سینیٹر طلحہ محمود کی بیان سےجے یو آئی کو پورے ملک میں بدنام کرنے کی سازش کی بو آرہی ہے۔جے یو آئی چترال
چترال (چترال ایکسپریس)جمعیت علمائے اسلام لوئر چترال کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہاگیا ہے کہ ہم جی یو آئی کی پلیٹ فارم سے سینیٹر طلحہ محمود کے حالیہ انٹرویو میں انکشاف کئے گئے بے بنیاد اور مضحکہ خیز دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ سینٹ کی پانچ نشستیں مختلف سیاسی پارٹیوں کو دلوا چکے ہیں جس میں جمعیت علمائے اسلام کے نام پر دو نشستوں کا ذگر بھی ان کی جانب سے کیا گیا۔ یہ الزام سراسر بے بنیاد اور بے سروپا معلومات پر مبنی ہے۔ اس سے جمعیت علمائے اسلام جیسی سیاسی قوت کو پورے ملک میں بدنام کرنے کی سازش کی بو آرہی ہے۔
عوام کے لئے طلحہ محمود صاحب کا یہ بیان انتہائی حیرانی کا موجب ہے کہ مولانا فضل الرحمن جیسے سیاسی و مذہبی لیڈر کی قیادت کے ہوتے ہوئے اور ایک بہترین وژن رکھتے ہوئے کیا جمعیت علمائے اسلام اتنا کمزور ہوگیا ہے کہ اسے این جی اوز چلانے والے افراد تحفے میں سینٹ کی سیٹ عنایت کریں۔ یہ دعوی اس صدی کا سب سے بڑا لطیفہ ہوسکتا ہے مگر کوئی عقل تسلیم کرنے والی بات ہر گز نہیں۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہےالبتہ ہم اس بیان کی نہایت باریک بینی سے تجزیہ کررہے ہیں کہ اس طرح جمعیت علمائے اسلام کو بدنام کرنے کے پیچھے اصل میں کون لوگ ہیں۔ انشاء اللہ جلد یا بدیر ہم اس سارے ڈرامے کا ڈراپ سین عام عوام کے سامنے رکھیں گے۔ البتہ عوام کو جمعیت کے پلیٹ فارم سے یہ بتانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ سینٹ کا الیکشن سینیٹر طلحہ محمود صاحب جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ سے لڑنا چاہتے تھے مگر جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی قیادت نے پیراشوٹر سے زیادہ کارکنوں کو اہمیت دی جس کی وجہ سے سینیٹر صاحب جے یو آئی کے ٹکٹ سے محروم ہوگئے۔ ٹکٹ نہ ملنے کا غصہ ایک فطری عمل ہے جو ہم سمجھ سکتے ہیں۔
اسی طرح ان کا یہ کہنا کہ مسلم لیگ کو بھی نشست انہوں نے دلوائی، اس کا جواب تو خود مسلم لیگ ہی بہتر طور پر دے سکتی ہے، تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دعویٰ نہ صرف حقیقت کے منافی بلکہ انتہائی مضحکہ خیز بھی ہے۔ اگر ان کے پاس واقعی اتنا اثر و رسوخ ہوتا تو کیپٹن صفدر ان کی موجودگی میں عوامی اجتماع کے دوران ان کی سیاسی حیثیت کا پردہ نہ چاک کرتے اور انہیں ان کی اصل اوقات یاد نہ دلاتے۔
جمعیت علمائے اسلام نہ صرف ان بے سروپا دعوؤں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے بلکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ ایک شخص جو خود سینیٹ کا امیدوار رہا ہو، انتخابات مکمل ہونے کے بعد کس طرح یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس نے پانچ نشستیں دلوانے میں کردار ادا کیا؟ یہ ہمارے اداروں اور ملکی آئین کا پوری دنیا کے سامنے مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
ہم طلحہ محمود سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی بے بنیاد باتوں پر فی الفور جماعتی قیادت اور کارکنان سے غیر مشروط معافی مانگیں، بصورتِ دیگر عوامی اور سیاسی سطح پر ان کا سخت محاسبہ کیا جائے گا۔
