مضامین

(رُموز شادؔ ) ….. ’’زندگی دو پل کی‘‘ دنی

(ارشادا للہ شادؔ ۔بکرآباد چترال)اچہار سُو تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہے۔۔ ماحول پر گہری خاموشی اور سکوت طاری ہے۔۔ چاند کی روشنی بھی مدہم پڑ گئی ہے۔۔ سورج طلوع ہونے میں ابھی بہت دیر باقی ہے ۔۔ موذّن اذان دینے میں مصروف ہے ۔۔ ہلکی ہلکی روشنی چاروں طرف بکھر رہی ہے۔۔ سورج پہاڑوں کی اوٹ سے نمودار ہوا تو ہر طرف اپنی روشنی بکھیرنے لگا ۔۔ روشنی تھوڑی تیز ہو گئی تو برگ گل پر پھیلی شبنم ماؤف ہوگئی ۔
روشنی تیز ہوتے ہی دھوپ بن گئی ۔۔ سورج کی وہ نرم و نازک اور دلفریب کرنیں اب لڑکپن کے مراحل طے کرتے ہوئے جوانی کی حدوں کو چھو رہی ہے ۔۔ دھوپ میں تیزی آتے ہی دنیا میں ہلچل مچ گئی ۔۔ سب اپنے اپنے کاموں میں محو ہوگئے ۔۔ کسی کو دوسرے کا ہوش نہ رہا۔۔ زندگی جو حقیقتوں ، صداقتوں اور محبّتوں پر مبنی ہے، نفرتوں سے سیراب کی جاتی ہے ۔۔ زندگی کی دیواریں جو خلوص ، ایثار اور سچّائی سینچی جاتی ہے اب جھوٹ کی مضبوط اینٹوں اور دشمنی کے خالص سیمنٹ سے چنی جاتی ہے۔۔تمازِت آفتاب اس قدر بڑھ چکی ہے کہ برداشت نہیں ہوتی ۔۔دھوپ کی تپش اب جوانی کے چنگل میں بری طرح پھنس چکی ہے ۔۔ یہی وہ لمحے ہے جنہیں غنیمت جانتے ہوئے کچھ کر گزرنا چاہیے ۔۔ انہیں ساعتوں میں ہی عبادت ، ریاضت اور سیاست کا بھی مزہ آتا ہے ۔۔۔۔
لیکن جوانی کے اس دو راہے پر سب لاچار اور مجبور ہوکر غفلت کی نیند میں مست ہے۔۔ہوس زر کے مارے ہوئے کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔۔ ایسی تلخ اور بے وفا زندگیوں کے ہاتھ تنگ، دنیا والے یہاں سے کوچ کر جاتے ہیں۔۔سورج تھوڑا سا اور جھکا تو تپش میں کمی آگئی ۔۔ یقیّنا اب زندگی دہلیز پر کھڑی خدا حافظ کی منتظر ہے ۔۔ سورج کی تپش جوانی کی منزلوں کو چھوڑ کر بڑھاپے کی طرف گامز ن دنیا والوں کو سبق دے رہی ہے۔۔ اہل دنیا اس نا پائیدار زندگی سے بے خبر دونوں ہاتھوں سے دامن سمیٹنے میں مصروف ہے۔۔ انجام عیاں ہونے پر بھی پتّہ نہیں کیوں انجام سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔۔۔۔؟؟
سورج ٖڈھلتے ڈھلتے زرد ہوگیا جیسے اس نے پاؤں قبر میں لٹکا دئیے ہوں۔۔روشنی مدہم پڑ گئی ۔۔ ہر طرف زرد اجُالا ہے، روشنی اس قدر کم ہوگئی کہ پاس کھڑا ہوا بھی نظر نہیں آتا ۔۔جیسے بصارت کھو گئی ہو۔ اندھیرا اور بڑھ گیا تو ایک گز بھی پیدل نہیں چلا جاتا۔ قدم لڑکھڑانے لگے، جیسے بصارت اور سکت نہ ہونے کے پیش نظر یا تو گرنے کا اندیشہ ہے یا کسی سے ٹکرانے کا۔۔۔
کچھ لمحوں میں سورج اپنی تمام روشنی اور کرنوں کے ساتھ پہاڑوں میں ڈوبے جاتا ہے اور دنیا اندھیرا ہو جاتی ہے۔۔۔ہائے زندگی ۔۔۔!

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO