کاوشات اقبال

کراچی حادثہ سانحہ بن گیا۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔..محمد اقبال شاکر

شہرکراچی سب کا شہر ہے غریبوں کا شہر ہے غریبوں کو بساتی ہے پالتی ہے جو ایک بار جاتا ہے اس کا ہو جاتا ہے پاکستان کا بڑا شہر ہونے کے علاؤہ مواصلاتی صنعتی ،تجارتی،تعلیمی اور اقتصادی مرکز کی اہمیت بھی اسی شہر کو ہی حاصل ہے اور دنیا کا چھٹا شہر بھی اس کو ہی حاصل ہے یہ شہر دریائے سندھ کے مغرب میں بحیرہ عرب کے شمالی ساحل پر واقع ہے اور اس سے بندرگاہ اور ہوائی اڈہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے یہ شہر 1947سے9160 تک دارالخلافہ بھی رہا ہے قدیم ماہی گیروں کی یہ بستی کولاجی تھا جو آہستہ آہستہ کراچی بن گیا ۔
انگریزی دور غالباً انسویں صدی میں اس شہر کی تعمیر وترقی کی بنیاد ڈالی اور 1947کو پاکستان نوزائیدہ ملک کا دارالحکومت بن گیا اس وجہ سے کراچی میں ان علاقوں سے جو بھارت کا بن گئے تھے لاکھوں مہاجرین ہجرت کر کے آئے بندرگاہ ہونے کی وجہ سے شہر میں صنعتی سرگرمیاں دوسرے شہروں کی نسبت پہلے شروع ہوگئیں اور اس شہر کی آبادی اور معشیت کی ترقی کی رفتار کم نہیں ہوئی ۔
پاکستان سے لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی کا رخ کرتے ہیں اور اس وجہ سے مذہبی ،نسلی اور لسانی گروہ آباد ہیں کراچی کو چھوٹا پاکستان بھی کہتے ہیں ان گروہوں کی باہمی کشیدگی کی وجہ سے 80 اور 90 کی دہائیوں میں کراچی لسانی فسادات ،تشدد اور دہشت گردی کا شکار رہا اب الحمدللہ کراچی کا آمن و امان کافی بہتر ہے۔۔
کراچی کی کسمپرسی میں دہائیوں کا سیاسی عدم استحکام ،مہاجر ین کی امد،منظم جرائم ،لینڈ مافیا کا غلبہ اور بنیادی انفراسٹرکچر جیسے پانی ،ٹرانسپورٹ،
سیوریج کی ناقص منصوبہ بندی اور انتظامیہ شامل ہیں جس سے شہر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا حالانکہ یہ پاکستان کا شہر اور تجارتی مرکز ہے۔۔۔۔
کراچی ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ سے بڑی تباہی ہوئی تین دن تک آگ پہ قابو نہ پانے سے پورا پلازہ انسانی زندگی کو لےکر راکھ کا ڈھیر بن گیا اور اب تک 61 افراد جل کر راکھ کا ڈھیر جبکہ 50 افراد لاپتہ ہیں ۔یہ عمارت 1980میں تعمیر کیا گیا تھا اور 1998 اس میں اضافی عمارت تعمیر کی گئی جو 1021 کی بجائے 1200 کر دی گئی اس کی تعمیر میں بلڈنگ سیفٹی کا کوئی بھی خیال نہ رکھا گیا سیفٹی کی نسبت دوکانوں کی تعداد کو بڑھایا گیا سیفٹی ضرورت
اوراستعداد محدود رکھا گیا جس کی وجہ سے یہ حادثہ بڑے سانحے کا سبب بنا۔
پاکستان کے دوسرے شہروں میں بھی ایسے شاپنگ مال اور پلازے موجود ہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سب مل کر ان کا ایڈیٹ اور
چیکینگ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے جہاں کمی پائی گئی ان کی فوری بحالی اور ان کے خلاف قانون کے مطابق فوری عمل اشد ضروری ہے ورنہ ایسا حادثہ
بڑے حادثوں کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔۔
چار کروڑ کی یہ آبادی دن رات جلتا رہا اور ہزاروں لوگوں کا روزگار اور زندگیاں نذر آتش ہوئیں اور کوئی کچھ نہ کرسکا اگر پہلے سے سب آپنی آپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے نبہاتے تو شاید اس بہیانک سانحے سے اہل کراچی بچ سکتے۔۔ کراچی ہم سب کا ہے اس کی خوشحال کی ڈور کون نہیں کھینچتا سب اس سے مستفید ہوتے ہیں تو سب مل کر اپنے محسن شہر کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں کراچی ہم سب کو پالتا ہے تو ہم سب مل کر کراچی کو کیون نہیں پالتے۔۔؟؟
اہل پاکستان سانحہ گل پلازہ کے شہیدوں کیلے دعاگو اور اشکبار ہے ۔۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO