
تلخ و شیریں ۔ نثار احمد تورکھو مدرسہ واقعہ: سوشل میڈیا کا بیانیہ اور زمینی
حقائق
۔تورکھو کے مدرسے کے افسوسناک واقعے کو لے کر سوشل میڈیا پر چترال سرکل کے مختلف پیجز، گروپس اور ایکٹوسٹس اگر اپنا غبارِ دل نکال کر ہلکے ہو ہی چکے ہیں نیز اگر یک طرفہ کہانیاں سنا کر، مدرسہ بالخصوص متعلقہ استاد کے خلاف ایک من پسند فضا قائم کر کے فارغ ہو ہی چکے ہیں، تو اب ہماری بھی چند گزارشات پڑھ لی جائیں۔
سب سے پہلی اور شکر کی بات یہ ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے متاثر ہونے والا بچہ نہ صرف روبصحت ہے بلکہ اس کی متاثرہ آنکھ بھی خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اس کے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے، آمین۔
دوسری بات یہ کہ حفظ کے قاری صاحبان کو بچوں کی جسمانی سزا سے بہر صورت گریز کرنا چاہیے، خصوصاً چہرے پر ہاتھ اٹھانا کسی صورت میں بھی روا نہیں۔ یہ نہ صرف انسانیت سوز عمل ہے بلکہ از روئے شرع حرام بھی ہے ۔ بچے کی صحت اس کی تعلیم پر مقدم ہے ۔
تیسری بات یہ کہ میرا مزاج یہ ہے کہ جب بھی ایسا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو میں کوشش کرتا ہوں کہ پہلے کسی قریبی اور متعلقہ شخص سے حقائق معلوم کروں، اس کے بعد یا تو اپنی رائے دیتا ہوں یا پھر خاموشی اختیار کرکے کاروبار زندگی میں لگ جاتا ہوں۔ تجربہ یہ رہا ہے کہ اکثر اوقات سوشل میڈیا پر پیش کی جانے والی تصویر، زمینی حقائق سے خاصی مختلف ہوتی ہے۔ اس واقعے میں بھی حسبِ روایت یہی ہوا۔
سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا گیا کہ استاد نے جان بوجھ کر بچے کی آنکھ کو نشانہ بنایا ہے، اور یہ کہ بچے کو زخمی چھوڑ کر استاد مفرور ہو چکا، اور یہ کہ انہوں نے بچے کو ہسپتال لے جانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔۔
استاد کیا، کیا کوئی بھی شخص دانستہ طور پر کسی بچے کی آنکھ ضائع کرنے کی نیت سے ایسا کر سکتا ہے؟ کرنا بھی چاہیے تو ماہر نشانہ باز کے لیے بھی اس طرح آنکھ کو ٹارگٹ کرنا آسان نہیں ہے۔ ہوا یہ ہے کہ بچے کی شرارت پر استاد کو غصہ آ گیا (نہیں آنا چاہیے تھا) قلم پھینکا اور قلم آنکھ پر لگ گیا ، یوں استاد کے ہاتھوں ایسی غلطی ہو گئی جس کا قصد اس نے بھی نہیں کیا تھا ۔ بیانیہ بناتے وقت کم از کم عقل و فہم کا دامن تو ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ۔
کہا گیا کہ بچے کو زخمی چھوڑ کر مدرسے کا دروازہ بندی کرکے استاد فرار ہو گیا ۔
حالانکہ میری معلومات کے مطابق ایسا نہیں ہوا ہے یہ واقعہ ظہر سے پہلے کا تھا ، چھٹی ہو گئی بچے گھروں کو چلے گیے بعد ازاں گھر والوں سے ہی استاد کو چوٹ کی سنگینی کا علم بھی ہوا اور احساس بھی۔ گوکہ اب دیر ہو چکی تھی لیکن ایسا ہر گز نہیں ہوا کہ استاد بچے کو زخمی چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کر چکا ہو۔
کہا گیا کہ استاد مفرور تھا اور بعد میں پکڑا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ کہیں مفرور نہیں تھا۔ واشچ ایک چھوٹا سا علاقہ ہے جہاں ہر شخص دوسرے کو جانتا ہے۔ مفرور ہو کر آخر جا بھی کہاں سکتا تھا؟ زیب ِ داستان بڑھانے اور مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے یہ بے بنیاد باتیں پھیلائی گئیں۔
یہ ٹھیک ہے کہ استاد کے ہاتھوں اس کے شاگرد (بچے) کی آنکھ کو نقصان پہنچا اگر بچے کے والدین چاہیں تو استاد پر مقدمہ بھی چلے گا اور قانون کے مطابق سزا بھی ملے گی۔ عدالت میں ہی مزید صورت حال مزید نکھر کر سامنے آ جائے گی۔ سوال مگر یہ ہے کہ زہر آلود تحریروں کے ذریعے ایک پورے خاندان کو جس ذہنی اذیت سے گزارا گیا، ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کو جس طرح مشکوک بنایا گیا، اس کا ازالہ کون کرے گا؟ سوال مگر یہ ہے اس واقعے کی آڑ میں گاؤں گاؤں قریہ قریہ قرآن کی تعلیم عام کرنے والے جن مکاتب و مدارس کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا گیا اس کا تدارک کون کرے گا ؟
جہاں تک مجھے معلومات ملی ہیں کہ جو خاندان اس وقت مشکلات میں ہے جس کے ہاتھوں ایک معصوم کی آنکھ پر چوٹ لگی ہے یہ وہ خاندان ہے جس کی دینی، بالخصوص قرآنی خدمات چند مہینوں یا چند برسوں پر محیط نہیں۔ گزشتہ کئی عشروں سے یہ خاندان قرآن کی تعلیم سے منسلک ہے ۔
ان پوسٹوں میں “تشدد، تشدد” کی گردان کرنے والے حضرات سے گزارش ہے کہ قرآنی تعلیم کو عام کرنے کے لیے مختص یہ چھوٹے چھوٹے مکاتب و مدارس کسی دوسرے سیارے پر نہیں ہیں، نہ ہی ان میں پڑھانے والے معلمین و معلمات کسی اور دنیا کے باسی ہیں۔ ارندو سے لے کر تورکھو تک، بمبریت سے لے کر یارخون تک۔۔ یہ مدارس ہر گاؤں، ہر محلے اور ہر گلی میں موجود ہیں۔ اگر واقعی ان میں تشدد کا معمول ہوتا تو کیا یہ سب کچھ لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہ سکتا تھا؟؟
مستوج سے ایک صاحب نے لکھا کہ مدارس کی کڑی نگرانی ہونی چاہیے اور کیمرے لگنے چاہئیں۔ ان سے بس اتنی گزارش ہے کہ مستوج ہی میں تھوڑا سا آگے جا کر بائیں طرف چند میٹر کے فاصلے پر ایک مدرسہ موجود ہے جہاں سنی ہی نہیں، اسماعیلی بچے بھی پڑھتے رہے ہیں۔ (اب کی صورت حال میرے علم میں نہیں ہے)مولانا نصیر اللہ (چنار والے) وہاں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ آپ وہاں جائیں اور ان بچوں سے، ان کے والدین سے خود پوچھ لیجیے کہ وہاں تشدد ہو رہا ہے۔ اگر ہو رہا ہے تو ہمیں بھی آگاہ کیجیۓ اور اسے روکنے کی سبیل بھی نکالیے۔
نہیں کر سکتے ہیں تو پھر اپنی بندوق بوزند کے ایک چھوٹے بچے کے کندھے پر رکھ کر اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش بھی مت کیجیے ۔
