
چترال میں تبلیغی اجتماعات۔۔کاوشاتِ اقبال سے ایک ورق۔۔محمد اقبال شاکر
احکامِ خدا کو ہنسی کھیل نہ سمجھو، اور خدا نے تم پر جو احسان کیے ہیں، ان کو یاد کرو۔ اس کا یہ احسان نہ بھولو کہ اس نے تم پر کتاب اور عقل کی باتیں اتاری ہیں اور منظور ہے کہ تمہیں ان حکموں یا کتاب کے ذریعے سے نصیحت کرے، اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرتے رہو کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔ مسلمانو! تم ہماری یاد میں لگے رہو تاکہ ہمارے ہاں بھی تمہارا ذکرِ خیر ہوتا رہے اور ہمارا شکر ادا کرتے رہو اور ناشکری نہ کرو۔ جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی، ان کو ہم اپنا راستہ بتائیں گے۔
تم بہترین امت ہو جو سب لوگوں کی راہنمائی کے لیے ظاہر کی گئی ہے۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ دعوت و تبلیغِ اسلام کا بنیادی فریضہ اور تمام انبیاء کا مشن رہا ہے، جس کا مقصد انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اچھے اخلاق کی طرف لانا ہے۔ دعوت و تبلیغ انسانیت کو اللہ کے دین کی طرف بلانا اور نیکی کی ترغیب دینا ہے۔ اللہ کا پیغام بندوں تک ہو بہو پہنچانا، معاشرے کو برائی سے پاک کرنا، امن قائم کرنا، سب کی عزت کرنا، نیکی کرنا اور دوسروں کو بھی اس کی طرف راغب کرنا ہر مسلمان مرد و عورت کی ذمہ داری ہے۔ سختی کے بجائے نرمی اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا اور انسانیت کے دلوں کو جیتنا ہے۔ امت میں اخلاقِ حسنہ، دینی بیداری، نمازوں کا اہتمام اور نیک عمل میں دین کی طرف بلانے اور نیکی کا راستہ دکھانے کا مقصد دعوت و تبلیغ ہے۔ دینِ اسلام مسلمانوں کی زندگی کیسے سجائے اور تمام امت کس طرح جہنم سے بچ جائیں اور جنت کا حقدار بنیں، تو اس کے لیے تمام مسلمانوں کو دین سے متعلق آگاہ کرنا، نصیحت کرنا اور غلط کاموں سے انسانوں کو بچانا، احکامِ الٰہی اور رسول اللہ کے ارشادات پر مکمل عمل پیرا کرنا ہے۔ دعوتِ دین ایک مسلمان کی پوری زندگی پر محیط ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کے مطابق زندگی گزارنا ہر مسلمان کا کام ہے۔ دعوت کا کام جہاں بھی اصولوں کے مطابق کیا جائے، وہاں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔
شیطان کا بہت بڑا وار مادیت کے راستے پر دھکیلنا ہے۔ یہی وہ خطرہ ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبردار کیا تھا: اللہ کی قسم! مجھے یہ ڈر نہیں کہ تم مفلس ہو جاؤ گے۔ میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر کشادہ ہو جائے گی، جیسے تم سے پہلی امتوں پر یہ کشادہ ہوئی تھی۔ پھر تم اس سے چاہنے لگو گے، جیسے انہوں نے اسے چاہا۔ پھر تم اس کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرو گے، جیسے انہوں نے کیا۔ پھر یہ دنیا کی فراوانی اور اس کی طرف بے انتہا رغبت تمہیں تباہ کرکے رکھ دے گی، جیسے اس نے تم سے پہلوں کو کیا۔ تو اس قسم کے اجتماعات کا مقصد و مطلب امت کو تحریکی کاموں سے جوڑنا اور اجتماعیت میں شامل کرنا ہے۔ دین کے لیے قربانی دینے کا تصور صحابہ کرام کی زندگیوں کو سامنے رکھ کر امت کے ذہنوں میں ڈالنے کی محنت ہے۔ امت کی موجودہ صورتِ حال فوری توجہ کی طالب ہے، تو ضرورت ہے کہ امت کو اس قسم کے دینی تربیت کے روحانی ماحول سے جوڑا جائے تاکہ عبادت تک پہنچنے والے راستوں تک امت کی رسائی آسان ہو اور امت میں اتحاد اور اتفاق کی فضا ہموار ہو، اللہ کی قرب حاصل ہو اور امت کی عظمتِ رفتہ اور متاعِ گم شدہ کی بازیافت ہو۔
علماء کرام، رائیونڈ تبلیغی مرکز لاہور نے چترال کے لیے تین اجتماعات کا اہتمام کروائے ہیں، جو 20 ستمبر تا 22 ستمبر 2026 چترال تبلیغی مرکز پولو گراؤنڈ، 22 ستمبر تا 23 ستمبر بونی مرکز، اپر چترال، 23 ستمبر تا 24 ستمبر 2026 دروش، لوئر چترال، منعقد ہوں گے، جس میں ملک بھر سے فرزندانِ اسلام جماعتوں کی شکل میں شریک ہوں گے اور سینکڑوں کی تعداد میں تبلیغی جماعتوں کا اندرونی اور بیرونی ممالک کے لیے تشکیل دیا جائے گا۔ تمام اہلِ چترال اپنی زیادہ سے زیادہ شراکت کو یقینی بنائیں۔ درحقیقت اسی راہ پر چل کر ہم اللہ اور اس کے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں، جو دنیا اور آخرت کی فلاح و بہبود کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے، آمین۔
