چوروں اور نااہل حکمرانوں کا اصل اور مکروہ چہرہ عوام کے سامنے لایا جائے گا۔عنایت اللہ خان کا چترال میں ورکرزکنونشن سے خطاب
چترال(چترال ایکسپریس ) پولو گراونڈ چترال میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق سنیٹر و صوبائی وزیر اور امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا(شمالی)عنایت اللہ خان نے
کہا ہے کہ سانحہ سوات کے ذمہ داراور 10کروڑ روپے کے صرف بسکٹ کھاجانے والے اور اس صوبے میں کرپشن کی نئی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے کوہستان میں 40ارب روپے کرپشن کا میگااسکینڈل میں ملوث حکمرانوں سے صوبے کے عوام کو آزادکرنے کے لئے جماعت اسلامی نے ملاکنڈ ڈویژن کی سطح پر چارنکاتی پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اتوار کے روز پولو گراونڈ چترال میں
ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عوام اب کرپٹ حکمرانوں سے بری طرح مایوس ہوچکے ہیں جن کے نام پر ہر سال 700ارب روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، صحت کارڈاور دوسرے ناموں سے ہڑپ کررہے ہیں جبکہ ورلڈ بینک کی اعدادوشمار کے مطابق ملک میں غریبوں کی تعداد ساڑھے 10کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی کی جانب سے لانچ کردہ چار نکاتی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی کی دعوت کو گراس روٹ پر لے جاتے ہوئے ہر محلہ و مسجد کی سطح پر پہنچانے، قرآن وسنت کے ساتھ رشتہ کو مضبوط کرنے، ڈویژن کے 10لاکھ افراد تک دعوت پہنچانے اور علاقے کے مسائل اور حکمرانوں کی مظالم کے خلاف ایک سیاسی بیانیہ کو بھرپور طور پر ترویج دینا اس پروگرام کے حصہ ہوں گے۔ انہوں نے کہ
اکہ جماعت اسلامی کا بیانیہ ظلم اور کرپشن کے خلاف بیانیہ ہوگا جس سےچوروں اور نااہلوں کی حکمرانوں کا اصل اور مکروہ چہرہ عوام کے سامنے لایا جائے گاجوکہ صرف ادویات کی خریداری میں 2ارب روپے ہضم کربیٹھے۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ایک مکمل اور منفرد تحریک ہے جوکہ فرقہ، مسلک، مدرسے کی بنیاد پر سیاست سے پاک ہے جوکہ دعوت، تنظیم، اصلاح معاشرہ اور انقلاب امامت کے ذریعے فاسق اور فاجر لوگوں سے حکومت کی باگیں صالح اور نیک افراد کے ہاتھوں میں دینے کے لئے کوشان ہے اور اقتدار کو شر کی بجائے خیر کا سرچشمہ بنانا چاہتا ہے۔ اس موقع پر پارٹی کے سیکرٹری جنرل حلیم باچا، صوبائی نائب امیر مغفرت شاہ اور ضلعی امیر وجیہہ الدین نے بھی خطاب کیا اور پارٹی کے کارکنوں پر زور دیاکہ وہ لوگوں کے دلوں اور دروازوں پر دستک دے کر تحریک کی دعوت ان تک پہنچادیں جوکہ تمام دوسری سیاسی قلابازوں سے تنگ آچکے ہیں۔ انہوں نے چترال کے مسائل پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی اور ان کے حل پر زور دیا۔
