
دھڑکنوں کی زبان۔۔تشنہ لبی۔۔محمد جاوید حیات
آج دسویں جماعت کانتیجہ آرہا ہے۔ اویس دسویں جماعت کا طالب علم ہے۔ اس کے والد نے اسے بمشکل سرکاری سکول میں دسویں تک پڑھایا ہے۔ اس کے پاس سفید ڈرل کے کپڑوں کا صرف ایک ہی جوڑا ہے، جسے ماں جی دو دو دن بعد بغیر صابن اور سرف کے محض پانی سے دھوتی تھیں۔
اویس خوبرو، ہنس مکھ اور باصلاحیت بچہ تھا۔ کھیل کا ہر میدان اس کے بغیر سنسان لگتا۔ وہ سکول کی فٹ بال، والی بال اور کرکٹ کی ٹیم میں نہ کھیلتا تو ٹیم کا ہارنا یقینی ہوتا۔ وہ ایک ایسا کھلاڑی تھا جو ہار کر بھی مسکراتا اور جیت کر بھی سنجیدہ رہتا؛ گول کر کے بھی خاموش اپنی جگہ کھڑا رہتا اور چھکا مار کر بھی پرسکون رہتا۔ صبح کی اسمبلی میں تلاوتِ کلامِ پاک کرتا، نعت پڑھتا اور ملی نغمے سناتا۔ اگر کوئی افسر کلاس روم میں معائنہ کے لیے آتا تو وہ فوراً ہر سوال کا درست جواب دیتا۔
اویس کی اگر کوئی کمزوری تھی تو وہ اس کے باپ کی بے چارگی تھی۔ اس کا باپ ایک غریب، بوڑھا اور معذور دیہاڑی دار مزدور تھا۔ گھر میں بمشکل چائے اور سوکھی روٹی میسر آتی، اکثر فاقوں کا سامنا ہوتا، مگر اویس نے کبھی اس کی پروا نہیں کی کہ اسے ناشتے میں کیا ملا یا دوپہر کا کھانا کھایا بھی ہے یا نہیں۔ جوتے نئے ہیں یا پھٹے ہوئے—اس کی دنیا ہی الگ تھی۔ وہ مسکراتا اور زندگی کی جنگ لڑتا۔
وہ ہمیشہ اپنی کلاس اور سکول میں اول آتا رہا تھا۔ آج بھی جب بورڈ کے امتحان کا نتیجہ آیا تو بورڈ کے نمایاں دس پوزیشن ہولڈرز میں اس کا نام شامل تھا، مگر اسے مبارکباد دینے والا کوئی نہ تھا!
سوشل میڈیا پر اس کی کامیابی کی پوسٹ لگانے والا کوئی نہ تھا، وہ کسی کا غرور نہ تھا، اس نے (ظاہری طور پر) کسی کا سر فخر سے بلند نہیں کیا تھا اور نہ ہی کسی کا نام روشن کیا تھا۔ وہ خاموش تھا اور ایک تلخ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر پھیل جاتی کیونکہ آگے اس کے لیے کوئی منزل نظر نہیں آ رہی تھی۔
ہفتہ دس دن اس نے انتظار کیا کہ شاید کوئی پبلک کالج، کوئی تعلیمی ادارہ یا کوئی پرنسپل اس سے رابطہ کرے گا، وہ اس کے ادارے کا مان بنے گا اور اس کا نام روشن کرے گا۔ ایک دن اس کے ایک استاد نے کلاس روم میں صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا:
“ٹیسلا اور مارکونی بھی عام سے لوگ تھے؛ نیلز بوہر، میکس پلانک، ہانس بیتھے، فرَمی اور پال ڈائریک جیسے سائنس دان بھی ابتدا میں معاشرے کے عام افراد ہی تھے۔ پھر اپنی محنت اور صلاحیت کے بل بوتے پر آگے بڑھے تو خاص بن گئے، بلکہ معاشرے، ملک اور پوری انسانیت کی ضرورت بن گئے۔ وہ ایسی خدمات انجام دے گئے کہ تاریخ کے درخشندہ ہیرے بن گئے۔
گیلیلیو سے کہا گیا کہ یا تو پھانسی پر لٹک جاؤ یا معافی مانگو۔ اس نے نادانوں سے بھرے ہال میں اپنے نظریے سے بظاہر انکار کیا اور معافی مانگ لی، لیکن باہر آ کر کہا: ‘میں ہزار بار بھی اپنے نظریے سے انکار کر دوں، تب بھی زمین سورج کے گرد ہی گھومتی رہے گی۔’
مغرب صلاحیتوں کی جنت ہے اور ہم صلاحیتوں کا قبرستان ہیں۔ آئن سٹائن جب اپنی ‘تھیوری آف ریلیٹیویٹی’ (نظریۂ اضافیت) پیش کر رہے تھے تو وہ ایک معمولی کلرک تھے۔ جب ان کا نظریہ سامنے آیا تو فوراً انہیں ایک بڑی لیبارٹری کا سربراہ بنا دیا گیا اور تمام وسائل ان کے لیے کھول دیے گئے۔ جبکہ ہمارے ہاں ان پڑھ لیڈر بنے گا اور پڑھا لکھا اس کا کلرک ہوگا! تعلیم کا وزیر کسی بچی کے انگریزی تبصرے پر حیران تو ہوگا، لیکن اس کا مطلب سمجھنے سے قاصر رہے گا۔”
استاد کی یہ باتیں مایوسی پھیلانے کے لیے نہیں تھیں بلکہ ایک قومی المیے کی تشریح تھیں۔ اویس اپنی صلاحیتوں سے مایوس نہیں ہوا تھا، لیکن اسے افسوس ضرور تھا۔
آج نتائج آنے کے بعد اویس کو یقین ہو گیا تھا کہ واقعی یہاں صلاحیتوں کی قدر نہیں ہے۔ اسے کسی ہمدم اور مسیحا کی آرزو تھی، لیکن یہ آرزو ادھوری ہی رہی۔ اس کے تعلیمی اخراجات اٹھانے والا کوئی نہ تھا اور اب باپ کا سہارا بننے کا وقت آ گیا تھا۔
کسی دن استاد نے یہ بھی کہا تھا:
“چھوٹے (کم وسائل والے) لوگوں کی منزل قریب ہوتی ہے کیونکہ ان کی سوچ کو محدود کر دیا جاتا ہے۔”
اویس کی سوچ محدود نہیں تھی، لیکن اپنے امیر ساتھیوں کے مقابلے میں اس کی عملی منزل قریب کر دی گئی تھی۔ اگر وہ کسی صاحبِ ثروت کا بیٹا ہوتا تو اس کی منزل ابھی کوسوں دور ہوتی؛ اسے ابھی مزید پڑھنا ہوتا، ڈاکٹر، انجینئر یا سی ایس ایس افسر بننا ہوتا۔
اویس نے آگے جا کر اپنی منزل کیسے پائی، یہ ایک الگ داستان ہے۔ وہ بڑا افسر بن تو گیا، لیکن اس کے دل کی یہ تلخی اور آرزوؤں کی تشنہ لبی کبھی ختم نہ ہوئی۔
معاشرے میں نہ جانے کتنے اویس تشنہ لب ہیں! کتنے ہی بچے تعلیم سے محروم بس اڈوں، فٹ پاتھوں، کھیل کے میدانوں اور جلسہ گاہوں میں پاپڑ، چیونگ گم، چپس، ٹافیاں اور بھٹے کندھے پر اٹھائے بیچ رہے ہیں۔ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ کلاس روم کیا ہوتا ہے، امتحان کس بلا کا نام ہے اور نتیجہ کون سا ڈراما ہے! انہیں یہ بھی خبر نہیں کہ ان پر حکومت کرنے والے ان کے حصے کا رزق اور حقوق کھا رہے ہیں۔
اس ملک کی تعمیر میں اویس کے باپ جیسے مزدوروں کا بہت بڑا حصہ ہے۔ وہ عمارتوں پر پلستر کرتا ہے؛ کتنی ہی عمارتیں اس نے اپنے ہاتھوں سے سجا رکھی ہیں جن میں سکول، دفاتر، عدالتیں اور عبادت گاہیں شامل ہیں۔ یہ سب ان کے ہاتھوں کی تراشی ہوئی تعمیرات ہیں، لیکن اس کے باوجود آج اویس توجہ اور دولت سے محروم ہے، اور اسی لیے تعلیم سے بھی محروم ہے۔
پھر یہ حکمران خود کو حکمران کیوں کہتے ہیں؟ دھن دولت والے خود کو دولت مند کیوں سمجھتے ہیں؟ کیا ثبوت ہے کہ وہ واقعی امیر ہیں؟ یہ حکمران آخر کس پر حکومت کر رہے ہیں؟ کیا ان کا اویس جیسے بچوں پر کوئی حق بنتا ہے؟ کل قیامت کے دن اگر اویس ان کا گریبان پکڑے گا تو کیا وہ بچ پائیں گے؟
اگر یہ انسانوں کا معاشرہ ہوتا تو آج اویس جیسا محرومِ ازل ایک بچہ بھی نہ ہوتا۔ اگر یہ واقعی ایک فلاحی ریاست ہوتی تو آج اویس اس ریاست کی آنکھ کا تارا ہوتا۔
ہم سب شکوہ کناں ہیں—ان فلک بوس عمارتوں کے مالکان سے، دفاتر میں بیٹھے فرعونوں سے اور حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے ان بے حسوں سے! وہ اپنے ارد گرد دیکھ کر بھی اندھے، سن کر بھی بہرے، دل کے پتھر اور اخلاق و کردار سے عاری کیوں ہیں؟ ان کے سامنے زندگی سسکتی ہے، انسانیت بے قدر ہوتی ہے اور ہیرے خاک میں مل جاتے ہیں، مگر ان کی کانوں میں جوئیں تک نہیں رینگتیں!
