آواز اقبال

نفرت سے نکل کر امن کی طرف بڑھیں، گلگت بلتستان کی پکار!!!!

تحریر: اقبال عیسیٰ خان

خدا را… گلگت بلتستان کے لوگوں پر رحم کریں۔ اس خطے کے باسی اس وقت جن حالات سے گزر رہے ہیں، وہ صرف مسائل نہیں بلکہ ایک اجتماعی درد کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ یہاں نہ بجلی ہے، نہ پانی، نہ صحت کی قابلِ اعتماد سہولت، نہ نوجوانوں کے لئے روزگار، نہ ہی زندگی کی بنیادی ضروریات۔ مگر افسوس کہ ان حقیقی اور سنگین مسائل کے باوجود نفرت، انتشار اور تقسیم کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ نفرت کیوں پھیلائی جا رہی ہے؟ جذبات کو کیوں بھڑکایا جا رہا ہے؟ یہاں کے لوگوں کو آپس میں لڑانے سے کیا فائدہ ملتا ہے؟ وہ لوگ جو پہلے ہی غربت اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، جن کے گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں، جن کی ماؤں کی آنکھوں میں فکروندام کا سایہ ہے، جن کے نوجوان بے روزگاری سے ٹوٹ رہے ہیں… کیا انہیں مزید انتشار کا بوجھ اٹھانا چاہیے؟

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بے روزگاری اور غربت نے لوگوں کو خودکشی جیسے انتہائی قدم تک پہنچا دیا ہے۔ ہسپتالوں میں مشینری نہ ہونے سے مریض دم توڑ دیتے ہیں۔ ادویات تک دستیاب نہیں۔ سرکاری اداروں میں رشوت کے بغیر کام نہیں ہوتا۔ یہ سب مسائل لوگوں کی زندگی اور مستقبل دونوں کو نگل رہے ہیں۔

اگر اس خطے کی قیادت، سیاسی و مذہبی شخصیات، اور بااثر طبقات ان بنیادی انسانی حقوق پر آواز اٹھائیں، احتجاج کریں، تو یقین جانیے اس خطے کا ہر غریب، ہر مظلوم، ہر نوجوان آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ کیونکہ یہ آواز ان کی زندگی بدلنے کی آواز ہوگی۔

اس خطے کی اصل ضرورت امن ہے۔ امن وہ بنیاد ہے جس پر ترقی کا ہر ستون کھڑا ہوتا ہے۔ امن نہ ہو تو نہ تعلیم زندہ رہتی ہے، نہ روزگار کے مواقع جنم لیتے ہیں، نہ کاروبار چلتا ہے، نہ گھروں میں سکون۔ امن کے بغیر سب کچھ بکھر جاتا ہے۔ خدا را… گلگت بلتستان کو شام، عراق یا کسی بھی انتشار زدہ ملک جیسا نہ بننے دیں۔ یہاں کے لوگوں کا حوصلہ بہت ہے مگر برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔

ہمیں فخر ہے کہ ہمارے معزز علمائے دین، بزرگ علماء اور معتبر شخصیات نے ہمیشہ امن اور اتحاد کو ترجیح دی ہے۔

گزشتہ مہینے رونما ہونے والےدلخراش واقعے پر محترم مولانا قاضی نثار اور محترم آغا راحت حسین الحسینی نے جس حکمت، بردباری اور بالغ نظری سے حالات کو قابو میں کیا، وہ اس خطے کی تاریخ کا روشن باب ہے۔ انہوں نے امن اور اتحاد کا پرچم بلند رکھا، سازشوں کو ناکام بنایا، اور اس خطے کو ایک بڑے تصادم سے بچایا۔ یہی اصل قیادت ہے، یہی اصل بصیرت، یہی وہ درویشانہ فراست ہے جو قوموں کو بچاتی ہے۔

ہمیں امید ہے کہ آج بھی ہمارے معزز علماء، ہمارے بزرگ، ہمارے نوجوان اور تمام اسٹیک ہولڈرز یک آواز ہو کر امن، اتحاد اور ترقی کے راستے پر کھڑے ہوں گے۔ ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔ ہر نفرت کو دفن کریں گے۔ اور ہر اس آواز کو مضبوط کریں گے جو بھائی چارے، شعور، تعلیم، ٹیکنالوجی، تحقیق اور ترقی کی طرف بلاتی ہے۔

نوجوانوں کو نفرت نہیں، کردار سازی، ای آئی، جدید ٹیکنالوجی، علم، تحقیق اور نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔ یہ خطہ ذہانت میں کم نہیں۔ صرف سمت اور امن چاہیے، اور یہی وہ دو چیزیں ہیں جو ہمیں دوبارہ اٹھا کھڑا کر سکتی ہیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ  گلگت بلتستان کے تمام باسیوں کو، امن کا سفیر بنائے، ان کے قدم مضبوط کرے، اور گلگت بلتستان کو ہمیشہ اپنی امان میں رکھے۔ آمین۔

امن کو جینے دیں۔ یہی ہماری بقا ہے، یہی ہماری امید ہے، یہی ہمارا مستقبل ہے۔

سب سے پہلے گلگت بلتستان

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO