کاوشات اقبال

سرکاری ملازمین کی پنشن کٹوتی اور اداروں کی آوٹ سورسنگ۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔ 

کسی بھی ملک کی ترقی میں ملازمین ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں ملازمین کا کردار کسی بھی معاشرے یا ادارے کی کامیابی میں بنیادی ہوتا ہے جس میں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانا،مثبت رویہ اپنانا اور ادارے کے اہداف کے حصول میں تعاون کرنا شامل ہیں جبکہ ان کا مثبت یا منفی کردار کی جگہ کی ثقافت،ملازمین کی فلاح و بہبود اور حتی کہ تاریخی واقعات پر بھی گہرا اثر ڈال سکتا ہے ملازمین نہ صرف ادارے کیلے بلکہ وسیع معاشرے کیلے بھی کلیدی ستون ہوتے ہیں ۔۔

سرکاری اداروں کی آوٹ سورسنگ اور ملازمین کی پنشن میں کٹوتی کے معاملات پاکستان بھر میں زیر بحث ہیں پنشن میں 35 فیصد کٹوتی جو 1 سے 20 تک کے ملازمین سے ہورہی ہے جس سے ملازمین میں تشویش پائی جاتی ہے اس کے علاؤہ آؤٹ سورسنگ

کا معاملہ بھی موجود ہے جس سے ملازمین کے مستقبل اور نوکریوں کا تحفظ پر سوالات اٹھ رہے ہیں جو کہ حکومت کے اس اقدام کو ملازم کش سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف احتجاج کرہے ہیں۔۔

محصولات کی وصولی ہمیشہ سے ایک فعال ریاست کے ڈھانچے میں ایک ناگزیر ستون لازمی ہے تاکہ انتظامی نظام کی بقا،عوامی خدمات کی فراہمی اور ریاست کے دفاع کو یقینی بنایا جا سکے کوئی بھی معاشرہ خواہ کتنا ہی خوشحال یا محدود وسائل کے حامل کیون نہ ہو مستقل آمدن کے بغیر قابل عمل نہیں رہ سکتا اور یہ آمدن ٹیکس ہی فراہم کرتے پیں۔

اس زمرے میں مالی سال جو 30 جون 2025 کو ختم ہوا تنخواہ دار طبقے نے حیران کن طور پر 545 ارب روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا یہ رقم برآمد کنندگان اور ریٹیلرز کی مجموعی ادائیگی کو بھی پیچھے چھوڑ دی گئی ملکی دونوں شعبوں کی ادائیگی کا موازنہ کیا جائے تو تنخواہ دار طبقے کی جانب سے آدا کردہ رقم سے بھی آدھی ہے۔۔

سوال یہ ہے کہ زندگی کے دیگر شعبوں پر بھی وہی انکم ٹیکس کی شرح اور وہی جذبہ لاگو کیوں نہیں ہوتا جو سرکاری ملازمین پر ہوتا ہے؟ اور ان ملازمین کو پھر مختلف طریقوں سے پریشان کیا جاتا ہے یہ سوال عوامی مباحثوں اور حکومتی راہداریوں میں بار بار گونجا جاتا ہے لیکن بدستور غیر جواب اور ناگوار سمجھا جاتا ہے۔جو سمجھنے اور سمجھانے سے باہر ہے

ٹیکس کا نظام وسیع بنیادوں پر منصفانہ اور شفاف ہونا چاہیے صرف ان طبقات پر بوجھ ڈالنا جو آسانی سے دستیاب ہوں جبکہ با اثر طبقات کو چھوڑ دینا عوام میں بد دلی پیدا کرتا ہے ۔

تنخواہ دار طبقہ خصوصاً سرکاری ملازمین نے اپنا فرض سلیقے سے نبھایا ہے اکثر کسی بھی داد یا اعتراف کے بھی حالیہ سیلابوں یا دیگر آفات میں ملازمین نے دل کھول کر عطیات جمع کئے اور کسی بھی قربانی سے دریع نہیں کیا اور ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی بھر پور کوشش کی ہے ان تمام کے باجود حکومت اس محسن طبقے کے ساتھ ان کے ادارے آؤٹ سورسنگ اور ان کے پنشن سے کٹوتی کی صورت سے دے رہی ہے جو کہ بلکل ناانصافی ہے اس سلسلے میں تمام سرکاری ملازمین پریشان اور تشویش

میں مبتلا ہیں اور اس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO