تاریخِ انسانی میں علم وہ چراغ ہے جس کی روشنی نے اندھیروں کو شکست دی۔ مگر سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ علم کا اصل سرچشمہ وہ ذات ہے جس نے قلم کو پیدا کیا اور انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔
اسی روشنی کی کامل تجلی نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے، جنہیں “امی” کہا گیا، مگر وہی “علم کا شہر” بھی قرار پائے۔
امی — ظاہری معنی اور نبوت کی حکمت:
قرآن مجید میں رسول اللہ ﷺ کے لیے بار بار “النبی الأمي” کا لقب استعمال ہوا:
> “هو الذي بعث في الأميين رسولاً منهم…”
(الجمعہ: 2)
“وہی ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں ایک رسول انہی میں سے مبعوث فرمایا…”
یہ “امی” ہونا محض ان پڑھ ہونا نہیں بلکہ ایک معجزہ اور حکمتِ ربانی ہے۔
قرآن گواہی دیتا ہے:
> “وما كنت تتلو من قبله من كتاب ولا تخطه بيمينك، إذاً لارتاب المبطلون”
(العنكبوت: 48)
“اور آپ (اے نبی!) اس سے پہلے کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے، اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے، ورنہ باطل پرست شک کرتے۔”
یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تعلیم دینے کے لیے وحی کا راستہ چنا، انسانی تعلیم و تربیت کا نہیں، تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ آپ کا علم خالص الٰہی علم ہے، جس میں انسانی اثر کا شائبہ تک نہیں۔
امی — اہلِ مکہ کی نسبت سے:
“امی” کا ایک اور پہلو لغوی اور جغرافیائی ہے، جیسا کہ قرآن میں مکہ مکرمہ کو “أم القریٰ” کہا گیا:
> “وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا…”
(الشوریٰ: 7)
“اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف عربی قرآن کی وحی کی تاکہ آپ ‘ام القریٰ’ (مکہ) اور اس کے ارد گرد والوں کو خبردار کریں۔”
مکہ کو چونکہ تمام بستیوں کی ماں کہا گیا، اس نسبت سے اہلِ مکہ کو ‘امیون’ بھی کہا گیا۔
چنانچہ نبی ﷺ کا “امی” ہونا نہ صرف آپ کی نبوت کی دلیل ہے بلکہ مکہ مکرمہ کے مرکزی کردار کی طرف بھی اشارہ ہے۔
علم کا شہر — وحی سے روشن دروازہ:
نبی کریم ﷺ کو علم سکھانے والا کوئی انسان نہ تھا۔ آپ کا استاد خالقِ کائنات خود تھا:
> “الرَّحْمَٰنُ، عَلَّمَ الْقُرْآنَ، خَلَقَ الْإِنسَانَ، عَلَّمَهُ الْبَيَانَ”
(الرحمٰن: 1-4)
آپ ﷺ کی علمیت اور حکمت کا عالم یہ ہے کہ آپ نے صدیوں کی جہالت کو چند برسوں میں ہدایت میں بدل دیا۔
اور یہی حقیقت نبی ﷺ کے اس فرمان میں سمٹی ہے:
> “أنا مدينةُ العلمِ، وعليٌّ بابُها، فمَن أرادَ المدينةَ، فليأتِ البابَ”
(مستدرک حاکم، ترمذی، طبرانی)
“میں علم کا شہر ہوں، اور علیؓ اس کا دروازہ ہیں۔ پس جو شہر میں داخل ہونا چاہے، وہ دروازے سے آئے۔”
اس حدیث کی روشنی میں نبی ﷺ کے علم کو شہر کہا گیا — یعنی وسیع، جامع، محفوظ اور منظم۔
امی اور علم کا اجتماع — معجزۂ محمدی:
یہ بات ظاہراً متضاد لگتی ہے کہ ایک شخص “امی” ہو اور “علم کا شہر” بھی ہو۔
مگر یہی تو معجزہ ہے۔
ایک ایسا رسول جس نے نہ کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا، نہ قلم پکڑا، نہ تختی دیکھی،
لیکن دنیا کے لیے ہدایت، فصاحت، عدالت، معیشت، عبادات، سیاست، اور علمِ آخرت کا کامل نصاب چھوڑ دیا۔
> ❝ نبی ﷺ کا “امی” ہونا دلیل ہے کہ ان کا علم نہ زمینی تھا، نہ بشری — بلکہ وحی الٰہی کا خالص نور تھا ❞۔
حاصل مدعا اور نتیجہ یہی ہے ک نبی کریم ﷺ کا “امی” ہونا آپ کی نبوت کی صداقت کا ثبوت ہے،
اور “علم کا شہر” ہونا آپ کی نبوت کی وسعت اور رفعت کا عنوان۔
“امی” ہونا ظاہر کی آنکھ ہے،
“علم کا شہر” ہونا باطن کی حقیقت ہے
پس اے نادانوں ناصبی ذہن رکھنے والے عالم نما جاہیلو اور راہ راست میں کھڈے ڈونذھنے والے روشن خیالو۔
اگر علمِ حقیقی چاہتے ہو تو درِ علیؓ سے داخل ہو کر شہرِ علمِ محمد ﷺ میں قدم رکھو،
جہاں ہر سوال کا جواب، اور ہر تاریکی کے لیے روشنی موجود ہے۔
✍️ از: حقیرو فقیر
(ایک طالبِ درِ نبوّت ﷺ)
