تازہ ترین

چترال میں انسداد تجاوزات آپریشن پر جماعت اسلامی کا احتجاج، سابق ضلع ناظم کی اسکول عمارت مسمار کرنے پر شدید ردعمل

وجیہہ الدین کا اے ڈی سی اور اسسٹنٹ کمشنر کے خلاف 24 گھنٹوں میں کارروائی کا مطالبہ، انتظامیہ کا سابق ضلع ناظم پر سرکاری اراضی پر قبضے اور فائرنگ کا الزام

چترال (چترال ایکسپریس) امیر جماعت اسلامی لوئر چترال وجیہہ الدین نے الزام عائد کیا ہے کہ انسداد تجاوزات مہم کے نام پر ضلعی انتظامیہ کے بعض افسران اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے شہریوں کے ساتھ زیادتیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے سابق ضلع ناظم مغفرت شاہ کی ملکیتی اسکول عمارت مسمار کرنے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت کو 24 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا ہے کہ متعلقہ افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، بصورت دیگر جماعت اسلامی سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرے گی۔

جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وجیہہ الدین نے کہا کہ اے ڈی سی جنرل عبدالسلام اور اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر عدنان حیدر ملوکی نے سابق ضلع ناظم مغفرت شاہ کی ملکیتی اسکول عمارت کو مبینہ طور پر قانونی تقاضے پورے کیے بغیر مسمار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ قوانین کے تحت تجاوزات کے خلاف کارروائی سے پہلے متاثرہ فریق کو نوٹس دینا اور اپیل کا موقع فراہم کرنا ضروری ہے، لیکن اس معاملے میں ان قانونی تقاضوں کو نظرانداز کیا گیا۔

انہوں نے دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مغفرت شاہ نے 2000ء میں مقامی لوگوں کی درخواست پر اپنی ذاتی زمین کا ایک حصہ لنک روڈ کے مساوی حصے کے تبادلے میں دیا تھا، جس کی منظوری محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کے اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر نے دی تھی۔ ان کے مطابق 2016ء میں نیب نے بھی اس معاملے کی انکوائری کی تھی اور اسے کلیئر قرار دیا تھا۔

پریس کانفرنس میں انہوں نے متعلقہ افسران پر قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کارروائی کرنے اور سابق ضلع ناظم کے اہل خانہ کے حالات کو بھی نظرانداز کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں جماعت اسلامی آئندہ کا سخت لائحہ عمل دے گی۔

پریس کانفرنس میں مولانا جمشید، عبدالحق، فضل ربی جان، ظفر حیات ایڈووکیٹ، صدر ڈسٹرکٹ بار مومن الرحمن، ریاض احمد دیوان بیگی، قاری عبدالرحمن گجر اور دیگر بھی موجود تھے۔

بعد ازاں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے اتالیق پل تک احتجاجی مارچ کیا اور وہاں جلسہ منعقد کیا، جس سے وجیہہ الدین کے علاوہ امیر جمعیت علمائے اسلام لوئر چترال و سابق رکن صوبائی اسمبلی مولانا عبدالرحمن نے بھی خطاب کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی۔

دریں اثناء ضلعی انتظامیہ لوئر چترال نے اپنے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انسداد تجاوزات مہم کے دوران مبینہ قبضہ مافیا کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کے افسران اور لیویز اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل عبدالسلام اور اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر عدنان حیدر ملوکی محفوظ رہے جبکہ دو لیویز اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمی اہلکاروں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال لوئر چترال منتقل کیا گیا۔

انتظامیہ کے بیان کے مطابق فائرنگ سابق ضلعی ناظم حاجی مغفرت شاہ نے کی، جن پر سرکاری اراضی پر مبینہ قبضے کا الزام تھا اور مذکورہ اراضی ان سے واگزار کرالی گئی۔ ڈپٹی کمشنر و کمانڈنٹ لیویز لوئر چترال احسان اللہ نے دیگر افسران کے ہمراہ ہسپتال کا دورہ کیا اور زخمی اہلکاروں کی عیادت کی۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock