آواز اقبال

پانی کی ایک ایک بوند کو ترستا ناصرآباد ہنزہ ، حکومت کی خاموشی، ایک اجتماعی ناکامی

پانی کی ایک ایک بوند کو ترستا ناصرآباد ہنزہ ، حکومت کی خاموشی، ایک اجتماعی ناکامی

ناصرآباد، ہنزہ کا وہ قدیم گاؤں جو صدیوں سے محنت، زرخیزی اور خودداری کی علامت رہا ہے، آج پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہا ہے۔ یہی ناصرآباد، جو ہنزہ کا دروازہ بھی ہے اور گلگت بلتستان کی قدیم ترین بستیوں میں شمار ہوتا ہے، آج ایک خاموش المیے کی تصویر بنا ہوا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پانی کیوں کم ہے، اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کہاں ہے۔
2005 میں رانی عتیقہ نے ناصرآباد کیلئے پِسّن نگر سے واٹر پائپ لائن منصوبہ منظور کروایا۔ یہ منصوبہ اگر وقت پر مکمل ہو جاتا تو آج ناصرآباد کے کھیت سرسبز ہوتے، باغات شاداب ہوتے اور کسان بے بسی کے بجائے امید کی بات کرتے۔ مگر بدقسمتی سے کرپشن، نااہلی، غفلت اور بدنیتی نے اس منصوبے کو تاخیر کر دیا۔ قریباً دو دہائیاں گزر گئیں، مگر پانی نہیں پہنچا۔
گزشتہ سال کی خشک سالی نے ناصرآباد کی معیشت کی کمر توڑ دی۔ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ وہ زمین جو گندم، آلو، سبزیوں اور پھلوں کی پہچان تھی، بنجر ہوتی چلی گئی۔ چیری کے درخت، خوبانی اور دیگر پھلوں کے باغات پانی نہ ملنے کے باعث سوکھ گئے۔ کسان اپنی محنت کو مرتا ہوا دیکھتے رہے اور حکومت تماشائی بنی رہی۔
ناصرآباد کے عوام نے بارہا متعلقہ محکموں کو آواز دی، درخواستیں دیں، دہائیاں دیں، مگر جواب میں صرف خاموشی ملی۔ یہ خاموشی محض لاپرواہی نہیں، یہ ایک اجتماعی جرم ہے۔ یہ کسانوں کے رزق پر ڈاکا ہے اور اس خطے کی زراعت کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
بطور اس دھرتی کا ذمہ دار شہری، یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہوں کہ کیا ناصرآباد کے عوام شہری نہیں؟ کیا ان کا حقِ آب، حقِ زندگی نہیں؟ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان، چیف سیکریٹری اور چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ کی یہ آئینی اور اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس تاخیر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں اور اس منصوبے کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کروائیں۔
یہ صرف ناصرآباد کا مسئلہ نہیں، یہ پورے گلگت بلتستان اور چترال کے کسانوں کا مسئلہ ہے۔ اگر آبپاشی کے منصوبے اسی طرح تاخیر کا شکار رہے تو آئندہ برسوں میں اربوں روپے کا زرعی نقصان ہوگا، جس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی۔
پانی زندگی ہے، اور زندگی کو یرغمال بنانا کسی بھی حکومت کیلئے ناقابلِ معافی جرم ہے۔ ناصرآباد آج سوال کر رہا ہے، کل شاید پورا گلگت بلتستان سوال کرے گا۔ بہتر ہے کہ اس سے پہلے حکومت جاگ جائے، ورنہ تاریخ اس خاموشی کو معاف نہیں کرےـ

IqbalEssaKhan@yahoo.com

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO