آواز اقبال

قراقرم ہائی وے پر حادثات کے پیچھے چھپے تلخ حقائق

تحریر: اقبال عیسی خان

قراقرم ہائی وے پاکستان اور خصوصاً گلگت بلتستان کے لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کا ربط ہے مگر یہی شاہراہ کئی بار انسانیت کی آزمائش بھی بنتی ہے۔ اعداد و شمار ہمارے سامنے واضح تصویر پیش کرتے ہیں کہ پاکستان میں روڈ ٹریفک حادثات کی شرح بہت زیادہ ہے اور 2021 میں 10,379 حادثات میں 5,608 افراد ہلاک ہوئے جو کہ ہر پانچ منٹ بعد ایک فرد کی موت کے برابر ہیں۔ گلگت بلتستان میں Rescue 1122 کے اعداد و شمار کے مطابق 517 روڈ ٹریفک حادثات میں 54 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ 589 افراد زخمی ہوئے ہیں جس میں سکردو اور گلگت جیسے اضلاع نمایاں ہیں۔

ہم نے حال ہی میں قراقرم ہائی وے کے مختلف حصوں میں روڑ پر برف جمنے کی وجہ سے کم از کم آٹھ گاڑیوں کے پھسلنے کے واقعات ہوئے ہیں، جن میں نگر، سکردو، دیامر، گانچھے، ہنزہ، استور اور غذر جیسے اضلاع شامل ہیں، جہاں موسم سرما میں برف کے جماؤ نے سڑک کو خطرناک پھسلن میں بدل دیا۔ ایسے واقعات صرف موسمیاتی صورت حال نہیں بلکہ ہمارے انتظامی فیصلوں کی غیر موجودگی، ڈرائیوروں کی تربیت کی کمی اور بنیادی انفراسٹرکچر کی غفلت کا نتیجہ بھی ہیں۔

گلگت بلتستان کی جغرافیائی ساخت خود ایک چیلنج ہے، شدید برف باری، بارش اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے قدرتی عوامل نہ صرف سڑکوں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ڈرائیوروں کے لیے شدید خطرات پیدا کرتے ہیں۔ متعدد مقامات پر شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ نے شاہراہ کو بلاک کر دیا ہے، جس سے ٹریفک کئی گھنٹوں تک معطل رہی ہے اور مسافر شدید مشکلات کا شکار ہوئے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اس خطے میں مزید نمایاں ہو رہے ہیں اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کے بڑھنے سے شاہراہ کے کنارے بہت سی جگہیں غیر مستحکم ہو چکی ہیں ـ
ان قدرتی خطرات کے ساتھ ساتھ انسانی غلطیاں ان حادثات کے پیچھے ایک بڑا سبب ہیں۔ روڈ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی مثلاً رفتار کی حد سے تجاوز، غیر لائسنس یافتہ ڈرائیونگ، اوور ٹیکنگ اور حفاظتی آلات کا استعمال نہ کرنا عام ہیں جو حادثات کے امکانات کو بہت بڑھا دیتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ حادثات میں 70 فیصد سے زائد واقعات ڈرائیور کی غلطی یا غیر ذمہ داری کے باعث ہوتے ہیں، جیسے منشیات یا نشے میں ڈرائیونگ، موبائل فون کا استعمال اور مناسب تربیت نہ ہونا۔

ایک اور اہم وجہ گاڑیوں کی ناقص تکنیکی حالت اور سڑک کی بے توقیری ہے۔ قراقرم ہائی وے اور ملحقہ سڑکوں کے متعدد حصوں پر حفاظتی نشانیاں، مضبوط ریلنگز یا لین مارکس کا فقدان ہے جس سے خطرناک موڑوں اور کھڑی ڈھلوانوں پر حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک سرکاری تجزیے میں بھی سامنے آیا ہے کہ متعدد مقامات پر سڑک کے معیار میں بہتری اور حفاظتی اقدامات کی کمی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔
ان پیچیدہ اور ہم آہنگ مسائل کا حل صرف ایک شعبے یا ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ مربوط حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے ٹریفک قوانین کا سخت اور مستقل نفاذ یقینی بنانا ہوگا، رفتار کی حدوں، لائسنس و منشیات کی چیکنگ، حفاظتی بیلٹ اور ہیلمٹ جیسے اقدامات کو صرف قوانین کی شکل میں نہیں بلکہ روزمرہ کے عمل کا حصہ بنانا ہوگا۔ ہم حقیقی وقت موسم کی پیش گوئی، جدید سنو کلیرنس مشینری، اور شاہراہ کی مستقل نگرانی کو عملی جامہ پہنا کر موسم سرما میں برف کے خطرات کو کم کر سکتے ہیں، جیسا کہ کئی ترقی یافتہ ممالک میں کیا جاتا ہے۔

ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے لیے روڈ سیفٹی تربیتی پروگرام، دفاعی ڈرائیونگ کورسز اور اہلیت کے امتحانات کو لازمی بنانا نہ صرف حادثات کی شرح گھٹائے گا بلکہ ایک سڑک حفاظتی ثقافت کو فروغ دے گا جہاں ہر فرد اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دے۔ ہمیں فوری طور پر روڈ انفراسٹرکچر میں بہتری، ایمرجنسی سروسز کی بہتر فراہمی اور مقامی کمیونٹی کو سرگرم کرکے ایک پائیدار حکمت عملی اپنانا ہوگا جس میں ہر حادثہ کے بعد ردعمل کے بجائے پیشگی بچاؤ اولین ترجیح ہو۔

قراقرم ہائی وے پاکستان کی ترقی اور گلگت بلتستان کے مستقبل کی علامت ہے مگر اگر ہم اس شاہراہ پر انسانی زندگیوں کی حفاظت کو سب سے اوپر نہیں رکھیں گے، تو یہی ربط ہمیں بے تحاشا نقصان اور درد کے اوراق کی شکل میں واپس لوٹائے گا۔ ہمیں اب وہ وقت ہے جب ہم اپنے فیصلوں، نظم و ضبط اور مشترکہ کوششوں سے ایک محفوظ، ذمہ دار اور باشعور سڑک ثقافت قائم کریں تاکہ ہر فرد گھر کو واپس سلامت پہنچنے کا حق جیت سکے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO