
*ٹک ٹاک کلچر: چترالی معاشرے کے لیے ایک ابھرتا ہوا فتنہ*..تحریر: ابوسلمان
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی انسان کے لیے ایک عظیم نعمت بن کر آئی، مگر افسوس کہ ہم نے اس نعمت کو زحمت میں بدل دیا۔ جہاں دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں نے انٹرنیٹ اور جدید ذرائع ابلاغ کو علم، تحقیق اور ترقی کے لیے استعمال کیا، وہیں ہمارا معاشرہ اس کے منفی پہلوؤں میں الجھ کر اپنی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کرتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نہ دنیاوی میدان میں نمایاں مقام حاصل کر سکے اور نہ ہی اپنی دینی اقدار کی حفاظت کر سکے۔
خصوصی طور پر چترال جیسا سادہ، باحیا اور روایتی اقدار کا حامل علاقہ اب سوشل میڈیا کے اس سیلاب کی زد میں آ چکا ہے، جہاں ٹک ٹاک کلچر ایک خاموش مگر مہلک فتنہ بن کر ابھر رہا ہے۔ وہ خطہ جو اپنی پاکیزگی، غیرت اور تہذیبی انفرادیت کے لیے جانا جاتا تھا، وہاں اب نمود و نمائش، بے حیائی اور غیر سنجیدہ سرگرمیوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ تفریح کے نام پر پیش کیا جانے والا یہ کلچر درحقیقت نوجوان نسل کو اخلاقی زوال کے دہانے پر لا کھڑا کر رہا ہے۔
اسلام نے انسان کو ایک باوقار اور مہذب زندگی گزارنے کا راستہ دکھایا ہے، جس میں ہر عمل کے لیے واضح حدود مقرر کی گئی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کے طریقۂ کار کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
“وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُم بِصَوْتِكَ…” (سورۃ الاسراء: 64)
یعنی شیطان انسان کو مختلف آوازوں اور ذرائع کے ذریعے بہکاتا ہے اور جھوٹے وعدوں میں مبتلا کرتا ہے۔ مفسرین کے مطابق اس میں ہر وہ چیز شامل ہے جو انسان کو اللہ کی نافرمانی کی طرف مائل کرے، جیسے گانا بجانا، لغویات اور بے مقصد مشاغل۔ آج کے دور میں یہی عناصر سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک کی صورت میں نمایاں نظر آتے ہیں۔
*مرد و زن کا اختلاط*
ٹک ٹاک کلچر نے سب سے زیادہ جس چیز کو فروغ دیا ہے وہ غیر ضروری اختلاط ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں محض ویڈیوز بنانے کے لیے ایک ساتھ آتے ہیں، جو اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“خبردار! کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ ہو، کیونکہ ان کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے” (ترمذی)۔
اسی طرح حضرت عقبہ بن عامرؓ کی روایت میں آتا ہے کہ غیر محرم رشتہ داروں کے ساتھ بے تکلفی کو بھی خطرناک قرار دیا گیا۔
*بے حجابی اور حدود سے تجاوز*
اسلام نے خواتین کے لیے پردے اور وقار کا خاص اہتمام کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ…” (الاحزاب: 33)
اور مزید فرمایا:
“يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ…” (الاحزاب: 59)
ان آیات میں خواتین کو حیا، پردہ اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کی تلقین کی گئی ہے۔ لیکن ٹک ٹاک کلچر میں اس کے برعکس خودنمائی اور بے پردگی کو عام کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی بگاڑ کا سبب ہے۔
*لغویات اور بے مقصد سرگرمیاں*
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
“وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ…” (لقمان: 6)
یعنی کچھ لوگ ایسی باتوں میں مشغول ہو جاتے ہیں جو انہیں اللہ کے راستے سے دور کر دیتی ہیں۔ مفسرین نے اس میں گانا بجانا اور فضول مشاغل شامل کیے ہیں۔ آج کے دور میں یہی لغویات سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے پھیل رہی ہیں، جو نوجوانوں کو سنجیدہ زندگی سے دور کر رہی ہیں۔
*بے حیائی کا فروغ*
ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر بے حیائی کو ایک معمول بنا دیا گیا ہے۔ حالانکہ قرآن میں واضح تنبیہ موجود ہے:
“إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ…” (النور: 19)
یعنی جو لوگ چاہتے ہیں کہ معاشرے میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ چترال جیسے باحیا معاشرے میں اس رجحان کا داخل ہونا ایک خطرناک علامت ہے۔
*جان لیوا رجحانات*
یہ کلچر صرف اخلاقی نہیں بلکہ جسمانی نقصان کا بھی باعث بن رہا ہے۔ خطرناک مقامات پر ویڈیوز بنانے کے شوق میں کئی نوجوان اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
“وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ” (البقرہ: 195)
یعنی اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اس کے باوجود محض شہرت کے لیے جان کو خطرے میں ڈالنا ایک سنگین غلطی ہے۔
*سماجی بگاڑ اور جرائم*
سوشل میڈیا گروپس کے درمیان حسد، مقابلہ بازی اور اختلافات بعض اوقات شدید تنازعات اور جرائم کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ رجحان معاشرتی امن کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
*اصلاح کی ضرورت*
چترالی معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی روایات، دینی اقدار اور خاندانی نظام کی حفاظت کرے۔ علما، اساتذہ اور والدین کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی طرف راغب کریں۔
والدین کو خصوصاً چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت پر توجہ دیں، انہیں یہ سمجھائیں کہ اصل کامیابی علم، کردار اور دیانت میں ہے، نہ کہ وقتی شہرت اور دکھاوے میں۔
اگر ہم نے اس فتنے کا بروقت ادراک نہ کیا تو ہماری آنے والی نسلیں اخلاقی اندھیروں میں گم ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اس چیلنج کا مقابلہ کریں اور اپنی نسلوں کو اس زوال سے بچائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین یارب العالمین
