صحیح طرز فکر سے تعمیر حیات اور ترقی کا مینار ممکن۔۔۔ یوم آذادی کا تقاضہ۔۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔محمد شاکر
کسی انسان کیلے سب اہم چیز صحیح طرز فکر ہے صحیح طرز فکر انسان کو تعمیر اور ترقی کی طرف لے جاتا ہے اس کے برعکس غلط طرز فکر اس کو تعمیر اور ترقی دونوں سے محروم کر دیتا ہے۔۔
انسان کی صفت یہ ہے کہ وہ فکری صلاحیت رکھتا ہے ۔انسان کی بڑاٸی یہ ہے کہ وہ سوچتا ہے اور سوچ کے تحت اپنے عمل کا منصوبہ بناتا ہے انسان صحیح کام بھی کرتا ہے اور غلط بھی ۔اس لٸے ضروری ہے کہ ہر آدمی اپنے سوچنے کی صلاحیت کو آخری حد تک بیدار کرے تاکہ اس کی سوچ درست سوچ ہو اور اس سوچ کے نتیجے میں ہونے والے کام بھی درست ہو۔
زندگی ایک آرٹ ہے جو لوگ اس آرٹ کو جانیں وہ اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کر سکتے ہیں جو لوگ اس آرٹ سے بے خبر ہوں اس کیلے دنیا میں ناکامی کے سوا اور انجام مقدر نہیں۔اس آرٹ کو مثبت طرز فکر کہا جا سکتا ہے اس کے برعکس منفی طرز فکر آدمی کی اپنی فکری صلاحیت ارتقا نہ کرسکے وہ صرف خارجی احوال کے زیر اثر سوچے اور اپنی راۓ بناۓ اس اعتبار سے دیکھئے تو زندگی کا سارا معاملہ صحیح سوچ یا غلط سوچ کا معاملہ ہے۔مثبت سوچ کامیابی کا زریعہ ہے اور غلط سوچ ناکامیابی کا زریعہ یہی اصول افراد کیلے اور قوموں کیلے بھی ہے آدمی اگر اپنے ذہین کو بند نہ رکھا ہو تو صحیح فکر کو پانا کچھ مشکل نہیں آدمی کی خود اپنی فطرت اس کی طرف راہنماٸی کرتی ہے کاٸنات میں بکھری ہوٸی نشانیاں اسی کا سبق دیتی ہیں تاریخ کے تجربات یہی پیغام دے رہے ہیں تمام علوم اس کی طرف راہنماٸی کرتے ہیں ایسی حالت میں وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو آنکھ رکھتے ہوۓ نہ دیکھے کان رکھتے ہوۓ نہ سنے اور عقل رکھتے ہوۓسمجھنے سے انکار کرے۔۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کی تمام کاروائیاں اس کی سوچ کی تابع ہوتی ہیں سوچ اگر درست ہو عمل بھی درست ہوگا اگر یہ درست نہیں تو عمل بھی تو درست نہ ہوگا صحیح سوچ سے صحیح آغاز ملتا ہے اور یہ صحیح نتیجہ تک پہنچاتا ہے۔۔
انسانی سماج میں ہمیشہ باہمی جھگڑے جاری ہیں ان جھگڑوں کا وجود کوٸی لازمی چیز نہیں یہ خود سوچنے والے انسان کے اوپر انحصار کرتا ہے کہ وہ اپنے اپ کو جھگڑوں میں پھنساۓ اور چاہٸے تو اپنے آپ کو ان سے محفوظ رکھے یہ معاملہ سب کیلے ہے۔
انسانی سماج میں زیادہ تر جھگڑے الفاظ سے شروع ہوتے ہیں لوگ مخالفانہ الفاظ سن کر بھڑک جاتے ہیں اس کے بعد اس کے سوچ انتقام کی رُخ پر چل پڑتی ہے اور نوبت لڑاٸی تک پہنچتی ہے منفی عمل ہمیشہ منفی سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے اس کا حل یہ ہے کہ ایسی حالات میں مثبت سوچ قاٸم رکھا جاۓ منفی کاروائی کا جواب بھی مثبت انداز میں دیا جاۓ تب کوٸی آسان سا حل نکل سکتا ہے ورنہ معاملہ اُلجھ جاۓ گا ۔۔
اختلافی معاملات میں یہ بہتریں پالیسی ہے اگر کوٸی شخص اپ کیلے حقیقی خطرہ بن رہا ہو تو ضرور اس کا مقابلہ کیجیۓ اور اس کو روکنے کی کی کوشش کیجٸے اگر وہ بات صرف الفاظ کی حد تک ہو تو خواہ آپ کے جذبات کتنا ہی مجرح ہوتے ہوں اس کو نظر انداز کیجٸے جزبات کا مجروح ہونا کوٸی نقصان کا مسٸلہ نہیں ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ سوچ ہی کی سطح پر انسان کی ہر کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ ہوتا ہے اعلی زندگی نام ہے اعلی سوچ کا اگر آپ زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنے اندر صحیح سوچ پیدا کیجٸے صحیح سوچ کا دوسرا نام صحیح عمل ہے اور صحیح عمل کا دوسرا نام کامیابی۔۔۔
اس دنیا میں انسان کے پاس وقت بہت کم ہے اسی کے ساتھ اس کے وسائل بھی بہت محدود ہیں ایسی حالت میں کوٸی بھی شخص اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ دوسروں کو سبق سکھانے یا ان سے بدلہ لینے کیلے ان کے پیچھے دوڑتا رہے ایسی روش کی قیمت آدمی کو یہ دینی پڑتی ہے کہ اس کی اپنی تعمیر وترقی کا عمل رک جاتا ہے۔
انسان پیدایشی طور پر معیار پسند ہے وہ ہمیشہ اعلی معیار کی تلاش میں رہتا ہے وہ ہر معاملے میں خیر برتر کو حاصل کرنا چاہتا ہے اس قسم کی معیار پسندی نظری طور پر بہت اچھی معلوم ہوتی ہے مگر عملی طور پر وہ صرف تباہ کن ہے اس کا سبب یہ ہے کہ کوٸی آدمی اس دنیا میں اکیلا نہیں ہے ہر ایک اپنا ذاتی نظریہ رکھتا ہے اس صورت حال میں موجودہ دنیا میں ہر ایک کیلے معیار طلبی کو ناقابل حصول بنادیا ہے تو قابل عمل صورت صرف ایک ہے اور وہ دوسروں کے ساتھ ہم آہنگی ہے اب کسی انسان کیلے معقول روش یا صحیح طرز فکر یہ ہے کہ کوٸی معاملہ پیش اۓ تو بڑی براٸی کو چھوڑ دے اور چھوٹی براٸی پر راضی ہو جاۓ۔آدمی کو چاٸے کہ جب بھی کوٸی معاملہ پیش آۓ تو غیر حقیقی راۓ قاٸم کرنے کی غلطی نہ کرے وہ چیزوں کے فرق کو جانے اور اس کے مطابق اپنی راۓ قاٸم کرے جو آدمی اس حکمت کو نہ سمجھے اس کا حال ایک ایسے بس چلانے والے کا ہوگا جو خالی اور بھری سڑک کے فرق کو نہ جانےاور دونوں جگہ یکسان طور پر اپنی گاڑی دوڑانے لگے۔
ہماری دنیا اسباق اور نصیحتوں سے بھری پڑی ہے ہر طرف کوٸی نا کوٸی چیز موجود ہے جس سے آدمی اپنے لیۓ سبق لے سکے اور بہتر اداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کرے ضرورت صرف یہ ہے کہ چیزوں کو کھلی آنکھ سے دیکھا جاۓ اور کھلے ذہین کے ساتھ ان پر غور کیا جاۓ تو بہتر زندگی کی طلوع سحر نصیب ہو سکتی ہے۔
