تازہ ترین

*کھیل اپنی جگہ، لیکن عبادات، تعلیم اور معاشرتی سکون بھی ضروری ہیں!*تحریر: ابوسلمان

*چترال میں کھیل کے میدانوں کی شام سات بجے بندش کے فیصلے کی حمایت میں ایک دینی و معاشرتی نقطۂ نظر*

چترال میں کھیل کے میدانوں کو شام سات بجے بند کرنے کے فیصلے پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔ بلاشبہ کھیل کود، جسمانی صحت، تفریح اور نوجوانوں کی مثبت سرگرمیاں معاشرے کی اہم ضروریات ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان سرگرمیوں کے نام پر رات گئے تک کھیل کے میدان آباد رکھنا بھی ضروری ہے؟ کیا کھیل کے لیے عبادات، تعلیم، آرام اور دوسروں کے حقوق کو پسِ پشت ڈالا جا سکتا ہے؟

اسلام ایک متوازن دین ہے۔ یہ نہ کھیل کود سے روکتا ہے اور نہ دنیاوی ضروریات سے صرفِ نظر کرتا ہے، لیکن زندگی کے ہر شعبے کے لیے اعتدال، نظم و ضبط اور حدود متعین کرتا ہے۔

قرآنِ کریم کی تعلیمات کیا ہیں؟

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:

وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا ۝ وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا ۝ وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا

(سورۃ النبأ: 9 تا 11)

ترجمہ: اور ہم نے تمہاری نیند کو آرام کا ذریعہ بنایا، رات کو پردہ بنایا اور دن کو معاش کا وقت بنایا۔

ایک اور مقام پر ارشاد ہے:

وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِبَاسًا وَالنَّوْمَ سُبَاتًا وَجَعَلَ النَّهَارَ نُشُورًا

(سورۃ الفرقان: 47)

ترجمہ: اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو پردہ، نیند کو آرام اور دن کو اٹھ کر کام کرنے کا وقت بنایا۔

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی کا ایک فطری نظام بنایا ہے۔ دن کو معاش، محنت اور سرگرمیوں کے لیے اور رات کو سکون، آرام اور نیند کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ اس فطری نظام کو مسلسل کھیل تماشے اور غیر ضروری مصروفیات کے ذریعے متاثر کرنا دانش مندی نہیں۔

*عبادات کو کھیل پر ترجیح حاصل ہے*

ایک مسلمان کی زندگی میں نماز بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ کھیل، کاروبار، تفریح اور دیگر مصروفیات اپنی جگہ، لیکن ان میں سے کوئی چیز نماز سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی۔

افسوس کہ ہمارے ہاں بعض مقامات پر عصر سے مغرب تک کے عرصے میں کھیل کے میدان آباد نظر آتے ہیں، جبکہ مساجد میں نمازیوں کی تعداد مایوس کن ہوتی ہے۔ یہ ایک قابلِ غور معاشرتی صورتِ حال ہے۔ اگر کھیل کی سرگرمیوں کے اوقات مزید رات تک بڑھا دیے جائیں تو نمازوں سے غفلت اور خصوصاً بچوں اور نوجوانوں میں دینی ذمہ داریوں کے کمزور ہونے کا خدشہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے معمولات بھی ہمارے لیے بہترین رہنمائی ہیں۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عشاء سے پہلے سونے اور عشاء کے بعد غیر ضروری گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔

(صحیح بخاری، صحیح مسلم، )

جب غیر ضروری گفتگو کے لیے بھی عشاء کے بعد وقت ضائع کرنا پسندیدہ نہیں تھا تو رات گئے تک کھیل کود میں مصروف رہنے اور اس کے نتیجے میں نماز، نیند اور دیگر ذمہ داریوں کو متاثر کرنے کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

*نوجوانوں کی تربیت اور والدین کی ذمہ داری*

یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ ہر بچہ یا نوجوان جو گھر سے کھیلنے کے نام پر نکلتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ پورا وقت کھیل کے میدان میں ہی گزارے۔ کھیل کے میدانوں کے آس پاس غیر ضروری بیٹھک، آوارہ گردی اور دیگر نامناسب سرگرمیوں کے امکانات بھی موجود رہتے ہیں۔ اگر نگرانی اور نظم و ضبط کا مؤثر انتظام نہ ہو تو سگریٹ نوشی، نسوار اور دیگر نشہ آور اشیا کی طرف رغبت پیدا ہونے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

یہ کہنا درست نہیں کہ ہر نوجوان ان سرگرمیوں میں ملوث ہوتا ہے، لیکن معاشرتی تحفظات کو نظرانداز کرنا بھی مناسب نہیں۔ خصوصاً کم عمر بچوں کے لیے والدین کی نگرانی اور مناسب اوقات کی پابندی انتہائی ضروری ہے۔

اسی طرح طلبہ کی تعلیم بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اگر رات گئے تک کھیلنے کی عادت پیدا ہو جائے تو نیند، صبح کی بیداری، اسکول کی حاضری اور تعلیمی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ نوجوانوں کو کھیل کے ساتھ تعلیم اور تربیت کا پابند بنانا بھی معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

*دوسروں کے حقوق اور معاشرتی سکون*

اسلام صرف اپنی سہولت اور خواہشات کا نام نہیں بلکہ دوسروں کے حقوق کا احترام بھی سکھاتا ہے۔ کھیل کے میدانوں کے قریب رہنے والے گھروں میں بزرگ، بیمار، بچے، طلبہ اور آرام کرنے والے افراد بھی رہتے ہیں۔ رات کے وقت شور، چیخ و پکار، تماشائیوں کا ہجوم، گاڑیوں کی آمدورفت اور کھیل کے بعد گلیوں میں شور شرابہ ان لوگوں کے سکون اور نیند کو متاثر کر سکتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ

ترجمہ: نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ۔

(سنن ابن ماجہ)

لہٰذا صحت مند سرگرمی کے نام پر دوسروں کے آرام اور سکون کو متاثر کرنا بھی قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔

*رمضان المبارک اور رات گئے تک کھیلوں کے مقابلے*

خصوصاً رمضان المبارک میں رات بھر کھیلوں کے ٹورنامنٹس منعقد کرنے کے رجحان پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ رمضان عبادت، تلاوتِ قرآن، تراویح، دعا اور اصلاحِ نفس کا مہینہ ہے۔ اگر کھیلوں کی مصروفیات اس قدر بڑھ جائیں کہ تراویح، عبادات، سحری اور نمازِ فجر متاثر ہونے لگیں تو یہ یقیناً قابلِ تشویش صورتِ حال ہے۔

سحری کے وقت تک کھیلنے کے بعد تھکن اور نیند کے غلبے کی وجہ سے فجر کی نماز اور دیگر دینی و تعلیمی ذمہ داریاں متاثر ہونا کوئی معمولی نقصان نہیں۔ کھیل اگر عبادات کی ادائیگی میں رکاوٹ بن جائے تو اس کے اوقات اور ترجیحات پر نظرِثانی ناگزیر ہے۔

*اصل مسئلہ کھیل نہیں، اوقات اور حدود کا تعین ہے!*

ہمیں یہ بات واضح رکھنی چاہیے کہ ہم کھیلوں کے مخالف نہیں، نہ ہی نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں سے محروم کرنے کے حامی ہیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ چترال میں معیاری فٹبال گراؤنڈز، کرکٹ کے میدان ہوں۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کھیلوں کے لیے رات کی حدود بھی ختم کر دی جائیں۔

ضلعی انتظامیہ کا شام سات بجے گراؤنڈز بند کرنے کا فیصلہ اسی تناظر میں ایک قابلِ فہم اور دانش مندانہ انتظامی اقدام ہے، جس کا مقصد کھیلوں کی مخالفت نہیں بلکہ عبادات، تعلیم، آرام، والدین کی تشویش اور شہریوں کے حقوق کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔

آخر میں ان تمام حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے جو اس فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں کہ وہ مسئلے کو صرف کھیل اور کاروبار کے زاویے سے نہ دیکھیں، بلکہ اس کے دینی، اخلاقی، تعلیمی اور معاشرتی پہلوؤں کو بھی سامنے رکھیں۔

ہمیں اپنے نوجوانوں کے لیے کھیل کے میدان بھی چاہییں اور آباد مساجد بھی، صحت مند جسم بھی چاہییں اور مضبوط کردار بھی، تفریح بھی چاہیے اور تعلیم بھی، لیکن ان سب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکامات اور معاشرتی حقوق کی پابندی بھی ضروری ہے۔

یاد رکھیے! ایک کامیاب معاشرہ صرف اچھے کھلاڑی پیدا کرنے سے نہیں بنتا، بلکہ اچھے مسلمان، ذمہ دار شہری، باکردار نوجوان اور باعمل نسل تیار کرنے سے بنتا ہے۔

کھیل ضروریں، لیکن نماز کی قیمت پر نہیں؛ تفریح ضرور، لیکن تعلیم اور تربیت کی قیمت پر نہیں؛ کاروبار ضرور، لیکن دوسروں کے سکون اور حقوق کی قیمت پر نہیں۔

ہمیں ایسا چترال چاہیے جہاں کھیل کے میدان بھی آباد ہوں، مساجد بھی آباد ہوں، تعلیمی ادارے بھی ترقی کریں اور گھروں کا سکون بھی برقرار رہے۔ یہی اعتدال ہے، یہی دانش مندی ہے اور یہی قرآن و سنت کی تعلیمات کا تقاضا ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO