
بنیادی سہولیات کی کمی: گرم چشمہ روڈ کی حالت پر تشویش
چترال (چترال ایکسپریس)چترال کے مختلف علاقوں بالخصوص گرم چشمہ روڈ اور اس سے ملحقہ شاہراہوں کی خستہ حالی کے خلاف عوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ویلج کونسل سنگور کے چیئرمین امین الرحمن شاہمیر نے
اس صورتحال کو نہایت سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرے، اور اس میں کوتاہی کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مذکورہ سڑکیں مختلف دیہات، تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر، ہوائی اڈے اور سیاحتی مقامات کو آپس میں ملاتی ہیں، تاہم ان کی خراب حالت کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بیمار افراد کو ہسپتال منتقل کرنا دشوار ہو چکا ہے جبکہ طلبہ کو تعلیمی اداروں تک رسائی میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ زرعی سرگرمیاں متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ سیاحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
امین الرحمن شاہمیر نے مزید کہا کہ بیرونی سیاح جب ان خستہ حال سڑکوں سے گزرتے ہیں تو علاقے کے بارے میں منفی تاثر لے کر واپس جاتے ہیں، جس سے مقامی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ کسی ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ پورے چترال کا مشترکہ مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔
انہوں نے حکومت، مقامی نمائندگان، سرکاری اداروں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ اس اہم مسئلے کے حل کے لیے متحد ہو کر کردار ادا کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گرم چشمہ روڈ سمیت تمام متاثرہ سڑکوں کی فوری مرمت اور پختگی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، منصوبے کے لیے واضح ٹائم لائن اور فنڈز مختص کیے جائیں، اور تعمیراتی کام میں شفافیت و معیار کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے پرامن اور قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے اور اس سلسلے میں ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔
