
جو کچھ بننا چاہتے ہیں۔۔اس جیسا کام کرنا ہوگا ۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔۔محمڈ اقبال شاکر
اپنی ہستی کو قائم رکھنے کے لیے جدو جہد کرنا ایک اٹل قانون ہے جو لوگ سعی یا کوشش کرتے ہیں ان کی
ہستی وجود میں آتی ہے اور جو لوگ ایسا نہیں کرتے ان کی ہستی بلکل مٹ جاتی ہے کائنات کی دوڑ میں وہی شخص آگے بڑھ سکتا ہےجو محنت و استقلال کے گھوڑے پر سوار ہوکر عقل سالم کا تازیانہ ہاتھ میں رکھتا ہو سانس کی طرح چلے منزل ہستی میں بشر۔۔مدعا یہ ہے کہ دم بھر بھی بیکار نہ ہو۔۔خاموشی اور استقلال سے کئے جانے والے کام کا اثر ہوتا ہے حق تو یہ ہے کہ محنت اور صبر کچھ عجب سر چڑھ کر بولنے والا جادو ہے ۔
اس کائنات کا نظام جو اتنی بڑی ہستی چلا رہی ہے وہ سارا نظام ایک ہی ہستی کے حکم پر وقت پر چل رہا ہے دنیا کا سارا نظام ایک خاص تربیت اورمنظم طریقے
سے اپنی منزل کی طرف روانہ دوان ہے زندگی صرف کامیابیوں کا نام نہیں بلکہ مسلسل محنت ،جدو جہد اور جنگ کا نام ہے جو بندہ محنت و مشقت کو اپنا لیتا ہے فتح ونصرت کا تاج اس کے سر پر ہی سجتا ہے ۔زندگی کی دوڑ دھوپ ،مصائب و مشکلات اور نشیب و فراز سے بھری ہوئی ہے صرف محنت ومشقت ہی کے زریعے سے انسان ان مشکلات پر قابو پا سکتا ہے زندگی کے ہر راستے کیلے محنت لازمی اور ضروری ہے محنت ہی سے اپنی زندگی اور معاشرے کی زندگی کی نشونما کرسکتا ہے ۔
وقت اور محنت انسان کے پاس صندوق میں پڑے مال و دولت ہیں جو ہر کسی کو اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے کوئی فرد جب چاہے اپنی مرضی سے خرچ کر سکتا ہے کتا ملے گا کس جگہ ملے گا وہ آپ کی محنت پر انحصار کرتا ہے ہر انسان کی زندگی اس کی کام اور وقت کے مطابق ہوتی ہے جو کچھ آپ بننا چاہتے ہیں اس جیسا کام کرنا پڑے گا جب تک ایسا نہیں کریں گے آپ کی خواہش آپکا خواب کھبی پورا نہیں ہو سکتا ۔
ہم اس دنیا میں محض دل بہلانے،خیالی دنیا میں چکر لگانے،سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے کیلے نہیں بلکہ ہمیں محنت کرنا ہے محنت کرنی ہے کیونکہ یہ عطیہ خداوندی ہے محنت انسان کی فطرت میں داخل ہے جب کسی نے ایمانداری سے محنت نبھائی ہے وہ منزل پہ ضرور پہنچا ہے تاریخ کے عظیم لوگ جو تاریخ کے دامن میں شہاب ثاقب کی طرح جگمگا رہے ہیں ان سب نے بھر پور زندگی گزاری اور عروج اس وقت نازل ہوا جب انہوں نے اپنے کام اور نصب العین کیلے ہر طرح سے محنت کی پائدار کا میابی اور عظمت کیلئے کوئی مختصر راستہ نہیں محنت اور محنت کا اصول ہی کو ہی منزل مراد کی نوید سمجھا ۔۔
انسان جو کجھ بننا چاہے بن سکتا ہے لہذا اپنی ترقی اور بہبودی کے معمار آپ بنو جیسی عمارت دوسرا تمہارے لئے ہر گز نہیں بنا سکے گا ۔ تمہاری مدد کیلے تمہاری دونوں ہاتھ کافی ہیں جسمانی طاقت سے روحانی طاقت کے ماتحت کام لو آفات آسمانی بھی رحمت یزدانی بن جائیں گے ۔دنیا جدو جہد کا ایک وسیع میدان ہے جس میں ترقی کے لا انتہا راستے ہر طرف کھلے ہیں یہ تمہارے اختیار میں ہے کہ محنت اور کوشش سے ان راستوں کو طئے کرکے منزل مقصود میں پہنچ جاؤ ۔۔۔
ہے دیانت زندگی کی سعی انسان تابہ گور۔۔
خود بخود بے موت مر جانا خیانت ہے ضرور۔۔
