سوات اور بونیر میں کلاؤڈ برسٹ سے قیامت صغریٰ..کاوشات اقبال سے ایک ورق۔محمد اقبال شاکر
گزشتہ سالوں سے کے پی کے دہشت گردی کے سیاہ دور سے گزر رہا ہے یہاں کے باسی دہشت گردی کی بہیانک اذیت سے دو چار ہیں ہزاروں جانوں کی شہادت اور گھروں سے نقل مکانی کی قربانی بھی دے چکے ہیں۔ اور یہ عمل اب بھی جاری ہے دہشت گردی ایک طرف دوسری طرف بادل پھٹنے کی صورت میں موسمیاتی تبدیلی ایک آفَت کی صورت میں اس صوبے کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے یہ آفت اپنے ساتھ حسین دھرتی وادی سوات کو بری طرح مسخ کردیا ہے سینکڑوں افراد لقمہ اجل اور سینکڑوں کی تعداد میں زخمی ہیں گزشتہ سال اس صوبے کے دو ضلعے چترال لوٸر اور چترال اپر بھی موسمیاتی تبدیلی کے زد میں اچکے تھے جو انفراسٹکچر کے ساتھ انسانی آبادی اور زرعی آراضی بہا لےگٸے تھے۔ چونکہ پاکستان میں سب سےذیادہ گلشیرز اس ریجن میں موجود ہیں سوات اور چترال گلیشیر کے بلکل گود میں واقع ہونے کی وجہ اس قسم کے آ فات سے گزرنا پڑتا ہے ۔یہ ریجن جنگلات اور قدرتی ذخاٸر سے مالامال ہے۔اکثر ان علاقوں میں جنگلات کی کٹاٸی اور پہاڑوں میں بے تحاشہ کٹاٸی سے ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں قیامت صغریٰ برپا ہے عیر معمولی ہے یہ قیامتیں کسی انسان یا دہشت گروہ نے نہیں دکھاٸی ہیں یہ فطرت اور قدرت کی طرف سے نازل ہوٸی ہیں ان طاقتوں کے سامنے انسان اور حکومت بھی پریشان ہوٸی ہے اس صوبے کی حکومت بھی فطرت و قدرت کی طرف سے اچانک نازل شدہ آفات کے سامنے بے بس ہے سب سے زیادہ اموات ضلع بونیر میں ہوٸی ہیں شانگلہ ،سوات،بٹگرام،باجوڑ اورصوابی کے علاقے اس قدرتی آفت کی وجہ سے بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔۔جانی نقصانات کے علاوہ مالی نقصانات کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کٸی قصبے صفحہ ہستی سے مٹ گٸے ہیں ان کی ازسر نو آباد کاری سہل نہیں ہے۔سوات کا مشہور تجارتی مرکز مینگورہ بازار مکمل خراب ہے لوگوں کے تجارتی مراکز اور دوکان سامان اور قیمتی اثاثہ جات سیلاب میں ڈوب گٸے ہیں سکول مسجد اور پولیس سٹیشن تباہ ہو چکے ہیں صوباٸی اور مرکزی حکومت کو اس پر اربوں روپے خرچ کرنا پڑیں گے ۔
یہ صوبہ جو پہلے ہی دہشت گردی کے خونخوار اور ملک دشمن فتنے کی کارستانیوں کے سبب آۓروز خون میں نھا رہا ہے صوباٸی اور وفاقی حکومت کے درمیاں چپقلشوں کو پست پش ڈال کر ان علاقوں کی تعمیر نو کی طرف بڑھنا ہوگا اور سیاسی دست و گریبان سے باز رہنا ہوگا۔
صوبے میں برسنے والی یہ سماوی قیامتیں اور ہلاکت خیز سیلاب کلاوڈ برسٹ”Cloud Brust“سے جوڑا جاتا ہے بادل پھٹنا ایک مختصر وقت میں انتہاٸی تیز اور زوردار بارش ہے جو اپنے اندر زوردار اور دہشت ناک سیلابی صورت حال پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو انسان سے لیکر پہاڑ تک سب کو ملیامیٹ کر ڈالتا ہے یہ تباہ کن عمل دراصل موسمیاتی تبدیلیوں سے منسلک ہے اور موسموں کی فطرت کو بگاڑنے میں مغربی ممالک کی تیز رفتار صنعتی دنیا نے مرکزی کردار ادا کیا ہے ان کی انسانیت اور فطرت دشمن جراٸم کی سزا غریب ملکوں کو مل رہی ہے اور ظلم کی انتہا یہ ہے کہ یہ امیر ترین ممالک ان ملکوں کی ایسی صورت حال میں ان کی نقصان بھرنےاور تلافی کرنے سے بھی انکاری ہوتے ہیں۔
سالوں سے حضرت انسان فطرت کے ساتھ کھلواڑ کرتے آرہے ہیں اب قدرت ہم سے انتقام لے رہی ہے ایک طرف ہمارے آنکھوں کے سامنے یہ نہ بھولنے والی تباہی اور پھر جنگلات اور قدرتی نظام کے ساتھ ہمارا رویہ قابل تشویش ہے اس نظام کو خراب کرنے اور چند سکوں کی خواہش نے کچھ بلہوس درندہ نما انسان کو جنم دیا ہے جو اپنے دنیا کو تو مصنوعی جنت بناتے ہیں لیکن باقی انسانیت کیلے جہنم جو موجودہ صورت حال کی صورت میں درپیش ہے یہ ٹمبر مافیا بھی اس جہنم سے نہ بچ سکیں گے ان کے محل بھی ضرور ایسی صورت حال سے گزر جاٸیں گے کیونکہ قانوں فطرت بدلہ لیے بیغیر چھوڑتا نہیں۔۔۔
موجودہ آفت ہم سب کا مشترکہ امتحان ہے ہم صرف متحدہ رہ کر ایسی آفات کا مقابلہ کر سکتے ہیں سب کو مل کو اپنی اپنی بساط سے بڑھ ریلف کے کاموں میں حصہ ڈالنا ہوگا تاکہ متاثر علاقوں میں ریلیف کے کاموں میں تیزی آۓ ۔
موسمیاتی تبدلیوں کے اس نۓ فنامنا کیلے جدید تحقیق ،موثر تدبیر اور جدید مشینری کی فوری اور زیادہ ضرورت ہے تاکہ اس قسم کے آفات سے نقصانات کم سے کم ہوں اور انسانی جانوں کا ضیاع بھی نہ ہو۔
اہلیاں چترال صوبے میں سینکڑوں اموات، مالی نقصانات پر بہت افسردہ اور غمگین ہیں ان کے لواحقین سے صبرو تحمل اور حوصلہ پکڑنے کی توقع رکھتے ہیں اور دعاگو ہیں اللہ پوری امت کو ایسی ناگہانی آفتوں سے اپنی حفظ آمان میں رکھے۔۔۔امین
