
چترال میں تبلیغی مرکز کے تقدس کے تحفظ کیلئے علماء کا مؤقف، مخلوط جم منصوبہ پر تحفظات
چترال(چترال ایکسپریس)جمعیت علماء اسلام ضلع لوئر چترال کے ایک وفد نے ڈپٹی کمشنر چترال لوئر راو ہاشم عظیم سے ملاقات کرکے چترال پولو گراؤنڈ میں واقع تبلیغی مرکز کے ساتھ متصل زیرِ تعمیر مخلوط جم کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ تبلیغی مرکز چترال پورے خطے کے مسلمانوں کیلئے ایک اہم روحانی و دینی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے دعوتِ دین، اصلاحِ معاشرہ اور دینی تربیت کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے مقدس مقام کے ساتھ مخلوط جم کے قیام سے نہ صرف عبادات میں خلل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے بلکہ عوام کے دینی جذبات بھی مجروح ہو سکتے
ہیں۔
علماء کرام نے کہا کہ اسلام ایک صحت مند معاشرے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور نوجوانوں کیلئے کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے، تاہم اس مقصد کیلئے مناسب اور الگ مقامات کا انتخاب کیا جانا چاہیے، نہ کہ کسی دینی مرکز کے قریب۔
وفد نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر اس مقام پر اس نوعیت کی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی تو مستقبل میں شور و غل اور دیگر غیر موزوں سرگرمیوں کے باعث دینی ماحول متاثر ہو سکتا ہے۔
ڈپٹی کمشنر راو ہاشم عظیم نے علماء کے مؤقف کو غور سے سنتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مذکورہ منصوبے پر فوری طور پر کام روک دیا جائے گا اور تبلیغی مرکز کے تقدس کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
ملاقات کے اختتام پر علماء کرام اور معززین نے ڈپٹی کمشنر کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے دعا کی۔
وفد میں جمعیت علماء اسلام تحصیل لوئر چترال کے عہدیداران اور دیگر علماء کرام شامل تھے، جبکہ اپر چترال سے بھی علماء کے ایک وفد نے شرکت کی۔
علماء کرام نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ دینی مراکز کے تقدس کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور عوامی فلاحی منصوبوں کیلئے ایسے مقامات کا انتخاب کیا جائے جو مقامی دینی و سماجی اقدار سے ہم آہنگ ہوں۔
