
ٹی ایچ کیو ہسپتال بونی اپر چترال کو نجی تحویل میں دینا عوام سے صحت کی بنیادی سہولیات چھیننے کے مترادف ہے، جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ آل پارٹیز اجلاس کا متفقہ فیصلہ
اپرچترال (ذاکرمحمدزخمی)تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بونی کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نجی تحویل میں دینے کی خبر پر اپر چترال کے عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور یہ معاملہ ہر جگہ زیرِ بحث ہے۔ اسی سلسلے میں جماعتِ اسلامی اپر چترال کی کال پر آج بونی میں نمازِ جمعہ کے بعد آل پارٹیز اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں جماعتِ اسلامی اپر چترال کے امیر اسد الرحمٰن، سابق امیر مولانا جاوید حسین، جمیعت علماء اسلام اپر چترال کے امیر و سابق تحصیل ناظم مولانا محمد یوسف، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر شاہ وزیر لال، پاکستان مسلم لیگ ن کے جنرل سیکریٹری پرنس سلطان الملک، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و ویلیج چیرمین بونی 2 مظہر الدین، تحریک انصاف کے رہنما و ویلیج کونسل کوشٹ کے چیرمین ارشاد احمد، سابق ایم ایس ڈاکٹر شاہ نادر اور دیگر نے شرکت کی۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید کوثر علی شاہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے ان کی رائے لی گئی۔اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ ایک نکاتی ایجنڈے کے تحت شرکائے اجلاس نے شدید تحفظات اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلع اپر چترال کے واحد ہسپتال کو نجی تحویل میں دینے کی تجویز علاقے کے غریب عوام سے صحت کی سہولیات چھیننے کے مترادف ہے، جو کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں۔شرکائے اجلاس نے کہا کہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ضلع کے واحد ہسپتال کو جدید آلات سے آراستہ کر کے مزید طبی عملہ تعینات کیا جائے تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ لیکن صوبائی حکومت ایک پسماندہ ضلع کے واحد ہسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دے کر عوام سے سہولتیں چھین رہی ہے، جسے عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی (جو اپر چترال کی نمائندہ ایم پی اے بھی ہیں) اس حساس معاملے پر عوام کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی فیصلہ نہ کریں۔ اگر عوامی رائے کو نظرانداز کر کے یک طرفہ فیصلہ کیا گیا تو عوام بھرپور مزاحمت کریں گے۔
اس سلسلے میں وی سی بونی 2 کے چیرمین مظہر الدین کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ ڈپٹی اسپیکر سے رابطہ کرکے آل پارٹیز سطح پر نشست کے لیے وقت لیں تاکہ باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔
