
ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں دنیا سمٹ کر ایک چھوٹی سی اسکرین میں آ گئی ہے۔ انگلی کی ایک جنبش پر خبریں، تصویریں، خیالات اور جذبات ہماری نگاہوں کے سامنے صف باندھے کھڑے ہوتے ہیں۔ اس دنیا کا نام سوشل میڈیا ہےایک ایسی طاقت جو انسان کو بلندی بھی دے سکتی ہے اور گمراہی کے گڑھے میں بھی دھکیل سکتی ہے۔
آج کا نوجوان اس ڈیجیٹل فضا میں آنکھ کھولتا اور اسی میں آنکھ بند کرتا ہے۔ اس کے خیالات کی تشکیل، اس کے رجحانات اور حتیٰ کہ اس کی شخصیت تک اس ورچوئل دنیا سے متاثر ہو رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال بے حد اہم ہو جاتا ہے کہ: کیا ہم اس ٹیکنالوجی کے مالک ہیں یا یہ ٹیکنالوجی ہماری مالک بن چکی ہے؟
اسلام انسان کو ہر نعمت کے ساتھ ذمہ داری بھی دیتا ہے۔ زبان ہو یا قلم، نظر ہو یا فکرہر چیز کا حساب ہے۔ سوشل میڈیا بھی اسی اصول کے تحت آتا ہے۔ یہاں لکھی گئی ایک سطر، شیئر کی گئی ایک تصویر اور پھیلائی گئی ایک خبرسب ہماری امانت ہیں۔
افسوس کہ اس ڈیجیٹل دنیا کو بعض طاقتیں گمراہی کا ہتھیار بنا چکی ہیں۔ دینِ اسلام کے بارے میں شکوک، تحریفات اور جھوٹے بیانیے بڑی مہارت کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔ چونکہ نوجوان نسل تحقیق کے بجائے اسکرین کو معیارِ حق سمجھنے لگی ہے، اس لیے وہ بسا اوقات سچ اور فریب میں فرق نہیں کر پاتی۔
دوسری طرف یہی میڈیا نفرت، تضحیک اور کردار کشی کا میدان بھی بن گیا ہے۔ کسی کی ایک لغزش، ایک افواہ یا ایک تراشیدہ جملہ اس کی ساری عزت کو لمحوں میں خاک میں ملا دیتا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی کی آبرو، کعبہ سے کم مقدس نہیں مگر ڈیجیٹل دنیا میں یہ حرمت سب سے زیادہ پامال ہو رہی ہے۔
سب سے زیادہ خطرناک پہلو وہ ہے جو خاموشی سے دلوں کو زہر آلود کر رہا ہے: بے حیائی اور فحاشی۔ آنکھ کے راستے دل پر حملہ ہوتا ہے، اور دل کے بگڑنے سے کردار ٹوٹ جاتا ہے۔ جو چیز کبھی شرم و حیا کی دیواروں میں قید تھی، آج ہر ہاتھ میں موجود ہے۔ اس سے بچنا نوجوان کے لیے آج سب سے بڑی روحانی جدوجہد بن چکا ہے۔
لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ امید سے بھرا ہوا ہے۔ یہی سوشل میڈیا علم، دعوت اور اصلاح کا مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات، اچھے اساتذہ کی رہنمائی، اخلاقی پیغامات اور انسانی ہمدردی کی آوازیہ سب اسی پلیٹ فارم کے ذریعے دنیا کے آخری کونے تک پہنچ سکتے ہیں۔
طلبہ کے لیے یہ ایک کھلی درسگاہ ہے، مریضوں کے لیے مشورے کا دروازہ، اور مظلوموں کے لیے آواز۔ جب بڑے میڈیا جھوٹ کو چمکا رہے ہوں، تو یہی نیٹ ورک سچ کو زندہ رکھ سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو خواہشِ نفس کے نہیں بلکہ شعور اور ایمان کے تابع کریں۔ وقت کا ضیاع، جھوٹ، نفرت اور فحاشی یہ سب وہ زہر ہیں جن سے اس ڈیجیٹل غذا کو پاک کرنا ہوگا۔ جو بات عام زندگی میں ناجائز ہے، وہ آن لائن دنیا میں بھی ناجائز ہی رہے گی۔
اگر ہم نے اس اسکرین کو قبلہ بنا لیا تو ہم کھو جائیں گے، اور اگر ہم نے اسے ایک ذریعہ سمجھا تو ہم بہت کچھ پا سکتے ہیں۔
اللہ ہمیں اس دور کی آزمائشوں میں بصیرت، پاکیزگی اور حق پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔
