
*استاد: وہ چراغ جو نسلوں کو روشنی دیتا ہے**5 اکتوبر یومِ اساتذہ*۔۔تحریر ابوسلمان محمدقاسم
دنیا میں کچھ رشتے خون کے نہیں ہوتے، مگر انسان کی زندگی پر ان کا احسان خون کے رشتوں سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے۔ ماں انسان کو جنم دیتی ہے، باپ اسے سہارا دیتا ہے، مگر استاد اسے پہچان دیتا ہے۔ وہ انسان کو صرف پڑھاتا نہیں، اسے سوچنا، سمجھنا، سوال کرنا، اچھے اور برے میں فرق کرنا اور زندگی کو مقصد کے ساتھ گزارنا سکھاتا ہے۔
5 اکتوبر کو دنیا بھر میں اساتذہ کا دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قوموں کی تعمیر صرف عمارتوں، سڑکوں اور پلوں سے نہیں ہوتی؛ قومیں کلاس رومز میں بنتی ہیں، اور ان کلاس رومز میں استاد معمار کا کردار ادا کرتا ہے۔
لیکن ایک مسلمان کے لیے استاد کی عظمت کا سوال صرف عالمی دن یا معاشرتی روایت کا سوال نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ قرآن و سنت استاد اور تعلیم کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
قرآن نے اہلِ علم کو بلند مقام دیا
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾
“اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور جنہیں علم عطا کیا گیا ہے، درجات بلند فرماتا ہے۔”
(سورۃ المجادلہ: 11)
غور کیجیے! علم محض ایک ملازمت یا پیشہ نہیں؛ قرآن اسے رفعتِ درجات کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ اور جو شخص علم کو آگے منتقل کرتا ہے، وہ دراصل انسانوں کی ذہنی، اخلاقی اور فکری تعمیر میں حصہ لے رہا ہوتا ہے۔
قرآن ہمیں یہ اصول بھی دیتا ہے:
﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾
“اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔”
(سورۃ النحل: 43)
یہ آیت اپنے اصل سیاق میں اہلِ ذکر سے رجوع کرنے کی ہدایت دیتی ہے، اور اس سے یہ بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے کہ علم کے معاملے میں اہلِ علم کی طرف رجوع کرنا اسلامی مزاج ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا تعلیمی مشن
قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے مقاصد بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
﴿يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ﴾
“وہ ان کے سامنے اللہ کی آیات پڑھتے ہیں، ان کا تزکیہ کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔”
(سورۃ الجمعہ)
یہاں تعلیم صرف معلومات دینے کا نام نہیں۔ تلاوت، تزکیہ، تعلیمِ کتاب اور تعلیمِ حکمت یہ سب تربیت کے مختلف پہلو ہیں۔
اس لیے اسلامی تصورِ تعلیم میں استاد صرف “مضمون پڑھانے والا” نہیں بلکہ علم، کردار اور حکمت کا مربی بھی ہے۔
استاد کے مقام کی ایک عظیم دلیل
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ»
“تم میں بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔”
(صحیح البخاری)
یہ حدیث خاص طور پر قرآن سیکھنے اور سکھانے کے بارے میں ہے، لیکن اس میں تعلیم و تعلم کی عظمت کا ایک نہایت روشن پہلو سامنے آتا ہے۔
اور ایک دوسری معروف روایت میں علم کے راستے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے راستہ اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے؛ اسی روایت میں علماء کو انبیاء کا وارث قرار دیا گیا ہے۔
(سنن ابی داؤد)
پس جو استاد خیر، علم، اخلاق اور مفید تربیت آگے منتقل کرتا ہے، اس کا کام محض روزگار نہیں؛ یہ نسلوں کی امانت سنبھالنے کا کام ہے۔
استاد کے فرائض کیا ہیں؟
استاد کا مقام جتنا بلند ہے، اس کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہے۔
1۔ نیت درست رکھنا
استاد کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے کام کو محض تنخواہ کی ملازمت نہ سمجھے بلکہ اسے امانت اور خدمت سمجھے۔
کلاس روم میں بیٹھا ہوا بچہ صرف ایک رول نمبر نہیں؛ وہ ایک گھر کی امید، والدین کا خواب اور مستقبل کا ایک ممکنہ معمار ہے۔
2۔ علم صحیح اور دیانت داری سے منتقل کرنا
استاد کو چاہیے کہ وہ جو پڑھائے، اسے خود اچھی طرح جانے، غلط معلومات سے بچے اور جہاں علم نہ ہو وہاں “مجھے معلوم نہیں” کہنے میں عار محسوس نہ کرے۔
کیونکہ غلط علم بھی ایک امانت ہے اور امانت میں خیانت انسان کو بہت دور لے جا سکتی ہے۔
3۔ علم کے ساتھ کردار بنانا
ایک اچھا استاد صرف یہ نہیں دیکھتا کہ طالب علم نے سبق یاد کیا یا نہیں؛ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ:
کیا اس میں سچ بولنے کی عادت پیدا ہوئی؟
کیا وہ بڑوں کا احترام کرتا ہے؟
کیا وہ کمزور کی مدد کرتا ہے؟
کیا وہ جھوٹ، دھوکے اور بددیانتی سے بچتا ہے؟
کیونکہ تعلیم اگر کردار نہ بنائے تو معلومات تو پیدا کر سکتی ہے، انسان نہیں۔
4۔ طلبہ کے ساتھ میانہ روی اختیار کرے نہ زیادہ سختی کرے اور نہ زیادہ نرمی بلکہ درمیانہ رویہ اختیارکرے۔
لیکن استاد کی سختی اگر اصلاح کے لیے ہو تو اس کی اپنی جگہ ہے، لیکن تحقیر، تذلیل، نفرت اور مسلسل خوف تعلیم کا متبادل نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے تعلیم و دعوت کے اصول میں فرمایا:
«يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا»
“آسانی پیدا کرو، دشواری نہ پیدا کرو، خوشخبری دو اور نفرت نہ دلاؤ۔”
(صحیح البخاری)
یہ اصول ایک استاد کے لیے بھی نہایت قیمتی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
5۔ ہر طالب علم کیلئے وہی بہتر سمجھےجو اپنی اولاد کیلئے سمجھتاہے۔
کلاس میں کوئی ذہین ہے، کوئی متوسط، کوئی کمزور۔ کسی کے گھر میں سہولت ہے اور کسی کے گھر میں مشکلات۔
ایک عظیم استاد کمزور طالب علم کو یہ احساس نہیں ہونے دیتا کہ وہ “ناکام” ہے؛ بلکہ اس کے اندر یہ یقین پیدا کرتا ہے:
“تم سیکھ سکتے ہو، تم آگے بڑھ سکتے ہو، تمہارے اندر بھی صلاحیت ہے۔”
کبھی کبھی استاد کا ایک جملہ پوری زندگی بدل دیتا ہے۔
استاد کے آداب کیا ہیں؟
استاد کے لیے بھی آداب ہیں، کیونکہ علم کا منصب خود انسان سے کردار کا تقاضا کرتا ہے۔
استاد کو چاہیے کہ:
اپنے علم پر غرور نہ کرے۔
طلبہ کی مفاد میں کام کرے۔
ناانصافی نہ کرے۔
طلبہ کے درمیان بلاوجہ امتیاز نہ کرے۔
اپنی بات اور عمل میں تضاد نہ رکھے۔
وقت کی پابندی کرے۔
مسلسل مطالعہ اور اپنی علمی تربیت جاری رکھے۔
طلبہ کی کمزوریوں کو تماشا نہ بنائے۔
غلطی کرنے والے کو اصلاح کا موقع دے۔
اپنے منصب کو ذاتی مفاد یا رعب کے لیے استعمال نہ کرے۔
والدین اور ساتھی اساتذہ کے ساتھ احترام سے پیش آئے۔
استاد کا اصل رعب اس کی آواز کی بلندی میں نہیں، اس کے علم، کردار اور انصاف میں ہوتا ہے۔
استاد کے حقوق کیا ہیں؟
جس طرح استاد کے فرائض ہیں، اسی طرح اس کے حقوق بھی ہیں۔
استاد کو:
عزت دی جائے۔
اس کی محنت کو تسلیم کیا جائے۔
اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھا جائے۔
اسے مناسب اور باوقار معاشی تحفظ دیا جائے۔
اس کے لیے بہتر تدریسی ماحول فراہم کیا جائے۔
اس پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالا جائے۔
اس کی پیشہ ورانہ تربیت اور ترقی کے مواقع پیدا کیے جائیں۔
اس کے ساتھ ادارہ جاتی معاملات میں انصاف کیا جائے۔
کیونکہ ایک تھکا ہوا، مسلسل دباؤ میں رہنے والا اور بے توقیر کیا جانے والا استاد اپنی بہترین صلاحیتیں بھی ہمیشہ اسی قوت سے استعمال نہیں کر سکتا۔
اسلامی اصول ہمیں حقوق اور ذمہ داریوں دونوں کا شعور دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ نے انسان کو اپنے جسم اور دیگر ذمہ داریوں کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دی۔
(صحیح البخاری)
لہٰذا استاد کی خدمت سے بہترین نتائج لینے کے لیے اس کی ذمہ داریوں کے ساتھ اس کے جائز حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
طالب علم پر استاد کا کیا حق ہے؟
طالب علم کے لیے استاد کا احترام محض معاشرتی رسم نہیں، بلکہ علم کے ادب کا حصہ ہے۔
استاد کی بات توجہ سے سننا، اس سے بدتمیزی نہ کرنا، اس کی محنت کی قدر کرنا، سوال ادب سے کرنا، غلطی پر اصلاح قبول کرنا اور اس کے لیے خیر کی دعا کرنایہ سب علم کے آداب ہیں۔
البتہ استاد کا احترام اندھی اطاعت کا نام نہیں۔ استاد بھی انسان ہے، اس سے غلطی ہو سکتی ہے۔ احترام کے ساتھ سوال اور اختلاف کی گنجائش علم کے ماحول کا حصہ ہے۔
اصل مقصد یہ ہے کہ علم کی مجلس میں ادب بھی رہے اور علمی دیانت بھی۔
والدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا
آج ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بعض اوقات والدین استاد سے صرف نمبر چاہتے ہیں، کردار نہیں؛ کامیابی چاہتے ہیں، تربیت نہیں۔
والدین کو سمجھنا ہوگا کہ استاد ان کے بچے کا حریف نہیں، اس کی تربیت میں شریک ہے۔
اگر گھر استاد کی عزت سکھائے اور اسکول علم و کردار کی تربیت کرے تو بچہ دونوں اداروں کی مشترکہ محنت سے بہتر انسان بنتا ہے۔
اور معاشرے کیلئےفائدہ مندہوسکتاہے
معاشرہ جس پیشے کو عزت دیتا ہے، عموماً اسی شعبے میں باصلاحیت لوگ زیادہ رغبت سے آتے ہیں۔
اگر ہم استاد کو صرف امتحانی نتائج، کاغذی کارروائی اور حاضری کے اعداد و شمار سے ناپیں گے تو ہم تعلیم کے وسیع تر مقصد کو محدود کر دیں گے۔
استاد کے ہاتھ میں صرف کتاب نہیں ہوتی؛ اس کے ہاتھ میں آنے والی نسل کا ذہن ہوتا ہے۔
وہ ڈاکٹر کو پڑھاتا ہے۔
وہ انجینئر کو پڑھاتا ہے۔
وہ عالم کو پڑھاتا ہے۔
وہ فوجی کو پڑھاتا ہے۔
وہ سائنس دان کو پڑھاتا ہے۔
وہ جج، صحافی، افسر، تاجر، سیاست دان اور معاشرے کے ہر شعبے کے انسان کو بنیادی تعلیم دیتا ہے۔
اس لیے استاد دراصل ہر پیشے کی بنیاد ہے۔
استاد کو کیا مقام دینا چاہیے؟
استاد کو وہ مقام دینا چاہیے جو علم، تربیت، امانت اور انسان سازی کے تقاضوں کے مطابق ہو۔
نہ استاد کو معصوم و بے خطا سمجھا جائے، نہ اسے معمولی ملازم سمجھا جائے۔
اسے علم کا امین، تربیت کا ذمہ دار اور نسلوں کا معمار سمجھا جائے۔
اور خود استاد کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ مقام صرف عزت مانگنے سے نہیں ملتا؛ اس مقام کو اپنے کردار سے زندہ رکھنا پڑتا ہے۔
آخر میں ایک سوال
5 اکتوبر کو ہم استاد کو پھول دیں گے، مبارک باد دیں گے، تصویریں بنائیں گے، تقریریں کریں گے اور شاید سوشل میڈیا پر خوبصورت جملے بھی لکھیں گے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے:
کیا ہم سال کے باقی 364 دن بھی استاد کے علم، وقت، محنت اور عزت کی قدر کرتے ہیں؟
اور استاد سے بھی سوال ہے:
کیا ہماری کلاس میں داخل ہونے کے بعد بچے صرف سبق یاد کرتے ہیں، یا وہ ہم سے انسان بننا بھی سیکھتے ہیں؟
اگر ایک استاد کی محنت سے ایک بچہ نماز کا پابند ہو جائے، ایک طالب علم جھوٹ چھوڑ دے، ایک بچہ اپنے والدین کا ادب سیکھ لے، ایک نوجوان علم سے محبت کرنے لگے، ایک کمزور طالب علم اپنے اندر اعتماد پیدا کر لےتو استاد نے صرف ایک سبق نہیں پڑھایا، اس نے ایک زندگی بدل دی۔
اور جب ایک زندگی بدلتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایک انسان تک محدود نہیں رہتے؛ وہ ایک گھر، ایک خاندان، ایک معاشرے اور کبھی کبھی پوری نسل تک پہنچ جاتے ہیں۔
یہی استاد کی اصل عظمت ہے۔
استاد تخت پر بیٹھا بادشاہ نہیں،
مگر وہ ایسے ذہن بناتا ہے جو کل دنیا بدل سکتے ہیں۔
استاد کے ہاتھ میں تلوار نہیں،
مگر اس کے ہاتھ میں وہ قلم ہے جو جہالت کے اندھیروں کو چیر سکتا ہے۔
استاد کے پاس دولت کے خزانے نہیں،
مگر وہ ایسا علم بانٹتا ہے جس کی روشنی نسلوں تک منتقل ہوتی ہے۔
اس لیے
استاد کو صرف “ٹیچر” نہ کہیے؛
اسے ایک امانت دار سمجھ کر دیکھیے۔
اس کے وقت کی قدر کیجیے۔
اس کی محنت کی قدر کیجیے۔
اس کے علم کی قدر کیجیے۔
اس کی عزت کیجیے۔
کیونکہ جس معاشرے میں استاد کی عزت زندہ رہتی ہے، وہاں علم کی حرمت زندہ رہتی ہے؛ اور جہاں علم کی حرمت زندہ ہو، وہاں قوموں کا مستقبل زندہ رہتا ہے۔
یومِ اساتذہ پر تمام مخلص، باکردار اور محنتی اساتذہ کو خراجِ تحسین
اللہ تعالیٰ ہر اس استاد کی محنت کو قبول فرمائے جو علم کو امانت سمجھ کر نسلوں تک پہنچا رہا ہے، اور ہر طالب علم کو اپنے اساتذہ کا ادب، ان کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے لیے دعائے خیر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
