دھڑکنوں کی زبان

دھڑکنوں کی زبان۔۔میرے بچے جواب مانگتے ہیں۔۔۔محمد جاوید حیات

​میرے ابو غضب کے قصہ گو تھے۔ قصہ کیا سناتے، اپنے اوپر گزرے واقعات کبھی افسردہ ہو کے، کبھی آب دیدہ ہو کے اور کبھی بڑے جذبے اور شادمانی سے سناتے۔ ان کی باتیں ہمیں اکثر قصے لگتیں، اس لیے کہ ہمارے ارد گرد ایسے کوئی زندہ کردار نہ تھے جو وہ سنایا کرتے تھے۔ وہ سارے کردار ہمیں خواب لگتے۔ جب ہم بڑے ہو گئے تو یہ بالکل افسانے لگنے لگے… وہ وفا، قربانی، خلوص، باہمی محبت اور دوسروں کے لیے ایثار، جن کا ذکر ابو کرتے تھے، ہمیں کہیں بھی ایسے سراپا کردار دیکھنے کو نہ ملے۔ اس لیے ہم سراپا سوال بن گئے۔
​ابو کا دور گزر چکا تھا، وہ کردار افسانے بن گئے تھے۔ وہ فرض شناسی، وہ صدق و صفا، وہ اخلاص اور قربانی کہیں نظر نہ آتی؛ ہاں البتہ یہ باتیں کتابوں میں ملتیں یا کلاس روم میں اساتذہ بتایا کرتے تھے۔ فرض شناسی کی باتیں ہوتیں، مگر گھنٹی بجنے سے دس منٹ پہلے استادِ محترم کلاس چھوڑ کے چلے جاتے یا پھر دیر سے آتے۔ بدعنوانی کو جرم کہا جاتا، مگر کلاس میں سامنے بیٹھے ہوؤں میں سے جب کوئی ڈاکٹر بنتا تو ہسپتال کی بجائے اپنے ذاتی کلینک میں جم کے بیٹھا رہتا اور مریضوں سے بھاری فیسیں بٹورتا۔ کوئی پی ایم ایس یا سی ایس ایس افسر بنتا تو فرعون بن جاتا اور کلاس روم کی وہ ساری باتیں بھلا بیٹھتا…
​ادب کے استاد کہا کرتے:
​”جو شخص کسی عہدے پر فائز ہونے کے بعد مغرور ہو جائے اور اختیارات کا غلط استعمال کرے، تو سمجھو یہ عہدہ اس کی شخصیت سے بڑا ہے۔ اور جو شخص عہدہ ملنے کے بعد مزید شائستہ اور منکسر المزاج بن جائے، تو سمجھو یہ عہدہ اس کی شخصیت سے چھوٹا ہے۔”
​اب تو ہر دفتر میں فرعون نظر آتا ہے۔ سوچ آتی ہے کہ کیا یہ سارے عہدے ان تمام شخصیات سے بڑے ہیں؟ کیا بارہویں سکیل کی ایس ایچ او شپ ایک انسان سے بڑا عہدہ ہے؟ کیا چوبیس لاکھ مربع میل پر پھیلی ہوئی خلافتِ راشدہ کا عہدہ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی شخصیت سے چھوٹا تھا؟ یہ سارے سوال اپنے اندر خود جواب بھی رکھتے تھے۔ ایس ایچ او والے سوال میں بھی جواب “ہاں” میں تھا اور حضرت فاروقِ اعظمؓ والے سوال میں بھی جواب “ہاں” میں تھا!
​المیہ یہ ہے کہ ہر شخص نے دوسرے کی اصلاح کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔ ہر کوئی سچ کی تلقین کرتا ہے، دیانت کی ترغیب دیتا ہے، کھرے پن کا گھن گاتا ہے اور اچھائی کے فائدے گنتا رہتا ہے، مگر اپنا کردار بھول جاتا ہے۔ دعوت و تبلیغ کے بڑے بڑے نام جب سفید جھوٹ بولتے ہیں اور حقوق العباد کی دھجیاں اڑاتے ہیں، تو اس کا اثر تبلیغی تحریکوں پر پڑتا ہے اور لوگ متنفر ہو جاتے ہیں۔ مذہبی جماعتوں کے قائدین کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ان کے کردار سے ان کی تنظیم اور نظریے کو کتنا نقصان پہنچتا ہے۔
​عہدے دار کے اختیارات نے اس کو فرعون بنا دیا ہے۔ یہ اختیارات دراصل ایک جال ہیں؛ بندہ جب اس جال میں پھنس جائے تو نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے ارد گرد خود بینی کا ایک ایسا پردہ تَن جاتا ہے کہ وہ اپنے علاوہ کسی کو دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کرتا۔ وہ یہ بھی گوارا نہیں کرتا کہ اس کے سوا کسی کی تعریف کی جائے، کسی کی اچھائی کو اچھائی، کسی کی صلاحیت کو صلاحیت، یا کسی کی شرافت کو شرافت کہا جائے۔ یہ نرگسیت عہدے کے ساتھ خود بخود چلی آتی ہے۔ ہمارے ہاں سارے عہدے موجود ہیں مگر ایک “انسانیت” کا عہدہ کسی کے پاس نہیں۔ عہدے دار سب کچھ بن جاتا ہے، مگر “انسان” نہیں رہتا؛ اس کی حرکات و سکنات انسانوں والی نہیں رہتیں۔ وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ انسان مجبورِ محض ہے۔
​یہ سب کچھ دیکھ کے میرے بچے مجھ سے سوال کرتے ہیں:
​”ابو! استادِ محترم کلاس میں جو فرماتے ہیں، کیا وہ سب درست ہے؟”
​”کیا اقبال نے واقعی ایسے ہی پاکستان کا خواب دیکھا تھا؟”
​”کیا قائدِ اعظم کے اصول واقعی ایمان، اتحاد اور تنظیم تھے؟”
​”کیا پاکستان کے آئین میں سارے اصول، ضوابط، قوانین اور احکامات لکھے ہوئے ہیں؟”
​”کیا اس جمہوریت کے بھی کچھ ثمرات ہیں جس کی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ ‘حکومت لوگوں کی، لوگوں کے لیے اور لوگوں کے ذریعے’؟”
​”کیا ووٹ واقعی ایک امانت ہے؟ کیا قومی خزانہ، اقتدار اور سیاست خدمتِ خلق کا نام ہیں؟”
​میں سر جھکائے ان کے سوالات سنتا ہوں، پھر سر اٹھا کر کہتا ہوں:
“تمہارے استاد کی باتیں بالکل درست ہیں، اس کے استاد نے اس کو یہی پڑھایا ہوگا… اور پھر ان سب باتوں کو پڑھانے کے لیے اس کو تنخواہ ملتی ہے۔”
​میرے بچے چونکتے ہیں:
“ابو! تو پھر یہ جلسوں، ایوانوں اور مذاکروں میں جو لوگ جھوٹ بولتے ہیں، ان کو کیا ملتا ہے؟”
“بچو! ان کو اقتدار، اختیار اور شہرت ملتی ہے۔ وہ اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں یا سچ، بس ان کو بولنا ہوتا ہے۔”
“ابو! تو پھر کیا ہم کسی کی بات کا یقین نہ کریں؟”
“بچو! باتوں پر یقین کرو، مگر ان کے عمل کی امید نہ رکھو! اور تم خود کبھی جھوٹ مت بولنا، ورنہ لاجواب ہو جاؤ گے۔ سچ تلخ ہوتا ہے، لیکن ہر مرض کی دوا تلخ ہی ہوتی ہے۔ سر میں درد ہو تو پیراسیٹامول کھلائی جاتی ہے، ٹافی یا لڈو نہیں کھلایا جاتا!”
​میرے بچے میری اس مثال پر ہنستے ہیں… لیکن کھلکھلا کے نہیں، اس لیے کہ انہیں میری ناراضگی اور خفگی کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO