کاوشات اقبال

آپ جو کچھ بننا چاہتے ہیں درست طور پر بنیں۔..کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔محمد اقبال شاکر

ہم میں سے ہر ایک مثالی ہے۔کوئی بھی اس انداز سے نہیں ہنستا اور روتا جس انداز سے آپ روتے ہیں اور ہنستے ہیں۔۔کوئی بھی اس انداز سے نہیں چلتا پھرتا ۔اس انداز سے بات چیت نہیں کرتا اور اس انداز سے تعلق نہیں کرتا جس انداز سے آپ کرتے ہیں۔۔ہم سب اس اہلیت کے حامل ہیں کہ ہم وہ کام کر سکتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں اور ہم وہ زندگی گزار سکتے ہیں جو ہم گزارنا چاہتے ہیں۔۔ہمارا مثالی پن ہمیں اپنے مقاصد سے آشنا کرتا ہے اور ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ ہم یکسوٸی کے ساتھ ان کا تعاقب بھی کریں۔
ہماری زندگی کا سفر ایک ایسا سفر ہر گز نہیں ہے جس سے کسی چانس یا موقع پر چھوڑا جاسکے ورنہ ہم کھبی اپنی منزل مقصود پر نہیں پہنچ سکتے ہیں یہ منزل اور مقصد ہی ہے جو مطابقت یا لگاو اورمطلب عطا کرتی ہے
۔ہماری زندگی کا جوہر یہ ہے کہ ہم جو کچھ بھی بننا چاہتے ہیں درست طور پر بنیں جب ہم وہ کچھ بنتے ہیں جو کچھ ہم بننا چاہتے ہیں ۔۔۔ہم یہ انکشاف کرتے ہیں کہ ہم کیا ہے ہم کس مقصدکے حصول کیلے سینہ تان کر کھڑا ہو سکتے ہیں اور کس کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہو سکتے ہیں۔
انسان کامل ہر گز نہیں ہے بلکہ نامکمل اور کمزور ہے کیو نکہ وہ نامکمل ہے وہ مادی اشیاءکے حصول کے زریعے اپنے اپ کو مکمل کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ بہت سے مسائل کا شکار ہوتا ہے اپنی جدوجہد میں فتح یاب ہونے کی خاطر وہ دیگر لوگوں کی مدد اور تعاون کا طلبگار ہوتا ہے وہ پناہ حاصل کرنے کیلے اپنے اردگرد نظر دوڑاتا ہے اگرچہ وہ کچھ قدر مدد تعاون اور پناہ کے حصول میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے لیکن یہ سب کچھ محض عارضی ہوتا ہے ۔۔جب کہ حقیقت اور سچاٸی یہ ہے کہ انسان محض اپنی کوششوں پر ہی انحصار کر سکتا ہے درحقیقت پناہ وعیرہ کسی کی اپنی ذاتی جدوجہد میں ہی پنہان ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کہیں سے بھی میسر نہیں آتی۔۔
اگر ہم یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کے پاس کیا کچھ موجود ہے جو کچھ ہمارے پاس موجود نہیں ہے تب ہم عدم طمانیت کا شکار رہیں گے اور ناخوش بھی رہیں گے اور اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ اپنی مطلوبہ شے کے حصول کے بعد ہمارا ذہین ایک اور محرومی تلاش کرے گا عدم اطمینان کا شکار رہنے کی یہ عادت آپ کو کمزور اور مایوسی کا شکار بنا دیتی ہے اگر ہم اپنے آپ کو اپنے آپ کو مورد الزام ٹہرانے سے دستبردار ہو جاتے ہیں کہ ہم امیر نہیں ہیں یا زیادہ کامیاب نہیں ہیں۔۔جب ہم اپنے دلوں میں ایسے لوگوں کیلے جگہ کے حامل ہوتے ہیں جو ہم سے ذیادہ محرومی کا شکار ہیں جب ہمارے پاس اظہار تشکر کیلے وقت موجود ہوتا ہے اس حوالے سے کہ جو کچھ ہمارے پاس موجود ہے یا جس کے ہم حامل ہیں ۔۔تب ہماری خوشی اور خوش باشی زیادہ پائیدار ہوگی۔۔اظہار تشکر ایک پٹھے کی مانند ہے جس کی جب ورزش کی جاتی ہے وہ ہمیں اپنے آپ کے بارے میں اپنی ذات کے بارے میں ایک بہتر احساس سے دوچار کرتا ہے۔۔
لاتعداد عوامل ایسے ہیں جو ہم سے ہماری یہ اہلیت چھین لیتے ہیں جس کے تحت ہم اس سے سراہتے ہیں جو کچھ ہمارے پاس موجود ہوتا ہے یا جس کے ہم حامل ہوتے ہیں اور ہم اپنی زندگی سے لطف اندوز ہونے سے محروم ہو جاتے ہیں دنیا کی جدت پسندی اور چمکیلا پن نے ہمیں مسلسل عدم طمانیت کا شکار بنا دیا ہے ہمیں یہ درس دیا جاتا ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس موجود ہے اس کے ساتھ خوش نہ رہیں اور ہمیشہ یہ تربیت دی جاتی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ طلب کریں اور یہ اظہار تشکر کے تجربے کے عین برعکس ہے اظہار تشکر ہمیں یہ کہنے پر اکساتا ہے کہ جو کچھ میرے پاس موجود ہے اور جس کا میں حامل ہوں وہ اس لمحے اور عین اس وقت میرے لیے کافی ہے ۔۔جو کچھ ہے وہ ہی کافی ہے اور اس سے جو کچھ بننا چاہتے ہیں وہ درست طور پر بنیں۔۔اپنی انفرادیت برقرار رکھیں اور اپنے مثالی پن کو پہچانیں۔۔ جو متوازن زندگی کی کنجی ہے جس سے آسانی کے ساتھ مزہ لے سکتی ہیں۔۔۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO