مضامین

خیبر پختونخوا کی سیاست میں ثریا بی بی مزاحمت اور خواتین قیادت کا سفر۔۔تحریر: فاطمہ حیدری 

حالیہ برسوں میں خیبر پختونخوا کی سیاسی تاریخ میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جس میں ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی ایک اہم سیاسی شخصیت کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ وہ ایک ایسے سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جس کی جڑیں علاقے کی سماجی اور سیاسی تاریخ میں گہری پیوست ہیں۔ ان کے والد مرحوم نور عالم خان ایک معروف سیاسی و سماجی شخصیت تھے جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود صوبائی سیاست میں اپنی پہچان بنائی۔ ان کا تعلق ریاست چترال کے اُس تاریخی انتظامی نظام سے بھی جوڑا ہے جہاں ان کے بزرگ مختلف ادوار میں اہم ریاستی انتظامی اور سماجی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ ان کے پردادا چھرمن حاکم ریاست چترال کے دور میں ریشن جیسے اہم اور دشوار علاقے کے حاکم کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

سیاسی میدان میں ثریا بی بی کی موجودگی کو ان کے حامی ایک تسلسلِ وراثت کے ساتھ ساتھ نئی سیاسی توانائی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے نہ صرف خاندانی سیاسی روایت کو آگے بڑھایا بلکہ چترال میں خواتین کی سیاسی نمائندگی کو بھی مضبوط بنایا۔ پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے وہ ایک متحرک سیاسی کردار کے طور پر ابھریں، جہاں وہ عوامی اجتماعات، سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی تحریکوں میں فعال شرکت کرتی رہی ہیں۔ ان کا سیاسی طرزِ عمل اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ سیاست محض منصب نہیں بلکہ عوامی خدمت کا مسلسل عمل ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں ان کو یہ مقام عمران خان کی قیادت میں ملا۔ وہ میدان میں ایک ایسی سیاسی شخصیت کے طور پر سامنے آئی ہیں جو اپنے بچوں کے ساتھ عمران خان کی ہر پکار پر سیاسی سرگرمیوں میں شریک کرتی رہی، یہ ایک تلخ اور کربناک حقیقت کے طور پر بھی دیکھی جاتی ہے کہ جب کوئی خاتون روایتی مرد غالب سیاسی ڈھانچے میں قدم رکھتی ہے تو اس کے لیے راستے صرف باہر سے نہیں بلکہ بعض اوقات اندر سے بھی دشوار ہو جاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی سیاست میں ثریا بی بی کی موجودگی اسی پیچیدہ حقیقت کی ایک مثال کے طور پر دیکھی جاتی ہے، جہاں قیادت کا سفر صرف سیاسی مقابلوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ سماجی رویوں اور اندرونی مزاحمتوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔

ان کے سیاسی سفر کے دوران یہ تاثر بھی سامنے آتا رہا ہے کہ پارٹی کے اندر بعض حلقوں میں ان کے عہدے اور سیاسی مقام کو مکمل طور پر قبول کرنے میں ہچکچاہٹ پائی گئی۔ مبصرین کے مطابق ایسے رویوں نے ان کے لیے سیاسی فضا کو مزید سخت اور دباؤ والا بنا دیا، جس کا اثر ان کی مجموعی سیاسی سرگرمیوں پر بھی محسوس کیا جاتا رہا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک خاتون رہنما کے طور پر انہیں نہ صرف سیاسی محاذ پر چیلنجز کا سامنا رہا بلکہ سماجی سطح پر بھی انہیں مختلف قسم کی تنقید، دباؤ اور غیر معمولی توجہ کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض آرا کے مطابق یہ کیفیت کئی مواقع پر ذہنی دباؤ اور اضطراب کا سبب بھی بنتی رہی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی قیادت کو مکمل اور برابر قبول کرنے کا سفر ابھی جاری ہے۔

اس پورے پس منظر میں ایک بڑی حقیقت یہ بھی سامنے آتی ہے کہ یہاں سیاست صرف نظریات اور کارکردگی کا نام نہیں بلکہ اکثر اوقات رویوں، برداشت اور قبولیت کے امتحان سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ ثریا بی بی کا سیاسی سفر اسی کشمکش کی علامت سمجھا جاتا ہے، جہاں ایک طرف وراثتی سیاسی تسلسل ہے اور دوسری طرف ایک ایسے سماج کی مزاحمت ہے جو تبدیلی کو مکمل طور پر قبول کرنے میں وقت لیتا ہے۔ یوں ان کی کہانی محض ایک سیاسی عہدے تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ اس وسیع تر سماجی سوال کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ کیا ہم واقعی خواتین کی قیادت کو وہی جگہ اور احترام دینے کے لیے تیار ہیں جو ہم روایتاً مرد قیادت کو دیتے آئے ہیں۔

ان کے سیاسی سفر کے دوران مختلف آرا اور تنقیدیں بھی سامنے آتی رہی ہیں، جیسا کہ کسی بھی سرگرم سیاسی شخصیت کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وہ مسلسل اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں اور عوامی سیاست میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

مجموعی طور پر ان کا سیاسی سفر اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں خواتین کا کردار بتدریج مضبوط ہو رہا ہے اور نئی سیاسی قیادت روایتی سیاسی ڈھانچوں میں تبدیلی کی علامت بن رہی ہے۔

ایک طرف اگر دیکھا جائے تو چترال سے مہتر چترال بھی تحریک انصاف کے جھنڈے تلے کامیابی حاصل کر چکے ہیں، تاہم ان کے سامنے پارٹی کے کسی کارکن کو کھل کر بولنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس ثریا بی بی نے بھی نمایاں اور شاندار سیاسی خدمات انجام دی ہیں۔ اگر اس تقابل کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایک خاتون کی سیاسی قیادت کو اس سماج میں مکمل طور پر قبول کرنے میں ابھی ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض مواقع پر سیاسی رویے مساوات کے اصولوں کے مطابق نہیں ہوتے، اور قیادت کے معیار کو صنفی زاویے سے بھی دیکھا جاتا ہے، جس سے خواتین رہنماؤں کو اضافی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اللہ جسے چاہے عزت دیتا ہے۔ کسی کی ذاتی زندگی پر سوال اٹھانے والے ایک دن اپنی عزت کے لیے بھی محتاج ہو سکتے ہیں۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock