طرح طرح کے علم غلم موضوعات پر بھی قلم آزمائی کرلیتے ہیں لیکن آج ایک ایسے موضوع پر قلم گھسیٹنے، الفاظ جوڑنے اور قارئین کے سامنے درد ِ دل بیان کرنے کا من کررہا ہے جسے موضوع ِ تحریر بنانا ضمیر کی آواز ہی نہیں، ایک دینی و سماجی ضرورت بھی ہے۔ آخر مجھ جیسے چھوٹے پیمانے کے علاقائی لکھاری اگر ایران توران کے قضایاء کا ینحل کو ایک طرف رکھ کر اپنے علاقے کے مسائل کی طرف بھی متوجہ رہیں تو کوئی قیامت نہیں آئے گی۔
اگر ہماری ادنی سی قلمی کاوش اس مسئلے کی طرف زرا برابر توجہ مبذول کرانے میں کامیاب ہو گئی تو ہماری زمہ داری کا حق ادا ہوگا
یوں تو اس توجہ طلب مسئلے پر قلم اٹھانے کا خیال عرصے سے دل کے دریچوں پر دستک دے رہا تھا لیکن اس کی سبیل نکل نہیں پارہی تھی ۔مصروفیات کی ہنگامہ خیزیاں، روزانہ کی جھنجھٹیں اور منتشر خیالی ایسی پابہ زنجیر بنی ہیں کہ مسائل ہی نظر نہیں آرہے چہ جائے کہ ان پر لکھنے کی طرف زہن جائے۔ بہرحال توجہ طلب مسئلے کو اگلے پیراگراف کے لیے اٹھا رکھ کر مدرسہ ریحانکوٹ کا تعارف آپ کوکرواتے ہیں ۔
جامعہ اسلامیہ ریحانکوٹ چترال ٹاؤن بمقام ریحان کوٹ واقع ہے اسی مناسبت سے مختصرااسے ریحانکوٹو مدرسہ ہی کہا جاتا ہے اس کی تاریخ ِ تاسیس سن 2001 ہے یہاں ناظرہ ، حفظ اور تجوید کے ساتھ ساتھ درس نظامی (درجہء سابعہ تک) کی معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ مزید برآں افتاء و اصلاح کا نظم و اہتمام بھی عرصے سے یہاں قائم و دائم ہے۔ چترال کا شاید ہی کوئی گاؤں ہو گا جہاں اس مدرسے کا فیض یافتہ موجود نہ ہو۔ واضح رہے کہ دروش اور چترال میں واقع دو سرکاری مدرسوں کے علاوہ چترال مین بنین کا ایک بھی ایسا مدرسہ نہہیں ہے جس میں درس نظامی کی پوری تعلیم دی جاتی ہو۔
اس مدرسے کی خصوصیت اگر میں ایک لفظ میں بیان کرنا چاہوں تو وہ معیار ہے۔ یہاں معیار پر ٹھیک ٹھاک توجہ دی جاتی ہے تعلیم و تدریس اور اور درس و اصلاح میں اعلیٰ معیار ہی اس مدرسے کو منفرد و ممتاز بھی بناتا ہے اور فائق و بالا بھی ۔ جب میں دارالعلوم کراچی کورنگی میں زیر تعلیم تھا تو یہی دیکھا تھا کہ چترال سے آنے والے ان طالب علموں کے لیے دارالعلوم کراچی میں داخلہ مشکل نہیں ہوتا تھا جنہوں نے سابقہ درجات اس مدرسے میں پڑھے ہوتے تھے ۔
مدرسہ ریحانکوٹ میں اگر کسی چیز کی کمی تھی وہ مزید تعمیرات کے لیے جگے کی تھی۔ ناکافی کمروں کی وجہ سے درس و تدریس کا عمل بھی ایک ٹف چیلنج بنا جارہا تھا اور مدرسے کا دائرہ استعداد بڑھانا بھی مشکل ہورہا تھا۔
اب اس مسئلے کا حل یوں نکل آیا کہ مدرسے کے قریب ایک صاحب مسجد و مدرسے کے لیے معقول قیمت پر زمین بیچنے پر نہ صرف رضامند ہوئے بلکہ مدرسے نے یہ جگہ مسجد و مدرسے کے لیے خرید بھی لی ہے اب پیسوں کی ادائیگی رہتی ہے۔ زیادہ تعداد میں مسلمانوں کو اس کار ِ خیر میں شریک کرنے کے لیے منتظمین نے کل زمین کو فٹ میں تقسیم کرکے اس کی قیمت کاتعین کیا ہے۔ اس حساب سے ایک فٹ چھ ہزار (6000) میں پڑ رہا ہے. مطلب کوئی بھی شخص 6000 دے کر ایک فٹ مدرسے کے حوالے کرکے صدقہ ء جاریہ اپنے نام کر سکتا ہے۔ صدقہ جاریہ کہتے ہی اسے جس کا کھاتہ کبھی بندنہ ہو۔ اس شخص کے لیے بڑی خوش نصیبی ہوگی جس کے گوشۂ دل میں یہ خیال اتر جائے کہ میں مسجد و مدرسے کی بنیاد میں ایک فٹ زمین کا مالک ہوں جہاں سے علم اٹھے گا، دین پھیلے گا، اور نسلیں سنوریں گی۔
ہم لوگ مکان بناتے وقت اضافی خوبصورتی کے لیے لاکھوں روپے صرف کر دیتے ہیں، شادیوں کی آرائش میں لاکھوں خرچ ہو جاتے ہیں تو کیا چھ ہزار روپے ایک ایسی جگہ کے لیے زیادہ ہیں جہاں قرآن پڑھا جائے گا؟ جہاں دین سیکھا اور سکھایا جائے گا؟ جہاں مستقبل کے امام، معلم اور داعی تیار ہوں گے؟
اخلاص اور حسنِ نیت کے ساتھ دیا ہوا ہمارا یہ صدقہ ء جاریہ رائیگاں ہرگز نہیں جائے گا۔ اس مدرسے کی ہر اینٹ ہمارے اس عمل کی گواہ بنے گی، ہر دیوار ہماری اس قربانی کو یاد رکھے گی۔ اور کون جانے، شاید یہ ایک فٹ ہی ہمارے لیے  کامیابی کی راہ ہموار کر دے۔
ہم بڑے کاموں کی آرزو کرتے ہیں، لیکن قدم بڑھانے سے جھجکتے ہیں ۔ اکثر بڑے کام چھوٹے قدم سے شروع ہوتے ہیں۔ آپ ایک فٹ خریدیں، ایک نہیں خرید سکتے آدھا خریدیں بہرحال خریدیں۔ ہمت ہماری ہوگی ، عزم ہمارا ہو گا اورعملی قدم ہم اٹھائیں گے تو ان شاءاللہ جلد یہاں عطیم مدرسہ بھی کھڑا ہو گا اور عالی شان مسجد بھی تعمیر ہو گی۔۔
سو آپ سے گزارش ہے… اگر استطاعت ہو تو ایک فٹ ہی سہی۔ مگر شریک ہو جائیے۔ اس علم اور دین کے سفر میں اپنا حصہ ڈال کر آگے بڑھیے۔
آنے والا کل شاید ہمارے آج کے اس عمل پر فخر کرے۔
اکاؤنٹ نمبر: 9877011319839۔ میزان بینک۔۔بنام۔۔۔محمد عبد الرحمن و محمد عبداللہ۔(۔(جوائنٹ اکاؤنٹ)

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock