
شرافت کا روشن چراغ گل ہوگیا …تحریر: ناصر علی شاہ
عموماً کسی کی رحلت کے بعد ان کے بارے میں قلم اٹھانے کا حامی نہیں تاہم اس عظیم شخصیت کی زندگی کے دوران لکھنے کا ارادہ رکھتے ہوئے نہ لکھنا، شرمندگی کا باعث بنا،
اپر چترال بونی لشٹ سے تعلق رکھنے والا شاہ وزیر لال واقعی میں لال تھا وہ نام کا نہیں بلکہ اپنے پیکر وفا اور سوشل ورک کی وجہ سے لال تھا آپ کی شخصیت میں جھکاؤ گفتگو میں مٹھاس اور لہجے میں ٹھہراؤ اور چہرے میں مسکراہٹ تھا جو آج کل کے ہنگامہ خیز دور میں نایاب ہے۔
ایسے ماحول جہاں بدزبانی عام ہو اور لوگ بات بات پر دست و گریباں ہونے کو اپنی شان سمجھتے ہو، انہوں نے حلیمی، بردباری اور انسانیت کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ وہ کانٹوں کے درمیان رہ کر بھی اپنی خوشبو بکھیرتے رہے؛ نہ کبھی تلخی کا جواب تلخی سے دیا اور نہ ہی کسی کی بدسلوکی کو اپنی فطرت بدلنے کا جواز بننے دیا۔ ان کی زندگی اس بات کی گواہ تھی کہ شرافت کمزوری نہیں بلکہ ایک ایسی خاموش طاقت ہے جو بڑے سے بڑے طوفان کا رخ موڑ دیتی ہے۔
اس عظیم شخصیت کو بڑے قریب سے دیکھا آپ کی بڑی خوبی جس کا معترف رہا وہ یہ کہ آپ اشتعال انگیزی کے باوجود خاموشی اور مسکراہٹ کو ڈھال بنائے رکھتا تھا نفرت کے بدلے ہمیشہ محبت بانٹی، کدورت کے بجائے دل صاف رکھا اور خوش اخلاقی کو شعار بنائے رکھا
شاہ وزیر لال مشکل دور میں بہترین سوشل ورکر تھے آپ نے لوگوں کو متحرک رکھنے کی بھرپور کوشش کی اور عملی کام دیکھ کر نمبردار نہ کہا جائے نا انصافی ہوگی
آج وہ ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ان کی چھوڑی ہوئی “شرافت کی روایت” ان تمام لوگوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے جو تلخ حالات میں بھی اچھا انسان بن کر جینا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ (آمین)
