
وادی چپورسن پکار رہا ہے، کیا کوئی سننے والا ہے؟
وادی چپورسن پکار رہا ہے، کیا کوئی سننے والا ہے؟
کیا کوئی عملی طور پر وادی چپورسن کے زلزلہ متاثرین کی مدد کرے گا یا اس بار بھی صرف بیانات ہی دیے جائیں گے؟
یہ سوال آج وادی چپورسن کی منجمد فضاؤں میں گونج رہا ہے۔ یہ کوئی تجزیاتی سوال نہیں، یہ ان ماؤں کی آہ ہے جو کھلے آسمان تلے بچوں کو سینے سے لگائے بیٹھی ہیں۔ یہ ان بزرگوں کی خاموش فریاد ہے جن کی سانسیں سردی کی شدت میں لرز رہی ہیں۔ یہ ان نوجوانوں کی چیخ ہے جو بغیر آلات، بغیر وسائل، صرف جذبے کے سہارے اپنے لوگوں کی مدد میں کھڑے ہیں۔
درجہ حرارت منفی پندرہ سے منفی پچیس ڈگری سینٹی گریڈ تک جا چکا ہے۔ یہ محض موسم کی خبر نہیں، یہ زندگی اور موت کے درمیان کھڑی ایک حقیقت ہے۔ زلزلے نے گھروں کو ناقابل رہائش بنا دیا ہے۔ دیواریں کھڑی ہیں مگر تحفظ ختم ہو چکا ہے۔ چھتیں موجود ہیں مگر اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ لوگ خیموں میں نہیں، کھلے آسمان تلے ہیں، جہاں ہر آفٹر شاک کے ساتھ خوف دوبارہ جنم لیتا ہے اور ہر سرد رات جسم اور حوصلہ دونوں کو منجمد کر دیتی ہے۔
بچے سردی سے نیلے پڑ رہے ہیں، خواتین مسلسل خوف اور بے بسی کے عالم میں ہیں، بزرگ جن کی زندگی کا بیشتر حصہ اس وادی میں گزرا، آج سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ ایک طرف مسلسل زلزلے، دوسری طرف شدید سردی۔ یہ دوہرا عذاب ہے، جس کا مقابلہ خالی ہاتھ نہیں کیا جا سکتا۔
سڑکیں بند ہیں۔ امداد رک گئی ہے۔ کچھ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد ضرور دی گئی، مگر یہ کافی نہیں۔ انہیں تفصیلی طبی معائنوں کی ضرورت ہے۔ سرد موسم میں معمولی چوٹ بھی جان لیوا ہو سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ صحت کا نظام کہاں ہے؟ ایمبولینس کہاں ہیں؟ ڈاکٹر اور طبی ٹیمیں کب پہنچیں گی؟
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ متعلقہ محکمے، چاہے وہ سرکاری ہوں یا غیر سرکاری، اس وقت بھی خاموش ہیں۔ جیسے یہ سانحہ کسی دور دراز نقشے پر بنا ایک نشان ہو، جہاں انسانی جانوں کی قیمت کم ہو جاتی ہے۔ اس خلا کو اس وقت صرف مقامی رضاکار پُر کر رہے ہیں۔ وہی نوجوان، وہی دیہاتی، جن کے پاس نہ مشینری ہے، نہ حفاظتی آلات، نہ مناسب وسائل۔ صرف ایک چیز ہے اور وہ ہے ذمہ داری کا احساس۔
لیکن جذبہ اکیلا کافی نہیں ہوتا۔ بند سڑکیں جذبے سے نہیں کھلتیں، ملبہ ہاتھوں سے نہیں ہٹتا، بحالی صرف دعاؤں سے نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ریاستی مشینری درکار ہے۔ اس کے لیے فیصلہ سازی، فوری احکامات اور میدان میں موجودگی ضروری ہے۔
یہ براہ راست پکار ہے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے لیے، چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کے لیے، ڈی جی جی بی ڈی ایم اے کے لیے۔ یہ اپیل ہے آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک، آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ کے ریجنل ہیڈ، محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کے لیے۔ وقت بیانات کا نہیں، عمل کا ہے۔ وقت فائلوں کا نہیں، فیلڈ کا ہے۔
مشینری فوراً روانہ کی جائے تاکہ سڑکیں کھل سکیں۔ عارضی مگر محفوظ رہائش فراہم کی جائے۔ ہیٹر، کمبل، خیمے اور خوراک پہنچائی جائے۔ میڈیکل ٹیمیں تعینات ہوں، خاص طور پر بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے۔ بحالی کا واضح اور فوری منصوبہ سامنے لایا جائے تاکہ لوگ یہ جان سکیں کہ ریاست انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔
چپورسن کے لوگ کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ صرف وہی مانگ رہے ہیں جو ایک شہری کا بنیادی حق ہے۔ تحفظ، علاج اور عزت کے ساتھ جینے کا حق۔
اگر اس بار بھی جواب صرف بیانات کی صورت میں آیا، تو یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہوگی، یہ ایک اخلاقی شکست ہوگی۔ تاریخ یاد رکھتی ہے کہ مشکل وقت میں کون کھڑا ہوا اور کون خاموش رہا۔ فیصلہ آج ہونا ہے، کیونکہ چپورسن میں سردی انتظار نہیں کرتی، اور زندگی بھی نہیں۔
IqbalEssaKhan@yahoo.com
