
علم کی برابری کا سفر چترال میں دانش اسکول سسٹم کی ضرورت کیوں؟..تحریر: -نورالہدیٰ یفتالی
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ قومیں جب اپنی آنے والی نسلوں کے لیے معیاری تعلیم کا راستہ ہموار کرتی ہیں تو ترقی محض امکان نہیں رہتی، حقیقت بن جاتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں ہزاروں بچے غربت، دور دراز رہائش اور محدود وسائل کے باعث معیاری تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں، وہاں دانش اسکول سسٹم امید کی ایک مضبوط کرن بن کر سامنے آیا ہے۔
پنجاب دانش اسکولز اینڈ سینٹرز آف ایکسی لینس اتھارٹی، جو 2010 میں ایک باقاعدہ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی، اس سوچ کی عملی تعبیر ہے کہ تعلیم صرف صاحبِ ثروت لوگوں کی میراث نہیں، بلکہ ہر اس بچے کا بنیادی حق ہے جو خواب دیکھنے کی جرات رکھتا ہے۔ سابق وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف کا یہ منصوبہ اس فلسفے پر قائم ہے کہ ریاست مستحق بچوں کی مکمل ذمہ داری اٹھائے مفت تعلیم، مکمل رہائش، معیاری خوراک، بہترین تربیت اور محفوظ ماحول۔ آج پنجاب کے مختلف اضلاع رحیم یار خان، حاصل پور، چشتیاں، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، میانوالی، اٹک، وہاڑی اور سیالکوٹ میں قائم 14 کیمپس اس وژن کا ثبوت ہیں۔ یہ ادارے صرف اسکول نہیں بلکہ قائدانہ صلاحیتوں کے مرکز ہیں، جہاں سے مستقبل کے رہنما تیار ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں اکثر لوگ دانش اسکول کو ڈنمارک کے اسکول سسٹم سے جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ خالصتاً ایک پاکستانی تصور ہے جو پسماندہ طبقے کے بچوں کو وہ سہولیات فراہم کرتا ہے جو کبھی صرف اعلیٰ طبقے کے اداروں تک محدود تھیں۔
موجودہ دور کا تعلیمی ماحول صرف کتابی علم تک محدود نہیں رہا آج کی دنیا عالمی معیار، ڈیجیٹل مہارتوں، شخصیت سازی، تخلیقی سوچ، تحقیق کی صلاحیت اور 21ویں صدی کی عالمی مسابقت کا مطالبہ کرتی ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے اکثر سرکاری اسکول اب بھی چاک، ڈنڈا اور رٹے کے اُس پرانے دور میں قید ہیں جہاں نہ جدید نصاب ہے اور نہ سیکھنے کے نئے طریقے۔ایسے میں دانش اسکول سسٹم ایک تازہ ہوا کا جھونکا بن کر سامنے آتا ہے ایک ایسا ماڈل جہاں رہائشی تربیت، جدید ٹیکنالوجی، بین الاقوامی نصاب اور اعلیٰ تربیت یافتہ اساتذہ مل کر بچوں کو بدلتی دنیا کے تقاضوں کے مطابق تیار کرتے ہیں۔ یہ اسکول نہ صرف تعلیمی معیار میں کیمبرج اور آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ جیسے اداروں کی رہنمائی لیتے ہیں بلکہ اساتذہ کی مسلسل تربیت اور طلبہ کی شخصیت سازی کو اپنی بنیاد بناتے ہیں۔
چترال پاکستان کا وہ خطہ ہے جہاں ذہانت، محنت اور قابلیت کی کبھی کمی نہیں رہی۔ مگر جغرافیہ، محدود وسائل، آمدورفت کی مشکلات اور تعلیمی سہولیات کا عدم توازن بہت سے باصلاحیت بچوں کی راہ میں رکاوٹ بنتا آیا ہے۔ ایسے میں یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ مفت اور معیاری تعلیم واقعی اُن قابل اور مستحق بچوں تک پہنچے جو وسائل کی کمی کے باعث اپنے خوابوں کو ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہیں، نہ کہ وہ مواقع اشرافیہ کے بچوں تک محدود رہیں۔
اگر دانش اسکول سسٹم چترال میں قائم ہوتا ہے تو اس کے بے شمار مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔ چترال کا بچہ ذہانت میں کسی سے کم نہیں، مگر رہائش، کتابیں اور فیس جیسے اخراجات بہت سے بچوں کے لیے علم کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ دانش اسکول اس عدم مساوات کی ہر رکاوٹ ختم کر دے گا اور چترال کے لیے مستقبل کے لیڈر تیار کرے گا۔
دانش اسکول سسٹم صرف ایک تعلیمی منصوبہ نہیں بلکہ وہ نظریہ ہے جو ریاست کو اپنے بچوں کے لیے ذمہ داری، مساوات اور شفاف مواقع کے اصول پر کھڑا کرتا ہے۔ اگر اس ماڈل کو پورے ملک، خصوصاً چترال جیسے دور دراز اضلاع تک پہنچا دیا جائے تو پاکستان کا تعلیمی نقشہ واقعی بدل سکتا ہے۔
