کاوشات اقبال

افعان سر زمین کی طرف چترال سے افعان بھاٸیوں کی باعزت واپسی۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔

افعانستان پہ لڑی جانی والی روسی جنگ 9سال تک لڑی گٸی اس کا آعاز فروری 1989 میں ہوا اس لڑاٸی میں ایک طرف تو افعان فوج کے نام پر روس کی فوج لڑ رہی تھی تو دوسری طرف ساری دنیا کے مجاہدین روس کے خلاف برسر پیکار تھے امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ کی وجہ سے امریکہ اس جنگ میں کھل کر نہیں کود سکتا تھا اور اس نے کھل کر مجاہدیں کی تربیت اور ہر طرح کی معاونت کی اور آربوں ڈالر کا سرمایہ اس جنگ میں ڈبو دیا۔
27 دسمبر 1979 وہ سرد صبح تھی جس میں افعان فوجیوں میں ملبوس روسی خفیہ فوج کے کمانڈوز اپنے ٹھکانوں سے نکل کرصدارتی محل سمیت دیگر سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیاافعان صدر حفیظ اللہ امین کو قتل کردیا یوں چند ساعتوں میں افعان حکومت کسی مزاحمت کے بیغیر دھڑام کے ساتھ گر گیا کچھ دیر بعد ریڈیو کابل پر یہ اعلان جاری کر دیا گیا کہ کمیو نسٹ پار ٹی کے راہنما بیرک کارمل نئی افعان حکومت کے سربراہ ہونگے۔
افعان حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد دو مزید ڈویژن روسی دستہ افعانستان میں داخل ہوۓ تو افعانستان میں روسی فوج کی تعداد 30ہزار سے تجاوُز کر چکا تھا جو ہر قسم کی جدید ہتھیاروں سے لیس تھے جنہوں نے افعان سرزمیں پر فضائی اور زمینی حملے تیز کر دیے۔
افعانستان چاروں طرف سے خشکی سے گھرا ہو ملک ہے جس کا کوئی ساحل سمندر نہیں اس کی سمدری تجارت اس بنا پر پاکستان سے ہوتی ہے زیادہ حصہ ہندوکش پہاڑی سلسلے پر مشتمل ہے افعانستان میں پانی کی کمی ہے اگرچہ دریاۓ آمو،دریاۓ کابل،دریاۓ ہلمنداور دریاۓھریرو واقع ہیں جو کہ بہت نیچے کی سطح پر بہتے ہیں۔افعانستان کی جعرافیائی سرحد5529کلو میٹر لمبی ہے جس میں سب سے زیادہ علاقہ 2640کلومیٹر پاکستان کے ساتھ لگتا ہے تقریبا 14%حصہ قابل زراعت ہے یہ سرزمین قدرتی زخائر سے مالامال سرزمین ہے اس کا موسم گرمیوں میں گرم جب کہ سردیوں شدید تر سرد ہوتا ہے جلال آباد اور اس کے ساتھ علاقوں کا موسم گرم ہے گرمی میں بارشیں زیادہ ہوتی ہیں۔
پاکستان کے ساتھ اس کا زیادہ حصہ ملنے کی وجہ سے جنگ کے دوران بہت کثیر تعداد میں افعان مہاجر پاکستان کا رخ کیا اور اس صوبے میں کثیر تعداد میں داخل ہوۓ جو کہ ان کیلے  آسان صوبہ تھا انہیں مختلف کیمپوں میں جگہ مہیا کیا گیا ان میں بعض سفید پوش مہاجر شہری آبادی میں مقامی لوگوں سے مکانات کراۓ پہ لیکر رہنے لگے اور کیمپوں میں رہنے والے مہاجر مزدوری کیلے شہروں اور قصبوں کا رخ کرتے رہتےاور یوں ایک کلچر میں گل مل کر رہنے کی وجہ سے ان کا طرز زندگی اس صوبے کے ساتھ ایک جیسا ہو گیا جس کی وجہ سے تہذیب وثقافت بھی آپس میں گل مل گٸے تمدن اور رہائش پر بھی گہرے اثر مرتب ہوۓ۔
افعان بارڈر کے ساتھ بلکل ملا ہوا ضلع چترال ہے جو کہ پانچ جہگوں سے گاڑی اور پیدل راستے کی مدد سے چترال کے ساتھ مل جاتا ہے اس بنا پر اس وقت تقریبا 39000ہزار مہاجریں چترال پہنچ گٸےاور یوں چترال میں افعان مہاجرین کی بڑی تعداد رہائش پزیر ہوٸی چونکہ چترال میں آبادی کم ہونے کی وجہ سے اس آبادی میں اضافہ مہاجرین کی تناسب اور علاقوں سے زیادہ رہی اس وجہ سے چترال اور افعان مہاجرین کے درمیاں بہت ہی قریب کا تعلق رہا چترال میں فارسی زبان اور فارسی طرز زندگی کے کچھ آثرات اب بھی موجود ہیں افعان مہاجریں آنے جانے کیلے شاسلیم ،وادی ارسون،بروغل اور آرندو وعیرہ کے راستوں پہ پیدل اور گاڑیوں کا استعمال بھی کرتے تھے
ان کو مختلف مہاجر کیمپوں میں رہائش مہیا کی گئی جو عارضی کیمپوں کی صورت میں بناۓ گٸے تھے جن میں ڈوم شغور کیمپ،غون کیمپ،جوٹی لشٹ کیمپ،شیدی کیمپ،کیسو کیمپ کلکٹہک کیمپ اور آرندو کیمپ قابل ذکر ہیں ۔چترالی عوام نے بڑی فراخ دلی کے ساتھ ان کو خوش آمدید کہا اور ان کی ہر طرح کا خیال رکھا یہ لوگ بڑی آذادی کے ساتھ محنت مزدوری کیلے ضلع کے اندر کہیں بھی آتے جاتے اور چند سالوں میں مقامی آبادی کے ساتھ گل مل گٸے جس کی وجہ چترالی کلچر اور افعانستانی کلچر کا باہمی دوستی قائم ہو گیا ۔
وقت گزرتا گیا افعان مہاجرین کی پھر وطن واپسی ہوئی مہاجر کیمپ ختم کردیے گٸے اور پاکستان میں رہنے والے مہاجرین کیے افعان کارڈ متعارف کرایا گیا اور صرف افعان کارڈ رکھنے والوں کو رہنے کی اجازت مل گٸی اب پاکستانی حکومت افعان کارڈز رکھنے والے مہاجرین کو باعزت طریقے سے ان کے ملک کے مطالبے پر واپس کررہی ہے اور اس سلسلے میں ہزاروں خاندان واپس اہنے ملک پہنچ چکے ہیں اور چترال سے بھی سینکڑوں خاندان بخریت اپنے وطن پہنچ چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے اور افعان شہری اپنے ملک جانے پہ راضی ہیں ۔
چترال اور چترال میں بسنے والے افعان بھایٸوں کا رشتہ بہت مظبوط ہے تیس سالوں پر محیط یہ دوستی کاسفر اور پھر جداٸی کا عمل نہایت تکلیف دہ اور ناقابل برداشت ہے اس سفر میں چترال والوں کی فراخدلی اور بھائی چارہ تاریخ کے اوراق میں درخشندہ حروف میں ہمیشہ موجود رہے گی ۔چترال عوام اپنے افعان بھاٸیوں کو اپنے سگے بھاٸیوں سے کھبی کم نہ سمجھا خوشی اور غم دونوں لمحےمل کر نبھاۓ اپنے ساتھ کاروبار میں جگہ دی ہر طرح کا خیال رکھا یہ وہ ہمدردیاں تھیں جنہوں نے بھاٸی چارے اور ایثار کے وہ دٸے روشن کیے جو بھولنےسے قاصر ہیں ان لوگوں کے ساتھ بیتا گیا ہر پل ہمیں یاد ہے برخودار لنگر خان،زبیح،بسم اللہ خان ،سلیم جان، داود بخش،،منیر،فرید،وہاب،صبور،بہادر،داودجان،صالح ،زکریا،
قاری ،وغیرہ برخودارم ضیا،ظہور،میاں اور دوسرے شاگردوں کی تعبداری کو کون بھول سکتا ہے چترال اور چترال میں رہائشی افعان بھائیوں کا رشتہ بھولنے والی نہیں جو نسلوں تک یاد رکھی جاۓ گی۔۔اللہ آپ سب کا حامی وناصر۔۔۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO