آواز اقبال

سسٹین ایبلٹی Sustainability کیا ہے؟ کیوں ضروری ہے؟ اور ہمیں کیسے عالمی خطرات سے بچا سکتی ہے؟

سسٹین ایبلٹی Sustainability کیا ہے؟ کیوں ضروری ہے؟ اور ہمیں کیسے عالمی خطرات سے بچا سکتی ہے؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ Sustainability کیا ہے؟ آج کی روزمرہ زندگی میں ہم ہر طرف، ہر جگہ “Sustainability” کے بارے میں سنتے ہیں، لیکن اکثر یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ اصطلاح ہمارے لیے کیوں اتنی اہم ہے اور ہماری روزمرہ زندگی میں یہ کس طرح اثر ڈالتی ہے۔ “سسٹین ایبلٹی” پائیداری محض ایک فیشن ایبل لفظ نہیں بلکہ ایک عملی فلسفہ ہے، جو ہمارے روزمرہ فیصلوں، معیشت کی مضبوطی اور زمین کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔
سادہ الفاظ میں Sustainability یا پائیداری کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی ضروریات اس انداز میں پوری کریں کہ آنے والی نسلوں کے وسائل محفوظ رہیں۔ یہ صرف ماحولیات تک محدود نہیں بلکہ ہمارے طرزِ زندگی، کاروبار، تعلیم اور سماج کے درمیان توازن قائم کرنے کا فلسفہ ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ہم آج پانی یا بجلی ضائع کرتے ہیں تو کل آنے والی نسل کے لیے یہ وسائل کم ہو جائیں گے، یا اگر ہم فضلہ مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگائیں تو شہر اور ماحول متاثر ہوں گے۔
اس اصطلاح کو عالمی سطح پر 1987 میں اقوام متحدہ کی Brundtland Report میں متعارف کرایا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی جڑیں انسانی تاریخ میں بہت گہری ہیں۔ قدیم معاشرے زمین، پانی اور جنگلات کو امانت سمجھتے تھے اور وسائل کے غیر محتاط استعمال سے بچتے تھے۔ صنعتی انقلاب کے بعد ترقی کو صرف منافع، پیداوار اور رفتار سے ناپا جانے لگا، تو انسانی معاشرہ اور فطرت کے درمیان توازن بگڑ گیا اور Sustainability کی ضرورت عالمی سطح پر ابھر کر سامنے آئی۔
سائنسی حقائق اس ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔ عالمی درجہ حرارت صنعتی دور کے بعد تقریباً 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو شدید موسمی تبدیلیاں، سیلاب، خشک سالی اور غذائی قلت عام ہو جائیں گی۔ ہم ہر سال زمین کی قدرتی بحالی کی صلاحیت سے تقریباً 70 فیصد زیادہ وسائل استعمال کر رہے ہیں، یعنی ہم کل کے وسائل آج ہی خرچ کر رہے ہیں۔ یہ صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی اور سماجی چیلنج بھی ہے۔
پائیداری کے تین بنیادی ستون ہیں؛ 1. ماحولیاتی، 2. معاشی اور 3. سماجی۔ ماحولیاتی پائیداری میں صاف پانی، ہوا اور قدرتی وسائل کا تحفظ شامل ہے۔ معاشی پائیداری اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ترقی طویل مدتی بنیادوں پر ہو اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں، جبکہ سماجی پائیداری تعلیم، صحت، انصاف اور انسانی وقار کو ہر فرد کے لیے ممکن بناتی ہے۔ اگر ہم ان تینوں ستونوں پر توجہ نہ دیں تو ترقی دیرپا نہیں رہ سکتی۔
دنیا بھر کی مثالیں یہ واضح کرتی ہیں کہ Sustainability محض نظریہ نہیں بلکہ عملی حکمتِ عملی ہے۔ جرمنی نے قابل تجدید توانائی پر کام کر کے کاربن اخراج کم کیا اور لاکھوں نئی نوکریاں پیدا کیں۔ ناروے نے الیکٹرک گاڑیوں اور صاف توانائی کے منصوبے اپنائے اور ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ معیشت کو بھی مستحکم بنایا۔ ترقی پذیر ممالک میں کمیونٹی لیول پر جنگلات کی بحالی، پانی کے تحفظ اور پائیدار زراعت نے مقامی معیشتیں مضبوط کیں اور معیارِ زندگی بہتر بنایا۔ یہ کامیابیاں ظاہر کرتی ہیں کہ درست قیادت، عوامی شمولیت اور سائنسی سوچ سے حقیقی تبدیلی ممکن ہے۔
اگر Sustainability کو نظرانداز کیا جائے تو خطرات سنگین ہیں۔ پانی اور خوراک کی کمی، موسمی ہجرت، معاشی عدم استحکام، بے روزگاری اور سماجی بے چینی ایسے مسائل ہیں جو دنیا کے کئی حصوں میں پہلے ہی نظر آ رہے ہیں۔ اگر پالیسی ساز قلیل مدتی فائدے کو ترجیح دیں، کاروبار صرف منافع کو معیار بنائیں اور افراد اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی نہ لائیں تو کل کی دنیا غیر محفوظ اور غیر مستحکم ہو جائے گی۔
اسی لیے Sustainability کو سمجھنا اور ہر سطح پر نافذ کرنا ناگزیر ہے۔ روزمرہ زندگی میں چھوٹی مثالیں بھی اہم ہیں؛ پانی اور بجلی کو ضائع نہ کرنا، پلاسٹک کا کم استعمال، پودے لگانا، مقامی پیداوار کو ترجیح دینا اور فضلہ ری سائیکل کرنا۔ تعلیم میں پائیدار سوچ کو شامل کرنا، پالیسی سازی میں سائنسی شواہد کو بنیاد بنانا اور کاروبار میں ذمہ دارانہ پیداوار کو فروغ دینا وہ عملی اقدامات ہیں جو آج اختیار کرنے ہوں گے۔ یہ قربانی نہیں بلکہ مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔
پائیداری ہمارے شعور، ہماری قیادت اور ہماری اخلاقی ذمہ داری کا امتحان ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم زمین کے مالک نہیں بلکہ اس کے نگہبان ہیں۔ اگر ہم آج دانش، بصیرت اور جذباتی وابستگی کے ساتھ فیصلے کریں تو آنے والی نسلیں نہ صرف ہمیں یاد رکھیں گی بلکہ ایک محفوظ، متوازن اور خوشحال دنیا دینے پر شکر گزار بھی ہوں گی۔ یہی Sustainability کی اصل روح ہے اور یہی ہمارے زمانے کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
کالم نگار اقبال عیسیٰ خان اسٹریٹیجسٹ، بزنس کنسلٹنٹ اور ایڈوائزر ہیں۔ انہوں نے یونی لیور پاکستان لمیٹڈ، ہلال فوڈز، نوول اپس، سیٹس، کے بی ایس ورلڈ، ڈی این جی سمیت متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ کلیدی ذمہ داریاں انجام دی ہیں۔ وہ ڈیولپ اینڈ گرو انٹرنیشنل اور ٹوورسٹی کے بانی ہیں اور گلگت بلتستان سمیت قومی سطح پر مختلف سماجی و فلاحی تنظیموں کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس وقت شناکی ملٹی پرپز کوآپریٹو سوسائٹی کے صدر اور ہنزہ گلگت سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

IqbalEssaKhan@yahoo.com

 

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock