
دھڑکنوں کی زبان..زندگی ایک سفر…محمد جاوید حیات
یہ سوکھے تنکے میری زندگی کے وہ خوشبودار پھول ہیں جن کی مہک میرے مشامِ جاں کو معطر کرتی رہتی ہے۔ ان سوکھے تنکوں کی عمر ایک سال ہو چکی ہے؛ یہ اس دن اور ان لمحوں کی یادگار ہیں جب ہائی اسکول واشچ میں میری ملازمت کا آخری دن تھا۔
رخصتی کی تقریب سجی تھی اور بچے اپنی عقیدت و محبت کے اظہار کے لیے اپنے وداع ہوتے ہوئے استاد کو تحائف، پھول اور ہار پیش کر رہے تھے۔ انہی بچوں میں چھٹی جماعت کی ایک ایسی بچی بھی آئی جس کے پرانے جوتوں، پیوند لگے کپڑوں اور افسردہ چہرے پر اکثر میری نظر جاتی تھی اور میں اس کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ اس کی معصومیت مجھے تڑپا دیتی تھی۔ میں اکثر سوچتا کہ اس کی جیب ٹٹولوں اور اس سے تفصیلاً پوچھوں کہ آج اس نے ناشتے میں کیا کھایا ہے؟ کہیں کالی چائے کے ساتھ سوکھی روٹی تو نہیں کھائی؟ میں سوچتا کہ اس کی جیب میں کبھی دس کا نوٹ بھی نہیں ہوتا ہوگا اور اس کے پرانے جوتے ہمیشہ پالش سے محروم ہی رہتے ہوں گے۔
مجھے یاد ہے کہ ایک عید پر میں نے اسے پاس بلا کر جوتے خریدنے کے لیے کچھ پیسے دیے تھے، مگر عید کے بعد بھی اس کے پاوں میں وہی پرانے جوتے تھے۔ میرے پوچھنے پر اس نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا اور سر جھکا لیا—گویا خاموشی سے کہہ رہی ہو: “سر! ابو نے ان پیسوں سے عید کے لیے کھانے پینے کا سامان خرید لیا تھا، یا شاید میرے چھوٹے بھائی کے کپڑے لے آئے تھے۔” جب اس کا سر جھکا ہوا تھا، اس وقت میری جیب خالی تھی۔ میں نے بھی افسردہ نظروں سے اسے دیکھا اور رخصت کر دیا۔ اس دن مجھے اپنی خالی جیب اور اپنی غربت پر بہت افسوس ہوا تھا۔
آج میری رخصتی کے آخری لمحات تھے۔ وہ بچی اپنے کھیت میں گئی اور ‘شفتل’ کے چند پھول توڑ کر ان کا ایک گلدستہ بنا لائی۔ اسے اپنے استاد کے لیے تحفہ لانا تھا! تقریب سے پہلے جب اس کے تمام ساتھی لہک لہک کر اپنے لائے ہوئے تحائف کے بارے میں بتا رہے تھے، وہ خاموش سنتی رہی تھی۔ اسے لگا تھا کہ اگر استاد کے لیے تحفہ نہ لایا جائے تو بڑا گناہ ہوگا، کچھ نہ کچھ لانا ضروری ہے۔ وہ اپنے گھر میں اس کا ذکر نہ کر سکی تھی، مگر اسے اپنا استاد بہت اچھا لگتا تھا۔ اسے اس بات کا شدید افسوس تھا کہ اس کے سر پھر کبھی اسکول نہیں آئیں گے اور ان کی جگہ کوئی اور استاد ہو گا۔ چنانچہ
اس نے خود ہی یہ گلدستہ تیار کیا تھا۔
اگلے دن وہ یہ گلدستہ اپنے استاد کو عقیدت کے طور پر پیش کر رہی تھی۔ وہ گلدستہ خلوص کا مینار اور محبت کا تاج محل تھا! اسکول کے ہیڈ ماسٹر، اساتذہ، طلبہ اور گاؤں کے معززین کی طرف سے مجھے پھول اور قیمتی تحائف پیش کیے جا رہے تھے۔ جب اس بچی نے سر جھکائے ہوئے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے وہ گلدستہ مجھے تھمایا، تو میں نے اسے وصول کر کے اپنے ایک ساتھی استاد کو دیتے ہوئے کہا: “اس گلدستے کا خاص خیال رکھنا۔”
وہ گلدستہ سیدھا میرے گھر پہنچا۔ اس شام جب میں اپنے گھر کے بڑے کمرے میں داخل ہوا تو تمام قیمتی تحائف بچوں کے سامنے بکھرے پڑے تھے، لیکن وہ ایک سادہ سا گلدستہ سب کے سامنے اس طرح رکھا تھا کہ اسے دیکھ کر گھر کے سبھی افراد کی آنکھیں نم تھیں اور وہ اس معصوم عقیدت پر قربان ہو رہے تھے۔
کسی نے گلدستے کی تعریف میں کیا خوب کہا ہے:
برگِ گل چوں شد بہ آئیں بستہ شد
گل بہ آئیں بستہ شد گلدستہ شد
(پھول کی پتیاں جب قاعدے اور قرینے سے باندھی جاتی ہیں، تو وہ گلدستہ بن جاتی ہیں)
مگر یہاں تو کوئی انہیں پھول کہنے کے لیے بھی تیار نہ ہوتا، کیونکہ وہ ‘گل’ کے زمرے میں آتے ہی نہیں تھے۔ وہ تو شفتل کے چند سوکھے تنکے تھے! لیکن وہ محبت اور خلوص کا وہ انمول تحفہ تھے جن کی معنوی خوشبو کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔
میں نے یہ گلدستہ اپنے کمرے میں سجا رکھا ہے۔ مجھے اس میں اپنی تدریسی زندگی کی اصل کمائی اور اپنا حقیقی مرتبہ نظر آتا ہے۔ کوئی بڑا شہنشاہ شاید اپنی رعایا کے دلوں میں رعب، دبدبے اور دولت کے بل بوتے پر مقام پیدا کر لے، مگر اس کی رعایا میں سے جو بھی اس کا احترام کرے گا، وہ خوف یا مرعوبیت کی بنا پر کرے گا۔ خالص عقیدت اور محبت کی بنیاد پر سر جھکا کر تنکوں کا تحفہ پیش نہیں کرے گا۔
مجھے اس موقع پر مشہور امریکی شاعرہ مَے برائنٹ (Mary Lou Bryant) کی نظم “The Blind Boy” کے وہ اشعار یاد آتے ہیں، جہاں ایک بصارت سے محروم بچہ ایک خاتون کے قدموں میں سوکھی ٹہنی رکھ دیتا ہے:
Then down the path a young boy ran,
Unaware of the worries of a man.
He stopped right there before my seat,
And placed a flower at my feet.
It was not a rose of vibrant red,
No fragrance from its petals spread,
Just a withered weed, a lifeless stalk,
He had gathered from the dusty walk.
شاعرہ کہتی ہے کہ میں حیران تھی کہ یہ کوئی خوبصورت پھول نہیں بلکہ ایک سوکھی ٹہنی ہے! لیکن جب وہ بچہ دوڑ کر آگے گیا تو معلوم ہوا کہ وہ دیکھ نہیں سکتا تھا، وہ تو محض محبت کے اظہار کے لیے ہر ایک کو کوئی ٹہنی پھول سمجھ کر تھما دیتا تھا۔
مجھے یہ سوکھا گلدستہ پیش کرنے والی میری معصوم طالبہ تھی! اس کی مجبوری یہ تھی کہ اس کے پاس دینے کے لیے کچھ نہ تھا، اور اسے یہ اندازہ بھی نہ تھا کہ اس کے اس سادہ سے تحفے کی میرے نزدیک کیا قدر و قیمت ہے…
یہ گلدستہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا اور مجھے ان لمحات کی یاد دلاتا رہے گا جب میں اپنی باقاعدہ معلمی کو وداع کہہ رہا تھا۔
وقت کی رفتار بھی کتنی تیز ہے… ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے کہ میں یہ قیمتی ترین گلدستہ وصول کر رہا تھا!
