
شاہراہِ قراقرم، جو پاکستان اور چین کے درمیان اربوں روپے کی تجارت کا مرکزی راستہ ہے، اپنی چمک دمک کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپائے ہوئے ہے۔ اسی شاہراہ کے کنارے بسنے والے کئی متاثرین آج تک اس معاوضے کے منتظر ہیں جو عطاآباد لینڈ سلائیڈنگ، حسن آباد گلوف، سیلابی تباہ کاریوں اور سڑک کی متعدد ری الائنمنٹس اور کے-کے-ایچ ایکپنشن کے باعث اُن کی زمینوں، گھروں اور زندگیوں کو ملیامیٹ کر کے بھی ادا نہ کیا گیا۔
ہنزہ، نگر، گلگت اور دیامر میں قراقرم ہائی وے کی وجہ سے بے شمار خاندان اپنی آبادی، روزگار اور شناخت کھو بیٹھے، مگر حکومتی وعدے صرف فائلوں میں حفاظت سے سو رہے ہیں۔ ستم یہ کہ جس سڑک سے اربوں کا سامان گزرتا ہے، اسی کی حقیقی قیمت ادا کرنے سے آج تک گریز کیا جا رہا ہے۔ اس تاخیر نے متاثرین کے دلوں میں بے اعتمادی کی گہری دراڑ ڈال دی ہے، جو مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔
معاوضہ نہ ملنے کا نقصان صرف مالی نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی بھی ہے۔ لوگ بے روزگاری، ذہنی دباؤ اور مسلسل محرومی سے دوچار ہیں۔ خطے میں وقفے وقفے سے ہونے والے احتجاج اس بات کی گواہی ہیں کہ صبر کی حدیں ٹوٹ رہی ہیں۔ ترقی کا پورا تصور اس وقت کھوکھلا ہو جاتا ہے جب اس کے اصل اسٹیک ہولڈر ہی بنیادی سہولتوں سے محروم رہیں۔
چین سے پاکستان تک پھیلا ہوا یہ عظیم اقتصادی راستہ اُس وقت تک حقیقتاً ’’ترقی کی شاہراہ‘‘ نہیں بن سکتا جب تک اس کے کنارے بسنے والوں کے زخم نہ بھرے جائیں۔ معاوضہ محض مالی ادائیگی نہیں، بلکہ انصاف، اعتماد اور انسانی وقار کی بحالی ہے۔ دیر سے دیا گیا انصاف بھی ناانصافی ہوتا ہے، اور یہاں تو انصاف اب تک پہنچا ہی نہیں۔ حکومت کے لیے وقت کم اور ذمہ داری بہت بڑی ہے، اگر محرومیوں کو دور نہ کیا گیا تو یہ عظیم شاہراہ ترقی نہیں، تفاوت اور بے اعتمادی کی علامت بن کر رہ جائے گی۔

